نیویارک (بیورورپورٹ)اقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک میں پاکستان کے مستقل سفارتی مشن نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منتخب رکن ممالک سے اہم سفارتی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پھیلائے گئے بے بنیاد پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک، یونان، پاناما، صومالیہ، الجزائر، گیانا، جاپان، جنوبی کوریا، سیرا لیون اور سلووینیا کے مستقل نمائندوں سے ملاقات کے دوران پاکستان کا مؤقف واضح اور مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ”پاکستان پر بغیر کسی تحقیق یا شواہد کے الزامات عائد کرنا نہ صرف ناقابلِ قبول ہے بلکہ خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش ہے۔”انہوں نے بھارت کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی جیسے اقدامات کو خطے کے امن، استحکام اور ماحولیاتی توازن کیلئے شدید خطرہ قرار دیا۔

وفد میں شامل سینیٹرز اور سابق وزراء شیری رحمٰن، حنا ربانی کھر، مصدق ملک اور دیگر سینئر رہنماؤں نے بھی اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی سے پاکستان میں پانی کی قلت، ممکنہ غذائی بحران اور ماحولیاتی تباہی جنم لے سکتی ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ“جنوبی ایشیا میں صرف تنازع کے بعد مداخلت اور حل تلاش کرنے کی بجائے اقوام متحدہ کو پیشگی اقدامات کے ذریعے پائیدار امن کیلئے راہ ہموار کرنی چاہیے۔”
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ”پاکستان کا ردعمل بھارتی جارحیت کے مقابلے میں نپا تُلا، ذمہ دارانہ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق تھا۔ ہم امن کے داعی ہیں لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”
ان ملاقاتوں کے اختتام پر سلامتی کونسل کے منتخب رکن ممالک نے پاکستانی وفد کی سفارتی کوششوں، تحمل اور امن کے عزم کو سراہا اور خطے میں قیامِ امن کیلئےپاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا۔

