جاری ایران، اسرائیلی لڑائی میں دونوں اطراف سے جدید جنگی ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے، اگرچہ جنگی جہاز بھی اپنے ہدف کی تلاش میں اڑتے ہیں، لیکن زیادہ تر بغیر پائلٹ والے ڈرونز اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل استعمال ہو رہے ہیں۔ٹینکوں اور پیدل فوج کا استعمال اسرائیلی غزہ میں نہتے اور پتھروں کا استعمال کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف کر رہا اور ان کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ اسرائیل، ایران جنگ میں اب ترقی یافتہ دنیا متحرک ہوئی کہ خلاف توقع ایران کی طرف سے زبردست جواب دیا گیا اور کئی سالوں بعد پہلی بار اسرائیلیوں کو بھی محسوس ہوا، اگرچہ اب یورپی ممالک متحرک ہو رہے ہیں،تاہم رسی کے بل نہیں گئے، موقف یہی ہے کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت کا حق نہیں دیا جا سکتا جو روس اور چین کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ اسرائیل کے پاس ہے۔ بھارت اور پاکستان تو اعلان شدہ ایٹمی صلاحیتوں کے حامل ملک ہیں، دیکھئے اقوام متحدہ میں جاری مصروفیت سے کیا نکلتا ہے،حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ اسرائیل نے سلامتی کونسل اور جنرل کونسل کے فیصلوں اور عالمی عدالت انصاف کے حکم کو بھی تسلیم نہیں کیا اس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا کہ غزہ میں جنگ بندی اور اسرائیل کو روکنے کے حوالے سے ہر قرارداد کو ویٹو کیا گیا۔
ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکہ میں ہیں جہاں ان کو صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دعوت دے کر وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کرکے مذاکرات کئے گئے اور صدر ٹرمپ نے خلاف معمول ان کی نہ صرف پذیرائی کی بلکہ تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بار بار دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہیں اور اس ملاقات میں یہ واضح طور پر تسلیم کیا کہ جنرل سید عاصم منیر ایک جہاندیدہ مجاہد ہیں، فیلڈ مارشل کی یہ سب پذیرائی اس پانچ روزہ آپریشن البنیان المرصوص کے باعث ہے جس نے بھارت کا سارا غرور خاک میں ملا دیا، اللہ نے یہ کامیابی ہمارے شاہینوں کی جرائت سے عطا کی تو اس میں بڑا حصہ فتح میزائلوں کے درست اور ٹھیک ٹھیک نشانوں کا تھا، ان میزائلوں نے لائن آف کنٹرول کے پار بھارتی سورماؤں کو سفید جھنڈے لہرانے پر مجبور کر دیا تھا، اس لڑائی کے دوران پاکستان ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی سو بٹا سو نمبر حاصل کر گیا تھا۔
یہ سب کوئی نئی بات نہیں، قارئین کے علم میں ہے اور الیکٹرونک میڈیانے آگاہ بھی رکھا ہوا ہے، تاہم میرے خیال میں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک ایسی شخصیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی ہمت اور دانش نے شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے اب اس کو اس درجہ کمال پر پہنچا دیا کہ فتح میزائلوں نے فتح کے جھنڈے گاڑھ دیئے۔ ہمارے ماہرین اب اس قابل ہیں کہ انہوں نے دورمار بیلسٹک میزائل بھی تیار کرلئے اور کامیاب تجربے بھی کئے، ہم سب کی نظر سے وہ خبر بھی گزری ہوگی کہ امریکہ نے بین البراعظمی میزائل کی تیاری کا الزام لگا کر قریباً آٹھ ایسی کمپنیوں پر پابندی لگا دی اور پاکستان سے لین دین بندکرا دیا۔ مبینہ طور پر جن سے پاکستان خام مال خریدتا تھا، بہرحال مصلحتاً پاکستان نے اس پر ردعمل سے گریز کیا، اگرچہ امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے ایسے بین البراعظمی میزائل تیار کرلئے ہوئے ہیں جو سمندر کی گہری تہ کے ذریعے سفر کرکے کسی دوسرے براعظم کے زمینی ٹکڑوں کے قریب باہر آکر ہدف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، یہ الزام اور تعریف کس حد تک درست ہے یہ امریکہ اور پاکستان ہی کے علم میں ہے اور اب دونوں طرف خاموشی ہے تاہم فتح میزائل کی کامیابی نے پاکستانی ماہرین کی مہارت پر مہرثبت کردی ہے۔
قارئین! آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی ہستی کا اشارہ کرکے بھی میں نے ٹیکنالوجی ہی کی طرف توجہ کر رکھی ہے اور اس کا نام نہیں لیا کہ اسے کریڈٹ دیا جا سکے تو محترم اس شخصیت کا آج یوم پیدائش منایا جا رہا ہے، آج وہ زندہ ہوتیں تو 72 سال کو چھو جاتیں،یہ بے نظیر بھٹو ہیں، ایٹمی صلاحیت کی بنیاد رکھنے والے وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی صاحبزادی جو اپنی خودی اور انا کی وجہ سے ”سرنڈر“ کرنے یا معافی طلب کرنے کی بجائے تختہ دار پر جھول گئے اور کسمپرسی میں مدفون ہوئے۔ آج ان کا نام زندہ ہے اور ان کو یہ سزا دینے اور دلانے والے کسی نہ کسی طرح نتیجہ بھگت چکے ہوئے ہیں، آخری ضرب سپریم کورٹ نے زرداری کے صدر کی حیثیت سے دائر کئے گئے ریفرنس پر بھٹو کی دادرسی کرکے لگائی کہ ان کو انصاف نہیں دیا گیا، بعد از مرگ ہی سہی وہ سرخرو ہو گئے۔بے نظیر بھٹو انہی کی صاحبزادی ہیں جو 21جون کو پیدا ہوئیں اور یہاں (آج کی دنیا) میں یہ دستور بھی ہے کہ دنیا سے گزر جانے والی ہستیوں کے یوم وفات تو منائے ہی جاتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ جب ایسے راہنماؤں کا یوم ولادت آتا ہے تو ان کو ماننے والے ان کا یوم پیدائش (سالگرہ) بھی مناتے ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی بھی آج یہ حق ادا کررہی ہے۔(اگرچہ عملی طور پر صورت حال پیری، مریدی جیسی ہے۔)
محترمہ بے نظیر بھٹو دوبار پاکستان کی وزیراعظم رہیں اور دونوں بار 8ویں ترمیم کا شکار ہوئیں، دوسری مرتبہ تو ان کے بھائی فاروق لغاری نے ان کو گھر بھیجا، ان فاروق لغاری کو صدر بھی انہی نے بنوایا تھا، میں طویل عرصہ امروز، مساوات اور روزنامہ پاکستان کی موجودہ مدت کے دوران سیاسی رپورٹنگ کے دوران پیپلزپارٹی کا بیٹ رپورٹر بھی رہا ہوں اس لئے مذکورہ حضرات و خاتون سے براہ راست واسطہ رہا، اس لئے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ فاروق لغاری جیسے ”وفادار“ حضرات کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتا ہوں، بہرحال ذکر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا ہے جن کی میں دل سے قدر کرتا ہوں کہ وہ انتہا پسند نہیں بلکہ متوازن خیالات اور عمل کی حامل تھیں، بعض رکاوٹوں کے باوجود انہوں نے بڑے حوصلے اور تدبر سے سیاست اور قیادت کی، انہی بے نظیر بھٹو نے اپنے دور میں شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کی، جسے ہمارے ماہرین نے بام عروج پر پہنچا دیا ہے، میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ بعض انسانی کمزوریوں کے باوجود بے نظیر بھٹو بہت بہادر اور باتدبیر لیڈر تھیں، ان کے دور میں ملک کا نام روشن ہوا، ان کی گفتگو اور تقریر (خصوصاً انگریزی) بہت اثر انگیز ہوتی تھی۔ یہ نہیں کہ وہ اردو میں کمزور تھیں لیکن اردو میں بعض الفاظ تکیہ کلام بھی بن گئے اگرچہ مزہ دیتے تھے۔ وہ تھیں بہت بولتی تھی اور پھر ان کے ساتھ ”اذان بج رہا ہے“ بھی بہت جڑا اور مخالفین نے بھد اڑانے کی کوشش کی، میں سرگودھا کے اس جلسہ میں موجود تھا جہاں یہ الفاظ کہے گئے، محترمہ تقریر کررہی تھیں کہ لاؤڈسپیکر پر اذان گونجی، وہ فوری طور پر تقریر چھوڑ کر احتراماً بیٹھ گئیں اور یہ الفاظ کہے، بلاشبہ یہ اردو کی کمزوری تھی لیکن محترمہ کے اندر جو احترام کا جذبہ تھا اس کی تعریف تو بنتی ہے۔
میں اور میرے جیسے کئی اور جاننے والے سمجھتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کو بھی کام نہیں کرنے دیا گیا اور پھر نوابزادہ نصراللہ خان کے احترام اور جان لیوا کوشش سے جو میثاق جمہوریت ہوا وہ بھی بوجوہ چلنے نہ دیا گیا، اس میں بھی دونوں اطراف کا حصہ ہے، اللہ اب بھی ہمیں یہ ہدائت دے کہ جڑے رہیں، خبریں اڑتی رہتی ہیں کہ کچے دھاگے سے دونوں جماعتوں کا اتحاد بندھا ہے۔

