کراچی/ڈھاکا (نامہ نگار) تقسیمِ ہند کے بعد اسلام کے نام پر پاکستان آنے والے بہاری مسلمانوں کی تیسری نسل آج بھی اپنی شناخت سے محروم ہے۔ 1971 کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا کے طور پر لاکھوں بہاری آج بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں قیدِ بے وطنی کاٹ رہے ہیں۔
“ہم پاکستانی ہیں یا بنگلہ دیشی؟ ہم ہیں کون؟”
یہ سوال ہے اُن بدنصیب پاکستانیوں کا جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے ڈھاکا، راج شاہی اور چٹ گانگ کے عارضی کیمپوں میں قید ہیں۔
ایک بزرگ خاتون نے روتے ہوئے کہا”ہم لوگ کا تو زندگی برباد ہوگیا، اب ہمرا بال بچہ کا زندگی کا ہوگا؟”
“پس منظر”
1947 میں بہاری مسلمانوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان کا رخ کیا اور مشرقی پاکستان میں آ بسے۔مگر 1971 کی جنگ میں پاکستان کی حمایت کرنے کے بعد وہ بنگلہ دیش میں غدار قرار دیے گئے۔ان کے گھروں کو جلا دیا گیا، مردوں کو قتل کیا گیا اور عورتوں کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے اُنہیں قبول کرنے سے انکار کیا، جب کہ بنگلہ دیش نے شہریت دینے سے گریز کیا — یوں یہ لاکھوں انسان 50 برس سے شناخت کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں۔
“رہائش کی حالت”
ڈھاکا کے مختلف علاقوں میں موجود بہاری بستیوں میں لوگ تنگ و تاریک جھگیوں میں رہتے ہیں۔بارش میں چھت ٹپکتی ہے بچے چھتری کے نیچے سوتے ہیں۔پینے کا صاف پانی نایاب، صحت و تعلیم کی سہولتیں تقریباً ختم۔ایک بزرگ شخص نے کہا “یہ ذلت کا زندگی مر جانے کی زندگی سے بہتر اچھا ہے۔”
“پاکستان میں بھی شناخت کا بحران”
کراچی، میرپور خاص اور سندھ کے کئی شہروں میں بہاریوں کے سینکڑوں خاندان آج بھی شناختی کارڈ سے محروم ہیں۔ان کے بچے اسکول نہیں جا سکتے روزگار کے مواقع نہیں ملتے۔
ایک متاثرہ نے بات کرتے ہوئے کہا”ہم لوگوں کیلئےچین سکون کا ضرورت ہے، انتظام کریئے۔”
“عالمی بے حسی”
دنیا انہیں بھول چکی ہے۔نہ پاکستان انہیں اپناتا ہے، نہ بنگلہ دیش مانتا ہے۔یہ لوگ اب بھی صرف ایک فریاد کر رہے ہیں .”ہم لوگ اپنا شناخت مانگ رہے ہیں، خدا کی زمین پر زمین کے خداؤں سے زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا مانگتے ہیں۔”
“باخبر رہیں”
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی سے اپیل کی ہے کہ ان بہاری پاکستانیوں کو شناخت اور باعزت زندگی دینے کیلئےعملی اقدامات کیے جائیں۔”یہ کہانی صرف بہاریوں کی نہیں، یہ کہانی بے وطنی کی لعنت میں جکڑے ہر انسان کی ہے۔”

