ڈھاکا (اے ایف پی)بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ سال ہونے والی بغاوت کے دوران لوٹے گئے آتشیں ہتھیاروں کی واپسی پر بھاری نقد انعامات دے گی۔یہ اقدام آئندہ عام انتخابات سے قبل ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 ہزار ہتھیار — جن میں مشین گنیں، رائفلیں اور پستول شامل ہیں — اگست 2024 کی خونریز شورش کے دوران پولیس کے اسلحہ خانوں سے لوٹ لیے گئے تھے۔یہی بغاوت سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنی تھی۔
پولیس کے ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین نے بتایا کہ اب تک 1300 سے زائد ہتھیار تاحال لاپتا ہیں۔ پولیس نے ان ہتھیاروں کی واپسی پر انعامی رقوم کی تفصیل جاری کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اسلحہ واپس جمع کرائیں۔
“ان کے مطابق”
ایک لائٹ مشین گن واپس کرنے پر 4000 امریکی ڈالر سے زائد،ایک اسالٹ رائفل پر 800 ڈالر،اور شاٹ گن یا پستول پر 400 ڈالر انعام دیا جائے گا۔گولا بارود کی واپسی پر بھی نقد رقم دی جائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ “پولیس مکمل رازداری کی ضمانت دیتی ہے اور کوئی بھی شہری بغیر کسی قانونی کارروائی کے ہتھیار واپس کر سکتا ہے۔”
واضح رہے کہ بنگلہ دیش شیخ حسینہ کے جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد سے سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں فروری 2026 میں متوقع انتخابات سے قبل اقتدار کے حصول کیلئےسرگرم ہیں، جب کہ امن و امان کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح قرار دی جا رہی ہے۔

