بھارت میں فضائی سفر کا بحران، ہزاروں مسافر ایئرپورٹس پر پھنس گئے

نئی دہلی / ممبئی ( رائٹرز، انڈیاٹوڈے) بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن IndiGo نے ملک بھر میں تقریباً 500 (اور بعض رپورٹس کے مطابق ہزار سے زائد) پروازیں منسوخ کر دیں، جس کے باعث ہزاروں مسافر مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے ہیں۔

یہ فضائی خلل جمعے کو مسلسل چوتھے دن بھی جاری رہا۔ نئی دہلی سے روانگی کی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جب کہ ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہروں میں بھی پروازیں متاثر ہوئیں۔

بحران کے سبب بھارتی حکومت نے انڈیگو کے لیے خصوصی ریلیف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی ایوی ایشن ریگولیٹر DGCA نے انڈیگو کو عارضی طور پر نئے پائلٹ ڈیوٹی قوانین سے استثنیٰ دے دیا ہے تاکہ ایئرلائن آپریشن بحال کر سکے۔

مسافروں کے مطابق ائیرپورٹس پر بھگدڑ مچی رہی، کئی افراد شدید مشکلات اور زبردست تاخیر کا سامنا کر رہے تھے، جب کہ سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز و تصاویر وائرل ہوئیں جن میں غصہ اور احتجاج نظر آیا۔

“پسِ منظر: کیوں ہوا بحران؟”
نومبر 2025 میں DGCA نے نیا ڈیوٹی ٹائم رولز (Flight Duty Time Limitations — FDTL) متعارف کروایا، جس کے تحت پائلٹس کے لیے ہفتے کے آرام کے اوقات اور رات کی پروازوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔

نئی ضوابط میں رات کے وقت لینڈنگ کی حد، ہفتہ وار آرام کی مدت، اور پائلٹ ڈیوٹی کے ساعات محدود کیے گئے تھے۔ انڈیگو نے اس تبدیلی کے لیے مناسب طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا؛ نئے قواعد کے لیے فلائٹ کریو اور پائلٹس کی تعداد بروقت پورا نہ کی گئی، جس نے آپریشنل منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا۔

“موجودہ صورتحال اور آئندہ امکانات”
ڈی جی سی اے نے انڈیگو کو عبوری رعایت دی ہے تاکہ وہ اپنا شیڈول بحال کرے اور فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع ہو سکے۔ مگر ایوی ایشن ماہرین اور مسافر نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ بحران بھارتی فضائی سفر کا ایک بڑا دھچکا ہے، خاص طور پر جب موسمِ سرما شروع ہونے اور تعطیلات کے پیشِ نظر سفر میں اضافے کی توقع ہے۔

پائلٹ ایسوسی ایشن اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف قواعد میں تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، انڈیگو سمیت تمام ایئرلائنز کوcrew strength (پائلٹس و عملہ) بڑھانے اور بہتر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔