ترکیہ کا ’سی 130‘ طیارہ جارجیا میں گر کر تباہ، 20 فوجی جاں بحق

“ہم اپنے بیٹوں کو دل میں دفنا رہے ہیں” ترک وزارتِ دفاع

انقرہ/تبلیسی (انادولو،رائٹرز) ترک وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو ایک فوجی کارگو طیارہ جارجیا میں گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 20 ترک فوجی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔طیارہ آذربائیجان سے ترکی واپس آ رہا تھا جب اس سے رابطہ پرواز کے 27 منٹ بعد منقطع ہو گیا۔

جارجیا کے وزیرِ داخلہ گیلا گیلادزے نے بتایا کہ حادثہ جارجیا کے دیہی علاقے میں پیش آیا، جہاں 18 لاشیں موقع پر ملی ہیں جبکہ دو مزید کی تلاش جاری ہے۔ترک ساختہ میڈیا اور رائٹرز کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ C-130 “ہرکولیس” طیارے کی دم فضا میں ہی الگ ہو گئی اور طیارہ گھومتا ہوا زمین پر آ گرا۔حادثے کے بعد کھیتوں میں ملبے کے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں۔

ترک وزارتِ دفاع نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاں بحق 20 فوجیوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے لکھا”ہم تمہیں اپنے دلوں میں دفنا رہے ہیں، تمہاری قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائیگی۔”وزارت کے مطابق ترک ماہرین کی ٹیم جارجیا میں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہے جو جارجین اور آذری حکام کے ساتھ مل کر وجوہات کی تحقیقات کریگی۔

امریکی سفیر ٹام باراک نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”ہم اس سانحے پر گہرے دکھ میں ہیں اور اپنے ترک اتحادیوں کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔”

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا”ہم اُن کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں، ترک افواج سمیت تمام نیٹو اہلکار ہماری سلامتی کیلئے ہر روز اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔”آذربائیجان، جارجیا، روس اور جرمنی نے بھی ترک حکومت سے تعزیت کی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔

ترک روزنامہ سوزجو کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا C-130 ہرکولیس طیارہ 57 سال پرانا تھا۔یہ طیارہ سعودی عرب سے 2010ء میں خریدا گیا تھا، جب اسے وہاں سے ریٹائر کر دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق، طیارے کی تکنیکی حالت پر کئی ماہ سے سوالات اٹھ رہے تھے۔

انادولو ایجنسی کے مطابق، فوجی حکام نے جاں بحق اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو ذاتی طور پر اطلاع دی۔ترک شہروں میں فوجی اہلکاروں کے گھروں پر پرچم لہرائے گئے اور شہریوں نے شہداء کے خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ سانحہ ترکی کے فوجی فضائی بیڑے کی تکنیکی حالت اور جدید کاری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔اگرچہ “ہرکولیس” طیارے دنیا بھر میں قابلِ بھروسہ تصور کیے جاتے ہیں،مگر 57 سال پرانے جہاز کا مسلسل استعمال ایک سنگین خطرہ بن چکا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں