بھارت:دو بھائیوں کی قدیم قبائلی رسم کے تحت ایک ہی خاتون سے شادی

شملہ(نامہ نگار+نیٹ‌نیوز)بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں ایک انوکھے اور قدیم رسم و رواج کو زندہ رکھتے ہوئے ہیٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں نے ایک ہی خاتون سے شادی کرلی۔ اس مشترکہ شادی کی تقریبات دو دن تک جاری رہیں اور ان میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو اپنی نوعیت کی پہلی سرعام تقریب تصور کی جا رہی ہے۔

بھارتی نشریاتی اداروں کے مطابق، یہ شادی ‘جودی دارا’ یا ‘جائجدا’ نامی رسم کے تحت عمل میں لائی گئی، جو ہیٹی قبیلے کی ہزاروں سال پرانی روایت ہے۔ اس رسم کے تحت خاندان کے دو یا زائد مرد بیک وقت ایک ہی خاتون سے شادی کرتے ہیں۔ ہماچل پردیش کے ریونیو قوانین اور ریاستی عدالتوں میں اس رسم کو قانونی و رسمی حیثیت حاصل ہے، چنانچہ ایسی شادیاں غیر قانونی نہیں سمجھی جاتیں۔

نئی نویلی دلہن سنیتا چوہان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے کسی دباؤ میں آ کر نہیں بلکہ اپنے قبیلے کی روایت کو زندہ رکھنے کیلئے دونوں بھائیوں سے شادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس روایت پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

دونوں بھائیوں میں سے ایک پردیپ ہماچل پردیش میں سرکاری ملازم ہیں، جب کہ دوسرا بھائی کپل بیرون ملک ملازمت کرتا ہے۔ دونوں نے مشترکہ طور پر شادی کو اپنے خاندان اور قبیلے کیلئےخوشی اور فخر کا لمحہ قرار دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کئی دہائیوں کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ایسی شادی کی تقریب کو سرعام منعقد کیا گیا۔ ماضی میں ایسی تقریبات عام طور پر خفیہ رکھی جاتی تھیں، کیونکہ انہیں فرسودہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اس بار علاقے بھر سے آئے افراد نے کھل کر شرکت کی اور روایتی رسومات کا مشاہدہ کیا۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت جیسے کثیرالثقافتی ملک میں آج بھی بعض قبائلی رسوم و رواج زندہ ہیں اور انہیں باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے۔ یہ شادی نہ صرف سماجی توجہ کا مرکز بنی بلکہ اس نے ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے کہ ثقافت اور جدیدیت کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں