بھارتی پارلیمنٹ میں وندے ماترم پر 10 گھنٹے بحث پر وشال دادلانی کی شدید تنقید

نئی دہلی (بھارتی میڈیا)بالی ووڈ کے معروف موسیقار و گلوکار وشال دادلانی نے بھارتی پارلیمنٹ میں ’وندے ماترم‘ پر ہونے والی 10 گھنٹے طویل بحث کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بھارتی لوک سبھا میں 8 دسمبر کو ’وندے ماترم‘ کے موضوع پر ہونے والی طویل بحث پر ردِعمل دیتے ہوئے گلوکار نے سوشل میڈیا پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید اس بحث کی وجہ سے بھارت میں بے روزگاری ختم ہو گئی، انڈیگو ایئرلائن کے مسائل حل ہو گئے اور فضائی آلودگی بھی ٹھیک ہو گئی۔

وشال دادلانی نے حکومت پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پارلیمنٹ کا قیمتی وقت عوامی مسائل کے بجائے علامتی موضوعات پر ضائع کرنا مناسب ہے؟

گلوکار کے مطابق 10 گھنٹے ایک گیت پر بحث کی گئی، جبکہ پارلیمنٹ کے ایک منٹ کا خرچ عوام کے ٹیکسوں سے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے بنتا ہے، اس حساب سے 600 منٹ کے اس سیشن پر بھاری رقم صرف ایک لاحاصل بحث میں ضائع کر دی گئی۔وشال دادلانی کا کہنا تھا کہ اصل مسائل جوں کے توں موجود ہیں، مگر ایوان میں وقت اور وسائل غیر ضروری مباحث پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔