لشکرِ طیبہ کے حافظ سعید اور جیشِ محمد کےمسعود اظہر جیسے رہنماؤں کی حوالگی ممکن قرار:الجزیرہ کو خصوصی انٹرویو
اسلامآباد (نمائندہ خصوصی، الجزیرہ)پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان، اعتماد سازی کے اقدام کے طور پر، بھارتی تعاون کی صورت میں ’’مخصوص افراد‘‘ کو حوالے کرنے پر اعتراض نہیں رکھتا۔
بلاول بھٹو زرداری نے قطر کے نشریاتی ادارے ’’الجزیرہ‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان‑بھارت جامع مذاکرات ہوں اور دہشت گردی پر بات ہو تو حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے افراد کی حوالگی پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مذکورہ افراد کے خلاف ملک میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، مگر بھارتی عدم تعاون کے باعث پیش رفت مشکل ہے؛ بھارتی گواہوں کی عدم دستیابی اور شواہد کے تبادلے کا فقدان رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی (نیکٹا) نے لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے؛ حافظ سعید 33 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ حکومت کا خیال ہے کہ مسعود اظہر افغانستان میں روپوش ہیں۔ بلاول بھٹو نے زور دیا کہ بھارت ثبوت اور گواہ فراہم کرے تو پاکستانی عدالتوں میں کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے۔
پی پی پی چیئرمین نے بھارتی رویّے کو ’’نیا بیانیہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر دہشت گرد حملے کو پاکستان پر جنگ کا جواز بناتا ہے، جو دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے اپریل 2025 کے پہلگام حملے اور اس کے بعد چار روزہ جنگ کی مثال دی، جسے واشنگٹن کی مداخلت سے روکا گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر بھارت واقعی دہشت گردی کے خاتمے کا خواہاں ہے تو ثبوت فراہم کرے؛ پاکستان حوالگی سمیت ہر قانونی اقدام پر تیار ہے۔ ان کے بقول ’’صرف ’دہشت گرد‘ کا لیبل لگا کر ایک خودمختار ملک پر حملہ کرنا خطرناک نظیر ہے۔‘‘

