نئی دہلی (رائٹرز )بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی نئی خریداری کے آرڈرز روک دیے ہیں اور موجودہ سپلائرز کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے حکومت سے وضاحت کا انتظار کر رہی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بعض ریفائنریز خام تیل کی ضروریات اسپاٹ مارکیٹ سے پوری کر رہی ہیں جبکہ سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن (IOC) نے تیل کی خریداری کیلئے ٹینڈر جاری کیا ہے۔
ریلائنس انڈسٹریز نے روسنیفٹ سے تیل کی درآمد بند کر دی ہے اور نئی پابندیوں پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے، مگر موجودہ سپلائرز کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
امریکی، یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں 2 بڑے روسی تیل پیدا کنندگان لُک آئل (Lukoil) اور روسنیفٹ (Rosneft) کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بھارتی ریفائنریز نے پابندیوں کے شکار اداروں سے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں اور دیکھ رہی ہیں کہ غیر پابند تاجروں سے تیل حاصل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق، بھارت نے 2025 کے پہلے 9 مہینوں میں روزانہ تقریباً 19 لاکھ بیرل روسی تیل خریدا، جو روس کی کل برآمدات کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔
اپریل سے ستمبر کے درمیان بھارت کی روسی تیل کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.4 فیصد کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں بھارتی ریفائنریز نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکا سے مزید تیل خریدنے کی کوشش کی ہے۔
بھارتی ریفائنریز کی جانب سے روسی تیل کی نئی خریداری معطل کرنا اور حکومت کی وضاحت کا انتظار کرنا عالمی توانائی منڈی میں اہم موڑ ہے، جو بھارت کے تجارتی اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

