واشنگٹن( رائٹرز + اے ایف پی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے پر بھارت سے درآمدات پر موجودہ 25 فیصد ٹیرف کو اگلے 24 گھنٹوں میں نمایاں طور پر بڑھا دیا جائے گا۔
ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ”بھارت ایک اچھا تجارتی پارٹنر نہیں رہا، وہ ہم سے بہت زیادہ تجارت کرتے ہیں، لیکن ہم ان سے نہیں۔ اس لیے ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ”بھارت روسی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہا ہے، اور اگر وہ ایسا کرتے رہے تو میں خوش نہیں ہوں گا۔”
صدر ٹرمپ نے نئی ٹیرف شرح کا اعلان تو نہیں کیا، لیکن یہ عندیہ دیا کہ اضافہ “نمایاں” ہوگا۔یاد رہے کہ بھارت پر پہلے ہی 25٪ ٹیرف عائد ہے۔ویتنام پر 20٪،انڈونیشیا پر 19٪،جاپان اور یورپی یونین پر 15٪ٹیرف عائد کیاگیا ہے.
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر اسے اوپن مارکیٹ میں منافع کے ساتھ بیچ رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا”مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں کتنے لوگ مارے جا رہے ہیں، لیکن روسی تیل کی خرید و فروخت پر بھارت کو نہیں چھوڑوں گا۔”
بھارتی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے بیانات کو “غیر منصفانہ اور غیر معقول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے روس سے تیل امریکی اور یورپی دباؤ پر خریدا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں استحکام رہے۔بھارت کے خلاف تنقید کرنے والے خود بھی روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ”امریکا اب بھی روس سے اپنی جوہری صنعت کے لیے یورینیم، اور گاڑیوں کے لیے پیلیڈیم درآمد کرتا ہے۔”بھارت، دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اور اس وقت روس کا سب سے بڑا سمندری خام تیل خریدار ہے۔یہی خریداری روس کیلئےیوکرین جنگ میں آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔
اسی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت پاکستان پر عائد ٹیرف 29٪ سے کم کر کے 19٪ کر دیے گئے ہیں۔نئے ٹیرف کا اطلاق 7 اگست سے ہوگا۔

