اُن دنوں میں ماہنامہ اخبارِ اُردو کے مدیراعلیٰ کی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پر ’’سن رائز کے مہمان‘‘ کے مقبول پروگرام کا میزبان بھی تھا۔ اس پروگرام میں سوسائٹی کو متاثر کرنے والی اہم ادبی، سماجی، سیاسی اور دیگر ممتاز شخصیات سے غیررسمی گفتگو ہوتی تھی۔ ایک دفعہ لاہور شہر کی کچھ شخصیات کے نمبر ملا رہا تھا تو ایک نمبر پر کال گئی اور دوسری طرف سے بہت معزز آواز سنائی دی۔ میں نے نام جاننے کی جسارت کی تو مجھے پرسکون اور خوشدل لہجے سے جواب ملا ’’میں تسنیم منٹو ہوں‘‘۔ یہ سننا تھا کہ میں اچھل پڑا اور میرے منہ سے بے ساختہ زندہ باد کا نعرہ بلند ہوا۔ میں نے تکلف کی تمام رکاوٹیں ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا کہ کولمبس انڈیا دریافت کرنے نکلا تھا اور امریکہ دریافت کرلیا۔ بالکل ایسے ہی میں بہت پہلے سے آپ سے رابطہ کرنا چاہتا تھا لیکن کوئی ذریعہ بن نہیں پارہا تھا۔ اس کے بعد میری تسنیم منٹو صاحبہ سے نیازمندی تقریباً 20برس تک قائم رہی۔ وہ کبھی مجھے مشورہ دیتیں، کبھی ڈانٹتیں، کبھی حوصلہ افزائی کرتیں، کبھی ناراض ہوتیں، کبھی شفقت کرتیں لیکن یہ سب کچھ ان کے بڑے پن، اپنائیت اور سرپرستی کے مزاج کے سائے میں ہوتا۔ یوں ہوتا کہ وہ مجھے ہفتے میں ایک بار یا دو ہفتے کے بعد یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر اندر ضرور فون کرتیں اور لمبی گفتگو ہوتی۔ اس گفتگو میں ان کے موضوع اکثر تہذیب، اقدار اور سماجی رویئے وغیرہ ہوتے۔ ان کا میرے ساتھ تعلق کا یہ سلسلہ ان کی سانسوں تک برقرار رہا۔ البتہ آخری دنوں میں ان کے مجھے فون کرنے کی تعداد میں دیری آتی گئی یعنی رابطہ ہفتوں کی بجائے مہینوں پر چلا گیا۔ شاید اس کی وجہ ان کی جسمانی علالت تھی۔ میں اسے اپنا اعزاز سمجھتا ہوں کہ وہ کئی مرتبہ میرے دفتر آئیں۔ تسنیم منٹو صاحبہ ایک ایسا سائبان تھیں جو اپنے سائے میں بیٹھنے والوں کو مکمل شفقت اور سرپرستی میں رکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے میرا ذکر محترم عابد حسن منٹو صاحب سے بھی کیا۔ وہ دن میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے یادگار تھا جب محترم عابد حسن منٹو صاحب میرے دفتر تشریف لائے۔ تسنیم منٹو صاحبہ سے میرے لمبے عرصے کے تعلق کے دوران بہت سے موضوعات، شخصیات اور کردار زیربحث آتے رہے لیکن انہوں نے کبھی کسی شخصیت یا کردار پر ذاتی نوعیت کی تنقید نہیں کی۔ وہ مختلف موضوعات پر مختلف شخصیات یا افراد سے اختلاف ضرور کرتی تھیں لیکن ہمیشہ تہذیب، شائستگی اور دلیل کو ملحوظ خاطر رکھتی تھیں۔ وہ آج کے دور میں رہتی تھیں لیکن اقدار اور وضع داری کے بغیر ترقی کو ترقی نہیں سمجھتی تھیں۔ انہوں نے خواتین کی ترقی اور مسائل کو سمجھانے کے لیے اُس وقت عَلم بلند کیا جب وومن رائٹس یا ہیومن رائٹس کا لفظ ہمارے ہاں ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ ان کی سوچ اور خیالات کا محور صرف خواتین کے مسائل ہی نہیں تھے بلکہ وہ سماج میں بکھرے ہوئے ہرموضوع پر لکھتی اور بات کرتی تھیں۔ اس حوالے سے خود انہوں نے کہا کہ ’’محض عورتوں کے مسائل کے بارے میں لکھ کر میں اپنی تحریروں کو ایک نعرے کی صورت بھی نہیں دینا چاہتی تھی۔ میں زندگی کے سب موضوعات سے رشتہ جوڑنا اور ان میں گھل مل جانا چاہتی تھی‘‘۔ تسنیم منٹو صاحبہ کی شخصیت میں بے ساختگی تھی۔ ان کے ہاں دکھاوا اور مصنوعی پن نہیں تھا۔ ان کی کہانیوں یا گفتگو میں بھی ذرہ برابر خودنمائی اور بناوٹ نہیں تھی۔ وہ صرف عادتاً نہیں لکھتی تھیں بلکہ لکھنا ان کی فطرت میں شامل تھا۔ اسی لیے ان کی کہانیاں پڑھنے والے جیسے ہی پڑھنا شروع کرتے ہیں تو درمیان میں رکتے نہیں بلکہ آخر تک پہنچ کرہی دم لیتے ہیں۔ سادہ زبان اور سادہ الفاظ غالب کا خاصہ ہے۔ بالکل یہی چیز تسنیم منٹو صاحبہ کے ہاں بھی موجود ہے۔ ان کو سادہ الفاظ کے چنائو اور آسان جملے لکھنے میں کمال حاصل تھا۔ اپنے اندر بے پناہ علمی، ادبی اور فکری صلاحیتیں سموئے ہونے کے باوجود وہ انکساری کو ہی اپنا فخر سمجھتی تھیں۔ وہ کہتیں کہ ’’مجھے کہانی لکھنے میں اِس قدر مشکل درپیش نہیں آتی جس قدر مجھے اپنا تعارف کروانے میں آتی ہے۔ اس کی سیدھی سادی وجہ یہ ہے کہ میں کچھ ہوں ہی نہیں، نہ ماضی میں کچھ کیا، نہ آج‘‘۔ حالانکہ تسنیم منٹو صاحبہ سماج کی ترقی، معاشرے کے سدھار اور ادبی افق پر اتنا کام کرچکی تھیں کہ کئی مشہور نام ان کے سامنے آج بھی بونے نظر آتے ہیں۔ دراصل وہ شہرت سے دور بھاگتی تھیں کیونکہ شہرت ان کی کمزوری یا مجبوری نہیں تھی۔ ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے رشتے نبھانے والی ایک شاندار ہستی بھی تھیں۔ وہ محترم عابد حسن منٹو صاحب کی خیال رکھنے والی پرخلوص دانشمند اور جنم جنم کا ساتھ نبھانے والی شریک حیات تھیں۔ وہ سائرہ صاحبہ، صالحہ صاحبہ اور بلال منٹو صاحب کی شفیق اور محبت کرنے والی ماں تھیں۔ وہ دوستوں کی ہمدرد اور وقت پر کام آنے والی دوست تھیں۔ ان کے بچوں میں بھی ان کی خوبیوں کا ڈی این اے پوری طرح موجود ہے۔ وہ بلاشبہ عابد منٹو صاحب اور اپنے بچوں پر فخر کرتی تھیں۔ ان کے مزاج میں غصہ، جھنجھلاہٹ یا کنفیوژن نہیں تھی۔ وہ مطمئن تھیں لیکن پھر بھی ان میں کہیں کہیں تشنگی یا اداسی ملتی تھی۔ اس کی وجہ شاید وہ خواب تھے جو انہوں نے سماج کی بہتری کے لیے دیکھے تھے۔ انہوں نے اپنے اردگرد بسنے والوں کی درستی کے لیے سیاسی اور سماجی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن معاشرے کے دوغلے پن سے کبھی کبھی افسردہ اور بیزار بھی ہوتیں۔ وہ اب ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی ہیں اور آج جب ہم ان کو یاد کررہے ہیں تو ان کی لکھی ہوئی یہ چند سطور بہت یاد آرہی ہیں کہ ’’یہ میں ہوں، میرا ماضی میری مٹھی میں بند جگنو کے مانند ہے، میں اس روشنی کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ میرا حال مطمئن و آسودہ ہے کہ آج لوگوں کے درمیان میری شناخت میری سوچ اور میرے لکھے لفظوں کے حوالے سے بھی ہے۔ آنے والے کل پر مجھے اعتبار نہیں، کبھی بھی نہیں تھا کہ میں ہمیشہ حال میں زندہ رہی ہوں، چاہے وہ ماضی کا حال تھا، چاہے آج کا حال ہے‘‘۔ تسنیم منٹو صاحبہ نے یہ بالکل درست لکھا تھا۔ وہ آج کے حال میں بھی زندہ ہیں۔ احمد فراز کا ایک شعر ہے کہ
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

