واشنگٹن/نیویارک (نمائندہ خصوصی+ایجنسیاں) —سابق امریکی صدر اور ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت پر اقتصادی دباؤ بڑھاتے ہوئے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر “ٹیرف میں نمایاں اضافہ” کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
“بھارت روسی تیل نہ صرف خرید رہا ہے بلکہ اوپن مارکیٹ میں فروخت بھی کر رہا ہے۔” — ڈونلڈ ٹرمپ
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر اپنی ایک پوسٹ میں الزام عائد کیا کہ بھارت روس سے بڑی مقدار میں تیل خرید کر عالمی مارکیٹ میں مہنگے داموں بیچ رہا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے بھارت پر سخت معاشی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا”مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ یوکرین میں کتنے لوگ روسی جنگ کی وجہ سے مارے جا رہے ہیں۔”یہ بیان امریکی پالیسی سے ہٹ کر ہے، جہاں موجودہ صدر جو بائیڈن یوکرین کی حمایت میں مسلسل کھڑے ہیں۔
ٹرمپ نے 30 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ یکم اگست سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ، روس سے فوجی ساز و سامان اور توانائی کی خریداری پر بھارت پر جرمانہ بھی عائد کیا جا چکا ہے۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، اور امریکا کو تجارتی نقصان ہو رہا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت امریکی دھمکیوں کے باوجود روس سے تیل خریدتا رہے گا۔ذرائع نے بتایا کہ”روس ایک اہم توانائی شراکت دار ہے، اور بھارت کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ کھلا رکھنا ہوگا۔”
فی الحال بھارت کی جانب سے کوئی باضابطہ سفارتی یا تجارتی جواب سامنے نہیں آیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اس جارحانہ بیان کو 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے، جس میں وہ “امریکا فرسٹ” پالیسی کو دوبارہ سامنے لا رہے ہیں۔تاہم بھارت جیسے قریبی اتحادی ملک کے خلاف سخت معاشی اقدامات کی دھمکی سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

