تاریخ سے سبق: قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس اور عدالتی آزادی

پاکستان کی عدالتی تاریخ خاصی پیچیدہ، پُرخار اور زیادہ قابلِ تعریف نہیں رہی۔ اس تاریخ کے کئی ادوار میں عدلیہ نے طاقتور حلقوں کا ساتھ دیا اور کئی مواقع پر آئین اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے فیصلے دیے جو طاقت کے مراکز کی خواہشات سے ہم آہنگ تھے۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر نہ صرف آمروں کو آئین میں ترامیم کا اختیار فراہم کیا گیا بلکہ آئین کی تشریح کے پردے میں اسے عملاً ازسرِنو تحریر کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ تاہم اسی تاریخ میں ایسے مواقع بھی آئے جب کسی جج نے طاقتور حلقوں کو چیلنج کیا اور دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ایسے ججوں کو اکثر شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں، انہیں عہدوں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی، یا انہیں نظام سے باہر کرنے کے لیے مختلف حربے اختیار کیے گئے۔ لیکن اگر کسی جج کا دامن صاف ہو اور اس کا مؤقف آئینی اصولوں پر مبنی ہو تو ایسے حالات میں طاقتور حلقوں کا مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر طاقت کے مراکز کی اپنی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں رہتی جتنی بظاہر دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان کی حالیہ آئینی تاریخ میں اس کشمکش کی ایک نمایاں اور فیصلہ کن مثال جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس ہے، جو فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض ایک عدالتی فیصلے سے اختلاف نہیں تھا بلکہ ایک ایسا دباؤ تھا جسے قانونی حلقوں میں بہت سے افراد نے ایک ایسے جج کو تنہا اور بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا جس نے آئینی حدود واضح کی تھیں۔

آئینی جمہوریتوں میں عدالتی آزادی کی اصل اہمیت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب عدالتیں ایسے معاملات کا سامنا کرتی ہیں جہاں طاقت اور آئین آمنے سامنے کھڑے ہوں۔ عدالتی آزادی کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب جج آسان یا مقبول فیصلے سناتے ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی جج کا اصولی مؤقف طاقتور حلقوں کو ناگوار گزرے۔ ایسے مواقع پر عدلیہ کا کردار محض قانونی تنازع حل کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ آئینی حدود اور ریاستی طاقت کے درمیان توازن قائم کرنے کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔ یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جہاں یہ واضح ہوتا ہے کہ آیا ریاستی نظام آئین کی بالادستی کو برقرار رکھے گا یا طاقت کے دباؤ کے سامنے جھک جائے گا۔

فیض آباد دھرنا کیس 2017 میں وفاقی دارالحکومت کو مفلوج کرنے والے احتجاج کے تناظر میں سامنے آیا۔ جسٹس عیسیٰ نے اپنے مفصل فیصلے میں نہ صرف احتجاج کی قانونی حیثیت بلکہ ریاستی اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کا کوئی ادارہ آئین سے بالاتر نہیں۔ شہری بالادستی، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قانون کی پابندی پر غیر معمولی وضاحت کے ساتھ زور دیا گیا۔ اس فیصلے کی آئینی مضبوطی کو سراہا گیا، مگر اس کی صاف گوئی نے بعض طاقتور حلقوں کو بے چین بھی کیا۔

فیصلے کے بعد تنقید محض قانونی اختلاف تک محدود نہ رہی۔ جسٹس عیسیٰ کی دیانت اور نیت پر سوال اٹھانے والے بیانیے سامنے آئے۔ مبصرین کے نزدیک اُس وقت کی حکومت کے تعصبات اور پسِ پردہ مقاصد نہ صرف سرکاری اقدامات بلکہ منظم سیاسی پروپیگنڈے سے بھی ظاہر تھے۔ یوں محسوس ہوا کہ یہ محض احتساب نہیں بلکہ ایک ایسے جج کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش تھی جس کا واضح آئینی مؤقف بعض حلقوں کے لیے غیر موافق تھا۔

2019 میں آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا۔ اس میں اہلِ خانہ کی بیرونِ ملک جائیدادوں کے عدم انکشاف کا الزام لگایا گیا اور اسے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیج دیا گیا۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ تھی کہ ان کی اہلیہ، سرینہ عیسیٰ، جو ایک نجی شہری تھیں، کو بھی اس عمل میں شامل کر لیا گیا۔ ایک جج کے خاندان کو اس طرح کارروائی میں گھسیٹنا احتساب اور ذاتی دباؤ کے درمیان حدِ فاصل کو دھندلا دیتا ہے۔

جسٹس عیسیٰ نے اس ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ عدالت کے سامنے صاف دامن اور مکمل شفافیت کے ساتھ پیش ہوئے ہیں۔ انہوں نے تکنیکی بنیادوں کا سہارا لینے کے بجائے الزامات کا براہِ راست سامنا کیا۔ عدالت کے سامنے پیش کیے گئے مکمل شواہد سے ان کے مالی معاملات کی قانونی حیثیت واضح ہو گئی۔ ایسے حالات میں جب ریفرنس کے آغاز کا طریقۂ کار بھی آئینی تقاضوں پر پورا نہیں اترتا تھا اور اثاثہ چھپانے کا کوئی ٹھوس ثبوت بھی موجود نہیں تھا تو عدالت کے پاس ریفرنس خارج کرنے کے سوا کوئی آئینی راستہ باقی نہیں رہتا تھا۔ یہ فیصلہ کسی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ قانون اور حقائق کی بنیاد پر ایک ناگزیر نتیجہ تھا۔

جون 2020 میں سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ احتساب کے آئینی طریقۂ کار کی پابندی لازمی ہے، بصورتِ دیگر احتساب دباؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عدالتی آزادی کسی فرد کا استحقاق نہیں بلکہ آئین کی ضمانت ہے۔ جب جج اپنے اصولی مؤقف کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوں تو قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے، اور جب وہ آئینی عمل کے ذریعے سرخرو ہوں تو ادارہ جاتی وقار مضبوط ہوتا ہے۔

بالآخر کسی بھی آئینی جمہوریت کا معیار اس بات سے طے ہوتا ہے کہ وہ اُن ججوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے جو آئینی حدود پر اصرار کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا خاتمہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں تھا بلکہ اس اصول کی توثیق تھا کہ دباؤ کے باوجود آئین ہی ریاست کا آخری اور فیصلہ کن معیار ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عدالتی آزادی کا دفاع صرف ججوں کا نہیں بلکہ پورے آئینی نظام کا تقاضا ہے۔ اور جب کوئی جج آئین کی حدود واضح کرنے کی جرأت کرتا ہے تو اصل امتحان صرف اس جج کا نہیں بلکہ ریاستی اداروں اور جمہوری معاشرے کا بھی ہوتا ہے۔

یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ اگر کسی جج اور اس کے اہلِ خانہ کے ہاتھ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سرینہ عیسیٰ کی طرح، صاف ہوں تو وہ نہ صرف آزادانہ اور دلیرانہ فیصلے دے سکتا ہے بلکہ ہر طرح کے دباؤ کا ثابت قدمی سے سامنا بھی کر سکتا ہے۔

گو کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اور اس کا فیصلہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، لیکن ان کے خلاف اُس وقت کی حکومت اور بعد ازاں اس سیاسی جماعت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ پروپیگنڈے کے مقابلے میں اصل تاریخی حقائق کو درست کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جسٹس عیسیٰ کے کریڈٹ میں یہ بات جاتی ہے کہ انہوں نے آئین کو مقدم جانتے ہوئے اپنے فیصلوں سے عدالتی تاریخ کو درست کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

یہ بات خصوصاً قانون کے طالبعلموں کے لیے اہم ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے متعصب اور لغو پروپیگنڈے پر انحصار کرنے یا اس پر یقین کرنے کے بجائے حقائق کو جاننے کی کوشش کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ قانون اور آئین کی روشنی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے ججوں کو ان کے فیصلوں کی بنیاد پر پرکھیں۔ تاریخ بھی ججوں کو ان کے فیصلوں کی روشنی میں ہی جانچتی ہے، نہ کہ کسی کے ذاتی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر۔

بالآخر کسی بھی معاشرے کی عدالتی تاریخ اس بات سے نہیں لکھی جاتی کہ اس کے جج کس کے پسندیدہ تھے یا کون انہیں پسند نہیں کرتا تھا، بلکہ اس سے لکھی جاتی ہے کہ انہوں نے آئین کے ساتھ کتنی وفاداری نبھائی۔