”بچوں سے دوستی سب رشتوں سے پہلے ہے“ — انور مقصود

کراچی(بیورورپورٹ)پاکستان کے معروف مصنف، مزاح نگار اور دانشور انور مقصود نے کہا ہے کہ اُن کا اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے انتہائی دوستانہ رشتہ ہے، اور وہ انہیں اُن کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بچوں سے دوستی تمام رشتوں سے بالاتر ہے۔

یہ گفتگو انہوں نے حال ہی میں اداکار گوہر رشید کے پروگرام میں شرکت کے دوران کی، جہاں انور مقصود نے مختلف سماجی، ادبی اور نجی موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

تنقید پر بات کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا”جو لوگ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، وہ اکثر خود کمزور اور ڈرپوک ہوتے ہیں۔ جو کام وہ خود نہیں کر سکتے اُسے کسی دوسرے کے ذریعے ہوتا دیکھنا برداشت نہیں ہوتا۔”ان کے مطابق اگر تنقید ماہر اور باصلاحیت فرد کی طرف سے ہو تو اُس کا وزن ہوتا ہے بصورتِ دیگر وہ حسد کے زمرے میں آتی ہے۔

تعریف پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ”آج کل بعض لوگ مشاعروں میں صرف چالیس خوشامدیوں کے ساتھ شرکت کرتے ہیں تاکہ مسلسل اُن کی تعریف کی جائے۔ لیکن یہ تعریف تنقید سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ خلوص سے خالی ہو۔”

اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ رشتے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انور مقصود نے مسکراتے ہوئے کہا”وہ مجھے ’انور‘ کہہ کر بلاتے ہیں، جب میں پوچھتا ہوں کہ مجھے نام سے کیوں بلاتے ہو، تو وہ کہتے ہیں کہ آپ بھی تو ہمیں نام سے پکارتے ہیں۔”

انہوں نے اس رویے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ دوستی ایک مضبوط اور مثبت رشتہ تشکیل دیتی ہے، اور اسی میں حقیقی قربت پوشیدہ ہوتی ہے۔

معاشرتی مشاہدات پر بات کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ”پاکستان کے مرد بہت کمزور ہو چکے ہیں، اگر یقین نہ آئے تو دیواروں پر نظر ڈال لیں، وہاں صرف مردانہ طاقت کے اشتہارات نظر آتے ہیں۔ خواتین کی طاقت کا کہیں ذکر نہیں۔”

مردوں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ”مرد کو چاہیے کہ مرتے دم تک کام کرتا رہے کیونکہ وہ گھر کا محافظ ہوتا ہے، اور ایک محافظ اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔”انور مقصود کا یہ انٹرویو ان کے مخصوص شگفتہ انداز اور گہری بصیرت کا حسین امتزاج تھا، جس میں وہ ہنسی ہنسی میں زندگی کے سنجیدہ حقائق بیان کر گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں