بھارت: نریندر مودی کو بہار میں مشکل ریاستی انتخابات کا سامنا

نئی دہلی( رائٹرز) – بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قومی اتحاد کو اگلے ماہ ریاست بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہے، جہاں نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ووٹر لسٹوں پر عدم اعتماد ان کے سیاسی اتحاد کیلئے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

مشرقی بھارت کی ریاست بہار، جو آبادی کے لحاظ سے ملک کی تیسری بڑی اور سب سے غریب ریاستوں میں شمار ہوتی ہے، میں نومبر کے انتخابات مودی حکومت کی مقبولیت کا بڑا امتحان تصور کیے جا رہے ہیں۔ بے روزگاری، ہجرت اور ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں پر عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے، جب کہ خواتین ووٹرز انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، جو ماضی میں کبھی مودی کے ساتھ تو کبھی اپوزیشن کے ساتھ اتحاد کرتے رہے ہیں، اس وقت نریندر مودی کے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے اہم اتحادی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس ریاست میں این ڈی اے کے اندر اختلافات پیدا ہوئے تو مودی کے قومی اتحاد کو ملک گیر سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اسلئے کہ چند ماہ بعد آسام، مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں بھی انتخابات ہونے ہیں۔

سروے ایجنسی ’’ووٹ وائب‘‘ کے مطابق 8 اکتوبر تک این ڈی اے کو اپوزیشن اتحاد (راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس پارٹی) پر محض 1.6 فیصد پوائنٹس کی معمولی برتری حاصل تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انتخابی مقابلہ نہایت کانٹے دار ہو گا۔

این ڈی اے نے حال ہی میں ایک خود روزگاری سبسڈی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت ایک کروڑ 21 لاکھ خواتین کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہی پروگرام خواتین ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

پٹنہ کی سماجی کارکن نویدیتا جھا نے کہا کہ ’’مرد عام طور پر روزگار کی تلاش میں بہار سے باہر چلے جاتے ہیں، اس لیے گھروں میں خواتین فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق ’’خواتین اپوزیشن کے وعدوں کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہی ہیں کیونکہ وہ مالی طور پر خودمختاری چاہتی ہیں۔‘‘

ریاستی ووٹر لسٹوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات نے بھی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ 85 سالہ جتنی دیوی نے رائٹرز کو بتایا کہ ’’میرا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے، مجھے مردہ قرار دے دیا گیا، اب میں نہ ووٹ ڈال سکتی ہوں اور نہ پنشن وصول کر سکتی ہوں۔‘‘

نوجوان ووٹرز کیلئےروزگار کا مسئلہ سب سے بڑا انتخابی ایشو ہے۔ اگرچہ بے روزگاری کی شرح 2018 میں 30.9 فیصد سے کم ہو کر 2023 میں 9.9 فیصد رہ گئی ہے، تاہم نوجوانوں میں عدم اطمینان اب بھی موجود ہے۔

نئے سیاسی رہنما پرشانت کشور، جو ماضی میں مودی کے انتخابی مشیر رہے ہیں، نے ’’جن سوراج‘‘ کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی ہے۔ ان کے پارٹی صدر اُدے سنگھ نے کہا کہ ’’بے روزگاری، ہجرت اور زرعی آمدنی میں کمی بہار کے اصل مسائل ہیں، اور یہاں مودی کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘‘

اپوزیشن اتحاد نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آیا تو ہر خاندان کو کم از کم ایک سرکاری نوکری دینے کا قانون لائے گا۔ تاہم بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان گرو پرکاش پاسوان کا کہنا ہے کہ ’’این ڈی اے اتحاد مضبوط پوزیشن میں ہے اور عوام وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘

ریاستی اسمبلی کی 243 نشستوں کیلئےووٹنگ 6 اور 11 نومبر کو ہوگی، جبکہ نتائج 14 نومبر کو جاری کیے جائیں گے۔ یہ انتخابات نریندر مودی کے سیاسی مستقبل کیلئےنہایت اہم سمجھے جا رہے ہیں، کیونکہ بہار کے نتائج ملک کی آئندہ انتخابی سیاست کی سمت متعین کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں