پندرہ ماہ کی طویل فوجی عدالتی کارروائی کے بعد جنرل فیض حمید کو مجرم قرار دے دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کیخلاف چار الزام تھے جو ثابت ہو گئے اور ان کو چودہ سال قید بامشقت کی سزا دی گئی ہے۔ جنرل فیض حمید کا پی ٹی آئی کی سیاست میں اہم کردار رہا، عمران خان ان کو چیف آف آرمی سٹاف بنانا چاہتے تھے اس میں کامیاب نہ ہوئے اور ان کو آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا، پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایاکہ خود عمران خان مختلف الزامات کے تحت جیل میں ہیں اور ایک مقدمہ میں ان کو بھی سزا ہو چکی ہوئی ہے۔اگرچہ یہ خبر غیر متوقع نہیں تاہم حالات حاضرہ میں اس کی بڑی اہمیت ہے اور اب مزید سخت کارروائیوں کے شواہد میں ایک یہ بھی شامل ہو گئی ہے، اس پر بات کرنے کیلئےکچھ وقت درکار ہو گا۔اگرچہ الیکٹرونک میڈیا پہ سزا کی خبر کے ساتھ ہی طویل تبصرے اور تجزیئے شروع کر دیئے گئے ہیں، میں نے آج اپنا ذہن تحریک انصاف کے حوالے سے لکھنے کا بنایا ہوا تھا اس لئے اس سزا کی خبر کے بعد بھی اسی حوالے سے بات کرتے ہیں۔
اکثر تجزیہ کار حضرات کی رائے ہے کہ تحریک انصاف اپنے بارے میں خود واضح نہیں اور اس نے بیرون ملک سے سوشل میڈیا مہم کو ہی اپنی حکمت عملی بنایا اور شدت پسندی کی طرف مائل ہوئی۔اس سلسلے میں یہ بھی نہ سوچا گیا کہ طاقت کا توازن کس طرف ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ عوامی سطح پر ان کی جماعت اب بھی مقبول ترین جماعت ہے۔ تحریک انصاف والوں کا یہ دعویٰ مان بھی لیا جائے تو ابھی تک یہ جماعت اس حمایت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکی کہ ان کے احتجاج میں عوامی شرکت نہیں ہوتی جس کا ثبوت اڈیالہ جیل کے باہر اکٹھ ہے کہ توقع کے مطابق عوامی اجتماع نہیں ہوتا اور کارکن ہی تھوڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں اور وہ بھی اتنے ہی ثابت قدم نظر آئے کہ رات کو واٹر کینن سے منتشر کر دیئے گئے۔ میرے سمیت بہت سے سنجیدہ فکر حضرات کی خواہش تھی اور ہے کہ تحریک انصاف کی شکل میں جو تیسری سیاسی قوت ابھری اسے رہنا چاہیے کہ سابقہ دو جماعتی نظام سے متوقع فوائد نہیں مل سکے اور عوام اب بھی مہنگائی،بے روزگاری، تعلیم اور لاقانونیت جیسے مسائل سے دوچار ہیں،ایسے میں اگر تحریک انصاف سیاسی ردعمل اور حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتی تو آج اس کی یہ حالت نہ ہوتی کہ اسے خیبرپختونخوا کی حکومت کا آسرا ڈھونڈنا پڑتا۔
تحریک انصاف کے رہنما مانیں یا نہ مانیں، ان کے اپنے اندر بھی یہ سنجیدہ خیال طبقہ موجود ہے کہ محاذ آرائی کی موجودہ صورت حال نے نقصان پہنچایا ہے، اگرچہ انکے اختلاف کھل کر سامنے نہیں آتے اور مسلسل تردید بھی ہوتی ہے لیکن حقائق خود چیخ چیخ کر پکارتے ہیں کہ شدت پسندی اور امن کے راستے والے دو فریقوں کے درمیان خلیج بہت بڑی ہے جو صرف بانی جماعت عمران خان کے سحر کی وجہ سے کھل کر باہر نہیں آتی۔
اس دراڑ کا تازہ ترین ثبوت بیرسٹر گوہر خان اور ان کے ہمنوا سینئرانصاف ارکان کی نئی کوشش ہے۔ خبروں کے مطابق ان حضرات نے فیصلہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعتراضات سے بچنے کیلئے جماعت کے دستور کا از سر نو جائزہ لیکر قانون و قواعد کے مطابق ترامیم لا کر جماعتی آئین کو دوسری بڑی جماعتوں کے آئین کے برابر لایا جائے اور پھر نئے دستور کے تحت جلد از جلد انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں اور یہ اعتراض دور کر کے جماعت کی رجسٹریشن بحال کرا کے جماعت کا انتخابی نشان بھی واپس لیا جائے اس سلسلے میں ایک بڑی کمیٹی بھی بنائی گئی جو ماہرین پر ہی مشتمل ہے اور اسے کام کی تکمیل جلد کرنے کو کہا گیا ہے۔
قارئین! ذرا غور فرمائیں کہ عمران خان کو جیل سے نکالنے کے دعوے کے ساتھ اس شدت کی محاذ آرائی کی گئی کہ ریاست سے ٹکراؤ ہو گیا۔ عمران خان کی ہدایت پر تحریک کے رہنماؤں نے حکومت کی دعوت کے باوجود مذاکرات سے انکار کیا اور تحریک تحریک کھیلتے رہے جبکہ مقتدرہ کی طرف سے نہ صرف کوئی جواب نہ دیا گیا بلکہ یہ کہلوایا گیا کہ مذاکرات حکومت سے کریں۔ تحریک انصاف کے راہنما عمران خان کی ناراضی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں اس لئے انہوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا۔ اس سے برسراقتدار اتحاد کو فائدہ پہنچا اور اب دوسری طرف سے مذاکرات کی راہ بند کر دی گئی ہے۔ میرے خیال میں ہر دو فریقوں کا یہ رویہ سیاسی نہیں کہ سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے اب بھی اگر میز سج سکتی ہے تو ملکی مفاد کے لئے ایسا ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے بیرسٹر حضرات سے انہی کالموں میں عرض کیا تھا کہ اگر آپ موجودہ برسراقتدار حکومت کو آئینی نہیں مانتے تو ”ڈی جیورو“ تو تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ نہ صرف ایوانوں میں جاتے اور مراعات و الاؤنس وصول کرتے ہیں بلکہ عوامی نمائندگی کا استحقاق بھی طلب کرتے ہیں لیکن حکومت کو نہیں مانتے یہ خود ان کا اپنا تضاد ہے کہ راستے تو مذاکرات ہی سے نکلتے ہیں اور دعا ہے کہ اب بھی ایسا ہو سکے اگرچہ بات دور تک چلی گئی کہ برسراقتدار حضرات نے یہ موقف اختیار کرلیا ہے کہ تحریک انصاف کو بھی ایم کیو ایم (پاکستان) والا راستہ اختیار اور بانی سے راستہ الگ کرلینا چاہیے، جبکہ تحریک انصاف والوں کی مشکل یہ ہے کہ ان کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں (بقول خود) اور حمائت عمران خان کی ہے، ان کی اس دلیل میں وزن بھی ہو تو بھی عقل مندی اور سیاسی حکمت عملی سے دور ہے کہ عمران خان کی رہائی قانونی راستے سے ہی ممکن ہے کسی بھی تحریک کے ذریعے ان کو رہا نہیں کرایاجا سکتا البتہ نئی نئی اختراع اور مردے زندہ کرنا نئی بحث کو چھیڑنا ہے اس لئے شیخ مجیب الرحمن کا ذکر بھی موجودہ سیاسی صورت حال میں مناسب نہیں۔
تحریک انصاف کا رہائی گروہ اب بھی دیرینہ راستے پر مصر ہے اور اس کی طرف سے ایک قومی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کر دیا گیا، اس میں بھی کسی امن پسند کی رائے صائب نظر آئی کہ کانفرنس کا مقصد یک نکاتی ہے، اس کانفرنس میں یہ غور کیا جائے گا کہ حالیہ ڈیڈ لاک کی صورت کو ختم کرکے ڈائیلاگ کی راہ ہموار کرنے کی صورت پیدا کرنے پر غور ہوگا۔ ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف حضرت محمود اچکزئی اور ناصر عباس کی شکل میں دو رکنی بحالی آئین تحریک ہے جو محض اسلئےعمران خان سے ملنا چاہتے ہیں کہ کوئی بہتر صورت نکالی جا سکے، جبکہ سیکرٹری اطلاعات وقاص اکرم سب کو رد کرکے اپنی بات کو حرف آخر قرار دیتے ہیں۔
قارئین! معذرت خواہ ہوں کہ اس تفصیل کے بغیر گزارہ نہیں،بلاشبہ ملکی حالات اب بھی کچھ خوشگوار نہیں لیکن حکمران اتحاد کا اصلی ایک پیچ کام کررہا ہے۔اس کے باوجود اندرونی استحکام کے لئے اندرونی تلخیاں ختم کرنا لازم ہے اور بیرسٹر گوہر خان اور ان کے ساتھیوں کا راستہ درست ہے جو دیر سے اختیار کیا گیا حالانکہ ایسا ابتداء میں کرلیا جاتا ہے جو ”آزاد“ ممبر نہ ہوتے۔ بہرحال دیر آید درست آید، یہ بہتر حکمت عملی ہے اور اس سے راہ بھی نکل سکتی ہے۔

