پاکستان میں حکومتیں ووٹ والی ہوں یا وردی والی اپنے سادہ لوح عوام کو انہوں نے تعلیم سے دور رکھا ہے،جیسے ہی ان حکومتوں پہ کوئی مشکل وقت آنے لگتا ہے یہ عوام کو سب ہرا ہرا، کوئی پھولوں، پھلوں کے باغ جیسا خواب دکھاتی ہیں، لیکن درحقیقت وہاں پھول نہیں ہوتے، کوئی پھل نہیں ہوتے،بلکہ صرف خار ہی خار ہوتے ہیں۔ایسا ہی ایک خواب پنجاب حکومت نے عوام کو دکھانے کی کوشش شروع کر دی، اس خواب کی بنیاد ڈپٹی کمشنر لاہور کے ذریعے رکھوائی گئی اور پھر ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر میں ہونے والے اعلی سطحی اجلاس نے پنجاب میں ایک ”محفوظ بسنت“ منانے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ فیصلہ سنتے ہی ایسے لگا جیسے بو کاٹا، بوکاٹا، بوکاٹا کی آوازیں بلند ہونے لگی ہوں اور پھر ایک نعرہ بلند ہو گا، ایک اور گردن کٹ گئی۔ گردنیں تو کٹ رہی ہیں اور کٹتی رہیں گی، لیکن اس کا جواز کیاہے، کون پیش کرے گا۔ سو سال کیا ہزار سال کے بعد بھی پاکستان کی تاریخ لکھنے والا کوئی بھی مورخ سڑک پر دھاتی ڈور سے کٹنے والی گردنوں اور دھاتی ڈور سے کرنٹ لگ کر ہلاک ہونے والوں کی موت کا جواز پیش نہیں کر سکے گا۔یہ حکومتوں کی لاپرواہی، غفلت اور قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے نتیجے میں جانے والی جانیں ہیں۔ یہ ”خونی کھیل“کل بھی غلط تھا آج بھی غلط ہے۔ان جانوں کو بچانے کے لئے حکومتوں کو جو کچھ کرنا چاہئے تھا وہ نہ انہوں نے پہلے کیا نہ اب کرنے کو تیار ہیں،بلکہ ماضی کی غلطیاں پھر دہرانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔
گزشتہ صدی کی آخری دہائی اور موجودہ صدی کے پہلے پانچ برسوں میں اس خونی کھیل نے اتنی جانیں لیں، اتنی گردنیں کٹیں، اتنے بچے مارے گئے کہ پوری قوم چیخ اٹھی کہ خدا کے لئے ہمارے بچوں کو بچاؤ اگر کوئی کرکٹر کرکٹ میچ کے دوران گراؤنڈ میں تیز باؤلر کی گیند سر پر لگنے سے مر جائے تو اس کا جواز پیش کیا جاسکتا ہے کہ کرکٹ ایک بین الاقوامی کھیل ہے، لیکن اگر ایک موٹر سائیکل سوار گھر جاتے ہوئے سڑک پر تیز دھار شیشہ لگی ڈور، دھاتی ڈور یا پلاسٹک کی موٹی ڈور اپنی گردن پر پھرنے سے شہ رگ کٹ کر سڑک پر گر کر مر جائے تو اس کا حساب کون دے گا؟ کیونکہ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ پتنگ کون اُڑا رہا تھا،یہ ڈور کس کے گھر سے آئی اور یہ کس کی چھت تھی جہاں سے یہ ”موت اپنے سفر“ پر نکلی۔ گزشتہ صدی میں پتنگ بازی کا سارا زور اندرون شہر کی چھتوں پر ہوتا تھا۔ پھر بسنت شہر کے باقی حصوں تک پہنچی۔ صدی کے آخری پانچ برسوں میں بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اس کھیل کے اندر ”گلیمر شامل“ کر دیا۔
پہلے لاہور کے بڑے ہوٹلوں کی چھتوں اور پلازوں کی چھتوں پر پتنگ بازی کا میلہ سجنے لگا۔ پھر غیر ملکی لاہور آنا شروع ہو گئے۔ زر مبادلہ کی آمد کے نام پر بسنت کو بڑھاوا ملا، لیکن اندرون شہر والا مزہ ہوٹلوں اور پلازوں کی چھتوں پر نہیں ملا۔ لہٰذا اندرون شہر کی چھتیں کرائے پر حاصل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے تو گرلز کالج چونا منڈی کی چھت اور گراؤنڈ کو بھی بسنت کے لئے کرائے پہ حاصل کیا۔اندرون شہر بڑی چھتیں 10سے 20لاکھ تک کے کرائے پر اٹھائی گئیں۔
مہمانوں کے لئے درجنوں اقسام کے کھانے پکنے لگے۔”رنگ رنگیلی بوتلوں“ میں محفل گرمانے اور جھومنے پر مجبور کرنے کا بھی پورا بندوبست ہونے لگا۔ کھیل مہنگا ہوا تو دھاتی ڈور، انتہائی تیز شیشے والی ڈور اور پلاسٹک کی موٹی ڈور متعارف ہوئیں، جس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ڈور پتنگیں مہنگی ہو جانے سے لوٹنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی اور پھر چھتوں سے گر کر، گاڑیوں کے آگے آکر، پتنگ لوٹنے کے چکر میں دھاتی ڈور ہاتھ میں لینے پر بجلی کا جھٹکا لگنے سے مرنے والوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی۔موت سستی ہو گئی اور پتنگیں مہنگی ہو گئیں۔
لاہور میں ہر سال صرف بسنت ڈے اور بسنت نائٹ پر درجن دو درجن لوگوں کی موت معمول بن گئی۔ پتنگ بازی کا یہ سلسلہ پھر پورے سال چلنے لگا۔ کسی بھی سڑک پر اپنے گھر جاتے لوگوں کا اچانک ڈور پھرنے سے مر جانا معمول بن گیا۔لاہور میں ایک باپ اپنے چھوٹے بچے کو موٹر سائیکل پر لیکر جا رہا تھا کہ ڈور بچے کی گردن پر پھری اور پھر باپ کے ہاتھ میں اس کے بچے کی کٹی ہوئی گردن اور جسم پہ خون ہی خون تھا۔یہ سارے واقعات اتنے دِل تڑپانے والے تھے کہ عوام سڑکوں پر آگئے، شور مچا اور بسنت پر پابندی کا مطالبہ بڑھتا گیا۔
2007ء میں بالآخر ڈور، پتنگ اور پتنگ بازی پر مکمل پابندی لگ گئی، مگر پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود پتنگ بازی جاری ہے۔ سال 2023ء میں 24فروری کو راولپنڈی میں بسنت منائی گئی 20سالہ ارحم اور سات سالہ ہانیہ سر میں گولی لگ کر مرے 14سالہ کمیل علی دھاتی ڈور سے کرنٹ لگ کر مرا 50 نوجوان زخمی بھی ہوئے۔ 18اکتوبر 2025ء یعنی ایک ہفتہ پہلے راولپنڈی میں ایک نوجوان پتنگ کے چکر میں چھت سے گر کر ہلاک ہوا۔مارچ 2024ء میں فیصل آباد میں ڈجکوٹ روڈ پر خوبصورت نوجوان آصف اشفاق موٹر سائیکل چلاتے گردن پر ڈور پھرنے سے ہلاک ہوا۔ فروری 2017ء میں دو نوجوان موٹر سائیکل سوار ڈور پھرنے سے جاں بحق ہوئے۔
موت کا یہ کھیل جاری ہے، جس دن لاہور میں محفوظ بسنت کا اعلان ہوا اس سے اگلے ہی دن، یعنی 22اکتوبر کو لاہور میں مزنگ کا رہائشی 21سالہ نعمان یوسف نوانکوٹ میں پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے سے مر گیا۔اسی دن کالا شاہ کاکو میں بھی ایک نوجوان علی رضا ڈور پھرنے سے زخمی ہوا۔ اگر اس سب کے باوجود حکومت یہ سمجھتی ہے کہ وہ ایک محفوظ بسنت منا سکتی ہے تو ایک بار پھر عوام کی جانوں کی قربانی لے کر دیکھ لے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف اندرون شہر میں بسنت ہو اور ان دو دنوں میں لاہور کی سڑکوں پر موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہو۔ کچھ لوگوں کے پتنگ اڑانے کے لئے آپ لاہور کی سڑکوں پر موٹر سائیکل سواروں کو آنے سے کیسے روک سکتے ہیں۔اُمید ہے کہ مریم نواز صاحبہ اس شہر میں بسنے والوں پر رحم فرمائیں گی اور بسنت کی اجازت دینے سے گریز فرمائیں گی۔

