بیورو کریسی،کتاب سے فائل تک

سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی سول سروس میں جس ”مطالعہ کلچر“ نے کبھی افسر کو دانش، حلم اور وسیع ویژن دیا تھا وہ آج تقریباً ختم ہوتا نظر آ رہا ہے، شائد اس کے پیچھے سول سروس کا بدلتا ہوا مزاج اور رجحان ہے جسے کتاب سے صرف فائل تک کا سفر بھی کہا جا سکتا ہے، قبل ازیں افسر پالیسی سازی، ریاستی فہم اور سماجی علم پر غور کرتا تھا اور اکارڈنگ ٹوبک بھی چلتا تھا، مگر آج کا افسر زیادہ تر فنکشنل ایڈمنسٹریٹر بن گیا ہے،فائلیں، نوٹ شیٹ، حکمی خطوط، تبادلے اور روزمرہ کا فائر فائٹنگ کام، ایسے ماحول میں مطالعہ کے لئے ذہنی سکون اور وقت دونوں کم ہو جاتے ہیں،پاکستان میں افسر ہر چند ماہ بعد تبادلے، انکوائریوں یا سیاسی دباؤ کے خوف میں رہتا ہے، ایسی بے یقینی ذہن کو بے سکون کرتی ہے اور مطالعے کا ذوق پس ِ پشت چلا جاتا ہے،جو افسر ہر چھ مہینے بعد گھر شفٹ کرے،وہ اپنی کتابیں کہاں سنبھالے؟ ڈیجیٹل ڈسٹرکشن اور فون نے کتاب کا وقت کھا لیا ہے، پہلے شامیں کتابوں کے ساتھ گزرتی تھیں، آج سوشل میڈیا، واٹس ایپ، خبروں کے پریشر اور سکرین ٹائم نے وہ وقت کھا لیا ہے، کتاب میں ڈوبنے کی جو کیفیت تھی،اب ’نوٹیفکیشن کلچر‘ نے ختم کر دی، جب آپ کے سامنے ایسے افسر آ جائیں جن کی تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوں، جن کی ترقی کتاب نہیں، تعلق سے ہو تو پھر مطالعہ ویلیو نہیں رہتا، بلکہ سمارٹ سرونگ یعنی ”جی سر“ کلچر زیادہ فائدہ دیتا ہے، کتاب پڑھنے والا افسر اکثر ’پڑھاکو‘ کہہ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، ایک وقت تھا کہ کسی ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور سیکرٹری کے ڈرائنگ روم میں کتابوں کی خوشبو ہوتی تھی، اب وہ جگہ ٹیلی ویژن کے سائز، اعلیٰ فرنیچر اور مہنگے فن پاروں نے لے لی ہے۔

ٹریننگ اکیڈمیز کا معیار بھی کم ہوا ہے پہلے سول سروسز اکیڈیمی،نیپا یا سٹاف کالج میں مطالعہ، مباحثہ اور کتابی کلچر زوروں پر تھا،اب تربیت زیادہ تر پریزنٹیشنز، آن لائن کمیونیکیشن ٹولز تک محدود ہو گئی ہے، افسر کا ذہن پھیلنے کے بجائے صرف کام چلانے کی طرف جاتا ہے،وہ کتاب کے بجائے ”کیرئیر مینجمنٹ“ پر فوکس کرتا ہے،آج کے افسر کیلئے ضروری ہے اچھا تعلقات نیٹ ورک سیاسی سمجھ داری، گروپ لابنگ، سوشل میڈیا ہینڈلنگ اور ڈیمیج کنٹرول مضبوط رکھنا، کتاب ان سب میں ”فائدہ“ نہیں دیتی،اس لئے پیچھے چلی گئی ہے، کتب بینی کا شوق ختم ہو تو افسر دانش کی بجائے رد عمل میں کام کرتا ہے،پالیسی کی جگہ فوری آرڈر آ جاتے ہیں اوراس طرح ریاست دور اندیشی کھو دیتی ہے۔

پاکستان کی سول سروس کو پھر سے کتابی کلچر چاہئے یہی وہ چیز تھی جو افسر کو ”صاحب“ نہیں ”دانشور“ بناتی تھی دنیا کے ہر باشعور معاشرے نے جب بھی ترقی کی اس کے پیچھے صرف سڑکیں، عمارتیں یا صنعتی یونٹ نہیں تھے، بلکہ علم، تحقیق اور مطالعے کا مضبوط نظام تھا، اور اس نظام کی سب سے اہم اینٹ لائبریری رہی ہے، لائبریری کتابوں کی الماریوں کا مجموعہ نہیں،بلکہ ایک زندہ تہذیب، فکری ماحول اور ایسا سماجی ادارہ ہے جو ہر عمر کے انسان کو سوچنے، سمجھنے، آگے بڑھنے اور اپنے سماج کو بہتر بنانے کا راستہ دکھاتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں لائبریریوں کو وہ اہمیت کبھی نہ مل سکی جو ترقی یافتہ دنیا نے انہیں دی۔

لائبریری کیوں ضروری ہے؟علم تک مساوی رسائی، معاشرے میں وسائل کی کمی یا معاشی ناہمواری علم کی راہ میں بڑی دیوار ہے، لائبریری اس دیوار کو توڑ دیتی ہے، وہ ہر شخص کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ بغیر خرچ کے معیاری کتابوں، تحقیقی مواد اور ڈیجیٹل ذرائع تک پہنچ سکے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مہذب ریاستیں لائبریری کو ”سوشل ایکویلائزر“ کہتی ہیں،ایک مضبوط لائبریری ریسرچ کا دل ہوتی ہے، جہاں ریسرچ کمزور ہو، وہاں معیشت، ٹیکنالوجی، سماج اور حکومت سب کمزور رہتے ہیں، پاکستان میں تحقیق کے کمزور ہونے کی بڑی وجہ ہماری لائبریریوں کا غیر فعال ہونا ہے، اگر تحقیقی ماحول کے دروازے کھولنے ہیں، تو لائبریری کو مضبوط کرنا ہوگا،سکرین کے دور میں نوجوان کی توجہ بکھر رہی ہے، لائبریری اسے توجہ،برداشت، مطالعہ اور تنقیدی سوچ کا ماحول دیتی ہے۔،دنیا بھر میں نوجوانوں کے لئے خاص لائبریری پروگرامز، سٹڈی ہالز، ورکشاپس اور ڈیجیٹل لیبز اسی لئے بنائے جاتے ہیں، جہاں بچے، نوجوان، خواتین اور بزرگ سب کسی نہ کسی شکل میں جڑے رہتے ہیں،یہ مزاج معاشرے کو تہذیب اور ہم آہنگی دیتا ہے، تاریخ، ثقافت، لائبریری ایک قوم کی یادداشت ہوتی ہے۔

کینیڈا دنیا کے اُن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں تعلیم، مطالعہ اور عوامی لائبریریوں کا نظام مضبوط اور فعال ہے، ملک میں خواندگی کی بنیادی شرح تقریباً 99 فیصد ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ زیادہ تر افراد نہ صرف پڑھ سکتے ہیں،بلکہ روزمرہ معلومات کو سمجھ کر استعمال بھی کر سکتے ہیں، لائبریری کلچر کینیڈا کی سماجی، سیاسی اور دفتری زندگی کا مستقل حصہ ہے، پورے ملک میں تقریباً 620 سے 650 پبلک لائبریری سسٹمز فعال ہیں،ہر سسٹم کے تحت 3200 سے 3500 شاخیں کام کرتی ہیں، یہ لائبریریاں جدید دور میں بھی لوگوں کو سیکھنے اور معاشرتی تعلقات بنانے کا اچھا اور مفید ماحول فراہم کرتی ہیں، یہ نظام اس معاشرے کی ترجیح ہے جو علم، تحقیق اور مطالعہ کو ترقی کا بنیادی ستون سمجھتا ہے۔

پاکستان بھی اگر جدید ڈیجیٹل لائبریری سسٹم اپنا لے تو تعلیمی انقلاب دور نہیں، سوچنے والی بات ہے کہ پاکستان میں لائبریری کلچر کئی برس پیچھے چلا گیا،کیوں؟ فنڈز کی کمی، حکومتی عدم توجہ، مطالعہ کا زوال اور سسٹم کی خرابیوں نے لائبریریوں کو کمزور کیا ہے، تاہم پچھلے دو سال کے دوران پنجاب نے اس میدان میں ایک مثبت موڑ لیا ہے، پنجاب میں نئی لائبریریوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے،پرانی لائبریریوں کی مرمت،کتابوں کے نئے ذخیرے کی شمولیت، بچوں، نوجوانوں اور خواتین کے لیے خصوصی مطالعہ گاہیں، سٹڈی ہالز میں اضافہ، ڈیجیٹل سہولیات اور جدید انفراسٹر کچر اور پھر سب سے بڑھ کر 2028ء تک ایک ”لائبریری ڈویلپمنٹ پلان“ کا خاکہ، یہ سب اقدامات بتاتے ہیں کہ پنجاب ایک بار پھر علم اور مطالعے کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اس سب کا سہرا موجودہ ڈی جی لائبریریز پنجاب، کاشف منظور کے سر ہے،وہ ایک خاموش لیکن مضبوط کردار بن کر ابھرے ہیں۔

پنجاب میں لائبریری سسٹم کی بہتری میں ان کی محنت، و یژن اور پیشہ ورانہ مہارت ایک مضبوط محرک کے طور پر سامنے آئی ہے،وہ بھی ایک سول افسر ہیں مگر ان کی قیادت میں لائبریری محض عمارت نہیں رہی بلکہ ایک فعال علمی پلیٹ فارم بن رہی ہے، کاشف صوبائی سروس کا وہ کردار ہے جسے حکومتی سطح پر بھی سراہا جانا چاہئے اور معاشرتی سطح پر بھی،کیونکہ انہی لوگوں کے دم سے ادارے زندہ رہتے ہیں،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کو بھی اس کا کریڈٹ ملنا چاہئے،انہوں نے صوبے کے سرکاری اداروں، عمارتوں کے خدوخال،سسٹم کو بہتر بنانے میں انتھک محنت کی ہے، مجھے اُمید ہے کہ باقی محکمانہ بلڈنگوں،دفاتر کے ساتھ ساتھ وہ پنجاب بھر میں قائد اعظم لائبریری لاہور کی طرز پر محکمانہ اور پبلک لائبریریوں کو علم و دانش کا ہب اور خوبصورتی کا نمونہ بنانے کے لئے فنڈز کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں