ڈیوس(نامہ نگار)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت بظاہر ایک بڑا ملک ہے، اس کے مالی وسائل اور فوج ہم سے کہیں زیادہ ہیں، اس کے باوجود عالمی جغرافیائی سیاست میں آج پاکستان موضوعِ بحث ہے جبکہ بھارت دنیا کے نقشے پر کہیں پیچھے ہٹتا دکھائی دے رہا ہے۔
ڈیوس میں صحافی ثاقب تنویر کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘، غزہ کی صورتحال، چین، امریکا، یورپ اور بھارت کی حالیہ سفارتی کارکردگی پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
بورڈ آف پیس سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس بورڈ کا حصہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے یہ نہایت اہم ہے کہ وہ ایسے فورمز پر موجود رہے جہاں اہم عالمی فیصلے ہو رہے ہوں تاکہ نہ صرف اپنا مؤقف پیش کیا جا سکے بلکہ بالخصوص فلسطینی عوام کا مؤقف بھی دنیا کے سامنے رکھا جا سکے، جن کے حقِ خودارادیت اور امن کی حمایت پاکستان اپنے قیام سے کرتا آ رہا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کا عمل مکمل ہو چکا ہے، تاہم اب پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو بورڈ آف پیس اور غزہ جنگ بندی رابطہ کاری میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دینا چاہیے کہ غزہ کے عوام کو بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
صدر ٹرمپ کی تقریر سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ امریکا کے یورپ یا دیگر ممالک سے تعلقات ان کا داخلی فیصلہ ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ کے بارے میں مثبت گفتگو خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور چین پاکستان اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے عوام کے لیے ایک تاریخی منصوبہ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ عالمی فورمز پر اکثر منفی پہلوؤں پر بات کی جاتی ہے، ایسے میں اگر کوئی امریکی صدر مثبت انداز اپناتا ہے تو اسے سراہا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سمیت دیگر ممالک کو بھی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم ان کا حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔
بھارت کی حالیہ سفارتی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بھارت، جو خود کو ایک بڑی طاقت، بڑی جمہوریت اور عالمی لیڈر کے طور پر پیش کرتا تھا، حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر خود کو بہت چھوٹا ثابت کرتا نظر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں عالمی بینک کے صدر سے سندھ طاس معاہدے پر بھی بات کی، جو پانی کے انتظام کا ایک مثالی معاہدہ ہے، مگر بھارت نے نہ صرف اس کی خلاف ورزی کی بلکہ اسے معطل رکھنے کا دعویٰ بھی کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کا رویہ، پاکستان آنے والے یا پاکستان سے روابط رکھنے والے غیر ملکی رہنماؤں پر تنقید، اور بھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے نہ صرف اس تنازع کے دوران بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم میں بھارت کی بڑی موجودگی کے باوجود عملی طور پر اس کا اثر نظر نہیں آتا، جبکہ حالیہ مہینوں میں اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر بھارت پس منظر میں جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشن پر ازسرِنو غور کرے، دیانت داری سے جائزہ لے اور پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے تمام تنازعات پر بات چیت کی سنجیدہ پیشکش کو قبول کرے تاکہ خطے میں امن اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

