بھارتی آبی جارحیت، سیلاب اور ہمارا رویہ!

سوچا تو بہت کچھ تھا اور تحریر کے لئے مواد اور موضوع بھی بہت ہیں،لیکن آج صبح کی خبروں نے کچھ پرانی یادیں تازہ کر دی ہیں اور یاد آیا کہ ہ بھی اس وقت سوچتے اور غور کرتے ہیں جب سر پر آ جائے۔ تازہ خبروں کے مطابق پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل بتا رہے تھے کہ راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بڑا ریلا گذرنے والا ے اور یہ اتنا بڑا ہے کہ1988ء میں جو سیلاب آیا اس کی نوعیت بھی آج جیسی تھی تاہم موجودہ سیلاب اس سے بھی زیادہ شدت کا ہے۔اس کی بڑی وجہ تو یہ ہے کہ یہ راوی جو گندہ نالہ بن چکا، بھارت کی طرف سے آنے والے پانی کے باعث دریا بن کر بپھر گیا ہے کہ بھارت نے پانی روکنے والی نہیں،پانی چھوڑنے والی آبی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، ہم نے تو اسے خبردار کر رکھا ہے کہ اگر سندھ طاس معاہدے کے برعکس بھارت نے ہمارے حصے کا پانی روکا تو یہ اعلانِ جنگ ہو گا، چنانچہ ایسی نوبت تو نہیں آئی،اِس سے پہلے ہی قدرتی آفت بارشوں اور سیلاب نے بُرا حال کر دیا ہے اور بھارت نے اسی صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور خود کو بچانے کے لئے چناب سے لے کر راوی اور ستلج میں بھی لاکھوں کیوسک کے حساب سے سیلابی پانی چھوڑ دیا ہاں! البتہ یہ دکھاوا ضرور کیا کہ ہمیں پیشگی اطلاع دی اور اس میں بھی چالاکی کا مظاہرہ کیا۔سندھ طاس معاہدوں کے تحت منتظمین کو اس ذریعے سے خبردار کرنے کی بجائے، اسلام آباد میں اپنے ہائی کمشنر کے ذریعے اطلاع دی۔انڈس واٹر ٹریٹی بورڈ سے رابطہ نہیں کیا کہ بقول بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل ہے ہمارا موقف سیدھا سادا ہے کہ یہ عالمی حمایت یافتہ معاہدہ ہے اور اس کو یکطرفہ طور پر معطل کیا جا سکتا نہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی باہمی اتفاقِ رائے کے بغیر کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے اس کی تائید عالمی ادارہ بھی کر چکا ہے۔

خیر بات تو لاکھوں کیوسک برساتی پانی کی آمدنی ہے،کہ اس مون سون میں اگر بارش پہلے سے زیادہ ہوئی تو سیلاب میں شدت بھی اسی حوالے سے ہو چکی ہے۔میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ جب سر پر آن پڑے تو ہم سوچتے اور متحرک ہوتے ہیں اور اب شدت بڑھ گئی ہے تو سول انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج بھی طلب کر لی گئی ہے۔یہ قدرتی آفت ہے اسے اسی حوالے سے دیکھنا، سوچنا اور بات کرنا چاہئے تھی لیکن ہمارے جذبات نہ معلوم کہاں سو گئے ہیں کہ جب خیبرپختونخوا متاثر تو اس پر طنزیہ حملے کسے جا رہے تھے اور کراچی، حیدر آباد ڈوبے تو وہاں بھی ہمدردی نہیں تنقید کا ہی سامنا تھا اور ہے۔اب شدت پنجاب میں ہوئی ہے تو چاروں صوبوں میں یکسانیت پیدا ہو گئی ہے۔یوں اب تو سبھی متاثر ہیں،کوئی کم، کوئی زیادہ اور کوئی اور زیادہ متاثرہوا اس لئے یہ موقع طنز و تشنیع کا نہیں،اخوت و اتفاق کا ہے کہ نقصان بہت زیادہ ہے، جبکہ اس قدرتی آفت سے نبرد آزما ہونے کے لئے تمام حاصل اسباب جھونک بھی دیئے گئے ہیں۔ سول اداروں کے ساتھ ساتھ رینجر اور فوج کے جوان بھی میدانِ عمل میں ہیں۔گلگت،بلتستان اور خیبرپختونخوا کے بعد ان کی ضرورت پنجاب میں بھی محسوس کی گئی اور وہ آ گئے ہیں۔

وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ(خصوصاً سندھ+ بلوچستان) کہہ رہے ہیں۔2022ء کے سیلاب میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، ابھی اسی کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حالیہ سیلاب نے آ لیا ہے اور یوں اور زیادہ نقصان ہو گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف تو بار بار دہرا رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی نظام کی گڑ بڑ میں پاکستان کا حصہ زیرو فیصد ہے لیکن متاثرین میں ہمارا ملک اول ہے، نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اکیلے ملک کے لئے اسے پورا کرنا ممکن ہی نہیں، اس لئے ذمہ دار ممالک کو تعاون کرنا چاہئے۔

میں نے پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارتی کے ڈائریکٹر جنرل کی طرف سے بتائی گئی اس خبر کا ذکر کیا کہ1988ء کے بعد لاہور۔ شاہدرہ تک اتنا بڑا سیلابی ریلا آیا ہے تاہم میری یاد داشت میں 1951ء کا سیلاب بھی محفوظ ہے،جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا، سندھ طاس معاہدہ نہیں تھا۔ راوی دریا کے طور پر بہتا اور گندہ نالہ نہیں بنا تھا، اس مون سون میں بھی بہت بارش ہوئی،حتیٰ کہ لاہور میں مسلسل16 گھنٹے کی بارش کا ریکارڈ بنا، اکبری دروازہ، چوک نواب صاحب، لال کھوہ اور موچی دروازہ کے بازاروں میں بھی کمر کمر تک پانی کھڑا ہو گیا، حالانکہ پرانے شہر میں ایسا کبھی نہیں ہوتا، کہ بارہ دروازوں اور تیرھویں موری کے اندر اب شہر ٹیلے پر واقع ہے اور یہاں پانی نہیں رُکتا۔قدرتی ڈھلان ہے اور برساتی پانی بھی نالیوں کے ذریعے فصیل کے ساتھ بنی بڑی ڈرین میں جا گرتا ہے تب بھی ایسا سیلاب آیا کہ راوی کے پانی نے شہر کا رخ کر لیا۔فاروق گنج، شاد باغ اور مصری شاہ کی گلیاں اور بازار سیلاب کے پانی سے بھر گئے، گھروں میں پانی داخل ہوا تو اک موریہ پل سے باہر بھی آ گیا اور آمدورفت کے لئے کشتیاں استعمال ہوئیں،اس کے بعد ہی حفاظتی بند بنائے گئے جو سندھ طاس معاہدے کے بعد متروک ہوئے۔ ختم ہو گئے اور دریا کے بیڈ میں آبادیوں کے علاوہ صنعتیں بھی قائم ہو گئیں جو اب بری طرح متاثر ہیں۔

اس بڑے سیلاب کی یادوں میں یہ بھی شامل ہے کہ لاہور کو دوسرے شہروں سے ملانے والی سڑکیں (جی ٹی،روڈ) (لاہور، شیخوپورہ روڈ) اور کئی سڑکیں۔ مختلف مقامات سے ٹوٹ گئیں اور سیلاب کے پانی نے نہر کی طرح راستے بنا لئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ میرے ننھیال(ملکو) شیخوپورہ گئی ہوئی تھیں،تب ٹیلیفون کا موجودہ نظام تو نہیں تھا،شدید برسات اور سیلاب کی وجہ سے جو خبریں موصول ہو رہی تھیں ان کی وجہ سے ہمارا گھرانہ پریشان تھا، چنانچہ جب سیلابی کیفیت ذرا بہتر ہوئی تو میرے والد صاحب نے مجھے ساتھ لیا اور والدہ کی خیریت دریافت کر کے ان کو واپس لانے کے لئے روانہ ہوئے۔یہ سفر بھی میرے لاشعور و شعور میں محفوظ ہے کہ لاہور سے شاہدرہ سے کچھ آگے تک بس کا سفر کیا اور پھر شیخوپورہ نہر تک ٹوٹی سڑکوں میں سے گذرتے ہوئے پیدل پہنچے۔ وہاں سے فاروق آباد تک بس مل گئی اور گاؤں پہنچنے کے لئے پانچ کوس کھیتوں میں کھڑے پانی میں گذرنا پڑا، تب ادھر ہی سے کچا راستہ جاتا تھا پہلے سفر گھوڑوں یا تانگوں پر ہوتا تھا، اس بار پانی گھٹنوں سے کمر تک تھا۔اب تو شیخوپورہ، فیصل آباد روڈ سے گاؤں تک پختہ سڑک ہے۔

عرض کا مقصد یہ تھا کہ1951ء بھی آفت کا سماں تھا اور اس کے بعد کئی انتظامات ہوئے تھے۔مجھے یقین ہے کہ یہ امتحان گذر گیا تو ہم حسب ِ سابق سب بھول کر پھر سے وہی کام کریں گے جن کی وجہ سے پانی کی رکاوٹ پیدا ہوتی اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔بہرحال توبہ کا مقام تو ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں