بھارتی پنڈت انیرودھ آچاریہ کے خواتین مخالف بیان پر قانونی کارروائی شروع

نئی دہلی( بھارتی میڈیا)بھارت میں ہندو پنڈت انیرودھ آچاریہ کے خلاف خواتین سے متعلق مبینہ توہین آمیز remarks پر قانونی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل انڈیا ہندو مہاسبھا آگرہ کی ضلعی صدر میرا راٹھور کی جانب سے دائر شکایت پر عدالت نے سماعت کے لیے مقدمہ منظور کرتے ہوئے تاریخ یکم جنوری مقرر کر دی ہے۔

چند ماہ قبل انیرودھ آچاریہ نے نوجوان لڑکیوں اور شادی سے متعلق متنازع اور توہین آمیز تبصرے کیے تھے، جن پر سوشل میڈیا اور خواتین کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔

میرا راٹھور نے ان بیانات پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسے الفاظ بھارتی روایات کے منافی ہیں۔ انہوں نے پولیس میں شکایت درج کروانے کے باوجود ایف آئی آر نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ خاتون سیاستدان نے پنڈت آچاریہ کی گرفتاری اور ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

میرا راٹھور کے وکیل کے مطابق وِرنداون کوتوالی پولیس نے پہلی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی، جس کے بعد عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔

دوسری جانب، شدید ردِعمل کے بعد انیرودھ آچاریہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے، وائرل کلپ مکمل تقریر کا حصہ نہیں تھا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا تاثر ان کے اصل مقصد سے مختلف ہے۔