اللہ نے اپنی کتابِ مقدس میں فرمایا ”بے شک انسان خسارے میں ہے“ مفسرین کرام نے اس آیت ِ مقدسہ کی بہت تشریح فرمائی ہے وہ سب اپنی جگہ مگر مفہوم بھی واضح ہے اور بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ اپنے اردگرد نگاہ ڈال لیں اور خود اپنا احتساب کریں،اپنے گلے میں منہ ڈالیں تو ہر دم خود کو خسارے میں پائیں گے کہ انسان میں خطا کار ہیں، کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں، خصوصی طور پر اللہ کریم نے اپنے پیارے حبیبؐ کے توسط سے ہمیں جو راہ دکھائی اور اسی حکم کے فرمان کے مطابق صراط مستقیم کیلئے دُعا کہلائی، ہم یعنی انسان اسی سے کوتاہی برتتا چلا آ رہا ہے اور اس ہدایت سے گریز کیا۔دُعا ہے کہ وہ ذات باری اپنی رحمت کے تحت سب کو ہدایت پر چلنے اور خسارے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ سبحان تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ کائنات بنائی جس کی حدود کے حوالے سے انسان اب تک پریشان ہے کہ جتنا وسعت کی طرف بڑھتا ہے یہ کائنات کئی اور پہلو سامنے لے آتی ہے اور بالآخر انسان کی حد ختم ہو جاتی۔ مفتیان کرام نے تو اپنی علمیت کی بناء پر سات درجوں کا ذکر کیا اور یہ سات کائنات بھی ہو سکتی ہیں، ایک دانشور پاکستان نژاد سائنسدان پروفیسر رفیع مصطفی صاحب نے بڑی محنت سے کائنات کے حوالے سے کتاب تحریر کی ہے،جس سے اللہ کی شان کے مظاہر پتہ چلتے ہیں، انشاء اللہ اِس حوالے سے بھی کالم ہو گا۔
اس وقت جو ذہنی تلاطم پھیلایا یا ہلچل مچی ہوئی ہے وہ بھی زندگی کی بڑی حقیقت اور خسارے والی آیت مبارکہ کی طرف ہی اشارہ کرتی ہے، کہ انسان کی زندگی بتدریج آگے بڑھتی ہے جب زندگی کا ایک سال مزید پورا ہوتا ہے تو دوست احباب اور رشتوں کی طرف سے مبارکباد شروع کر دی جاتی ہے اس میں صحت و مزید زندگی کے لئے دُعائیں شامل ہوتی ہیں، میری زندگی بھی ایک سال مزید بڑھ گئی اور احباب کی طرف سے سلامتی کی دُعاؤں کا سلسلہ جاری ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ اللہ نے اب تک جو زندگی دی اور جو آگے بڑھی ہے تو اسی زندگی کی بہت بڑی حقیقت بھی ہے کہ زندگی کا مزید ایک سال کم ہو گیا کہ موت برحق ہے اس سے مفر نہیں اور جب اس پیدا کرنے والے کا حکم ہوا تو یہ انسان اپنی تمام تر خوبیوں اور خرابیوں کے ساتھ اُس کے حضور حاضر ہو جائے گا اور پھر ایک نئے دور اور نئی زندگی کا آغاز ہو گا جس کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں اور یہ بھی اُسی ربِ عظیم کا راز ہے، جو روح کی طرح اُسے ہی معلوم ہے کہ اُس نے اپنے حبیبؐ کو مخاطب کر کے فرمایا ”اے رسولؐ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے تو ان کو بتا دو کہ روح اللہ کا حکم ہے“ اور اسی روح نے اسی حکم کے تابع جسم کو چھوڑ جانا ہے۔
قارئین کرام، دوستو اور عزیزو برا نہ مانئے گا یہ بہت بڑی حقیقت ہے، جس کا اعتراف کر رہا ہوں آپ سب کا شکر گزار ہوں جو سوشل میڈیا پر موجود میری پروفائل کے حوالے سے یادہانی کے بعد میرے لئے مزید صحت و زندگی کی دُعا دے رہے ہیں میری بھی اللہ سے یہی گذارش ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیبؐ کے صدقے باقی ماندہ زندگی اپنے کرم سے صحت سے گذار دے اور چلتے پھرتے ہی حکم کا دن لے آئے۔میں یہاں یہ عرض کروں گا کہ اللہ کی مہربانیوں کا شکر ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں کہ اُس نے اپنے کرم سے صحت کے بعض مسائل کے باوجود اِس قابل رکھا کہ آج میں اس تحریر کے ذریعے آپ سے مخاطب ہوں۔ میں اللہ کا اِس حوالے سے بھی مشکورہوں کہ اُس نے مجھے صالح اولاد سے نوازا جو میری خدمت میں کوشاں رہتی ہے، میری اُن کیلئے صحت و کامیابی اور مکمل اتفاقِ رائے کے لئے بھی دُعا ہے اور اس یقین و اعتماد کے ساتھ باقی زندگی گذار رہا ہوں کہ میرے بعد یہ مجھے نہ صرف یاد رکھیں گے،بلکہ مسلسل ایصال ثواب بھی کریں گے۔
میرے قاری، دوست، احباب، رشتہ دار حیران ضرور ہو رہے ہوں گے کہ میں نے کیا قصہ چھیڑ دیا،حالانکہ یہی حقیقت ہے بہرحال آج یہ سب اس لئے لکھنا پڑا کہ کسی طرح کچھ ذہنی بوجھ کم ہو، ورنہ یہ خسارے والا انسان عاقبت بھلا رہا ہے اس کی بدولت پوری دنیا پریشان ہے اور طاقت کا زور چل رہا ہے۔میرے مظلوم کشمیری اور فلسطینی بزرگ، بھائی،بہنیں،بچے اور خواتین نہ جانے کس جرم کی سزا پارہے ہیں۔غزہ میں انسانیت کی جو تذلیل مسلسل ہو رہی ہے وہ بھی اسی انسان کے خسارے کی ہے کہ مظلوم کشمیری79-78 سال سے مسلسل جدوجہد میں ہیں اور ان کی تین نسلیں آزادی کا خواب دیکھتے گذر گئی ہیں،اسی طرح فلسطینی بھی سات آٹھ دہائیوں سے اپنی سرزمین پر صہیونیوں کے قبضے اور ظلم کا شکار ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جو نسل کشی ہوئی اور جنگ بندی کے باوجود جو سلسلہ جاری ہے اس تسلسل کی مثال شاید دنیا میں نہ ملے،یہ بات نہیں کہ ہم مسلمان(عالمی سطح) تعداد یا دنیاوی مال و دولت میں کسی سے کم ہیں لیکن چونکہ خسارے والی راہ پر چل رہے ہیں اس لئے اس بیل کا کچھ نہیں بگاڑ پا رہے جو صرف اور صرف طاقت اور طاقتور کی حمایت سے اپنی حرکتوں اور ظلم سے رُک نہیں رہا، اس سے زیادہ کیا عرض کروں،یہی کہہ سکتا ہوں کہ مسلمان قرآن پر غور کریں۔ احادیث سے راہ تلاش کریں اور ان تمام انتہائی نشانیوں پر غور کریں جو اللہ کے نبیؐ نے بتائیں۔
اس سلسلے میں ہمارے ملک کے حالات کے حوالے سے ہر پاکستانی فکر مند ہے، کوئی اظہار کر سکے یا نہ کرے، سب ایک برابر ہیں،ہمارا معاشرہ خسارے ہی کی طرف بڑھتا جا رہا ہے یقین مانئے یہ وہی دور ہے جس کے بارے میں بزرگوں نے کہا تھا کہ وہ وقت بھی آئے گا جب ماں بچے کو نہیں سنبھالے گی۔ کیا آج کی ماؤں کے ہاتھوں پلے پلائے بچے قتل نہیں ہو رہے،کیا باپ خود اپنی اور اپنے بچوں کی جان نہیں لے رہے، کیا اس ملک میں طاقتور شرح محمدیؐ کے اصول دیت کو معصومین کے قتل کے لئے استعمال نہیں کر رہا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی مثال تو تازہ ترین ہے کیا اِس سے قبل طاقتوروں نے قتل کر کے دیت ادا کرنے اور مفاہمت کا ڈھونگ نہیں رچایا۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ معاشرے میں خلوص ختم ہو گیا، سچ کہیں گم ہو گیا۔ جھوٹ کا دور دورہ ہے اور آج ”چور اچکا چودھری اور غنڈی رن پردھان ہے“۔
اپنے دِل کے درد کو صرف آخری بات کر کے دِل ہی میں رکھے آپ سے رخصت ہوتا ہوں کہ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا جب اشرافیہ کی قربانیوں کا ذکر ہوتا تھا کہ اب اشرافیہ کی باری ہے، اب یہ باری کہاں ہے کہ اشرافیہ تو اپنی دولت میں اضافے کیلئے ملک و قوم ے نام پر ٹیکس میں کمی کرا رہی ہے جبکہ ظلم ہر نوع تنخواہ دار طبقہ اور عام آدمی اٹھا رہا ہے، جس کے نام پر سیاست ہوتی اور یہ سیاسی عناصر اپنے کہے پر بھی پورا نہیں اترتے، استحکام کی بجائے انتشار کا کھیل کھیلتے ہیں۔دعاؤں والوں کا پھر شکریہ، دُعائیں کرتے رہیں۔

