تنخواہ اضافہ، صرف وزرا ، منتخب اراکین کیوں ؟

جون کا مہینہ آنے سے پہلے پاکستان میں ہر شہری کو خوف ہوتا ہے کہ گرمی بڑھ جائے گی اور بجلی کا بِل اس سے بھی کئی ” گناہ “ ( گناہ لکھنے کی معذرت، مگر بجلی کا بل اب گناہوں کی سزا ہی لگتا ہے ) بڑھ جائے گا۔ البتہ سرکاری ملازمین کو ایک اُمید ہوتی ہے کہ بجٹ آنے والا ہے اور تنخواہوں میں اضافہ ہو جائے گا، لیکن اِس دفعہ تمام سرکاری ملازمین کو 10 فیصد اور پنشنرز کو 5 سے 7 فیصد دے کر ٹرخا دیا گیا،مگر ان سرکاری ملازمین کو یہ 10 فیصد اضافہ دینے والوں نے اپنی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا وہ ہوشربا ہے۔ دال روٹی کھانے والوں کو 10 فیصد دینے والی ”منتخب اشرافیہ“ نے اپنی تنخواہوں میں 150 فیصد سے لے کے 960 فیصد تک اضافہ کیا ہے، یعنی جن کے ووٹ لےکر آئے ان کو 10 فیصد اور اپنی تنخواہوں میں 150 سے 960 فیصد تک اضافہ۔ یہ ہے ہماری اشرفیہ یہ ہے ہمارے اسمبلیوں میں بھیجے ہوئے وہ منتخب ارکان جن کو آج کل ” فارم 47 والا“ کہا جاتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ فارم 47 والے نہ ہوتے اور فارم 45 والے ہوتے تو وہ کیا کرتے، لیکن ظلم تو یہ ہے کہ اِس قوم کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ فارم 47 والے ہی کر رہے ہیں۔ کاش کہ ہمیں ” کبھی اصلی منتخب نمائندے “ ملیں جو ہمارے ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں جائیں اور پھر ہمارے لئے قانون سازی کریں نہ کہ اپنے لئے۔ موجودہ حکومت نے پہلے کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وزیراعظم اور وزراء”تنخواہ اور مراعات “ نہیں لیں گے۔ یہ سُن کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ ” فارم 47 اسمبلی “ نے ابتداءاچھے انداز میں کی ہے اور شاید اِس دفعہ کوئی بہتری آ جائے۔

مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد

اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا سلسلہ دسمبر 2024ءمیں پنجاب اسمبلی سے شروع ہوا۔ ارکان اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ روپے کر دی گئی، یعنی 426 فیصد اضافہ کیا گیا۔ وزراءکی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار روپے کر دی گئی (جو کہ 960 فیصد اضافہ بنتا ہے )۔ اِسی طرح سپیکر پنجاب اسمبلی کی تنخواہ سوا لاکھ روپے سے بڑھا کر 9 لاکھ 50 ہزار روپے ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے،پارلیمانی سیکرٹریوں کی تنخواہ 83 ہزار روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ 51 ہزار روپے،وزیراعلیٰ کے مشیروں اور سپیشل اسسٹنٹ حضرات کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر چھ لاکھ 55 ہزار روپے کر دی گئی، جس کے بعد پارلیمنٹ ”جاگی“اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں یعنی اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہوں میں اضافہ فروری میں منظور ہوا لیکن ”ادائیگی“ یکم جنوری سے کی گئی۔ اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کی تنخواہ دو لاکھ 18 ہزار سے بڑھا کر پانچ لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی، جبکہ ان کی مراعات گریڈ 22 کے وفاقی سیکرٹریز کے مساوی ہوں گی۔ تنخواہوں میں اضافے کا یہ بل مسلم لیگ(ن) کی رکن اسمبلی روبینہ خورشید عالم نے پیش کیا۔ اِس اضافے کے بعد وزراءکو محسوس ہوا کہ وہ تو ”پیچھے رہ گئے“ لہٰذا مارچ میں ان کی تنخواہوں میں اضافہ ہو گیا۔ وفاقی وزراءجو پہلے دو لاکھ روپے تنخواہ لیا کرتے تھے اُن کی تنخواہ بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی جبکہ وزیر مملکت کی تنخواہ جو پہلے ایک لاکھ 80 ہزار تھی، اب اراکین پارلیمنٹ اور وفاقی وزراء کے برابر ہو گئی۔اس طرح وزراءکی ” شرمندگی “ دور کی گئی۔اِس اضافے کے بعد سینٹ اور قومی اسمبلی ”چلانے والوں کو ہتک“کا احساس ہوا۔ چنانچہ سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کی سربراہی میں قومی اسمبلی اور سینٹ کی ہاﺅس فنانس کمیٹیوں کا ”الگ الگ“ اجلاس ہوا جس میں سینٹ چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین اور قومی اسمبلی کے سپیکر ، ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا اور تنخواہ 2 لاکھ پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر 13لاکھ روپے کر دی گئی، یعنی 600 فیصد اضافہ اور یہ اضافہ بجٹ اجلاس سے صرف ایک دن پہلے جون میں ہوا، مگر اس کا اطلاق یکم جنوری 2025ءسے ہوگا۔

قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں کے اراکین اسمبلی کی تنخواہوں ( خصوصا سپیکر ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ و ڈپٹی چیئرمین سینٹ ) میں اضافے کے حوالے سے جب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بجٹ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا تو ان کا یہ کہنا تھا کہ اراکین پارلیمنٹ ، وزراء، چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ ، سپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں برس ہا برس سے اضافہ نہیں ہوا لہٰذا یہ بہت ضروری تھا۔ ویسے بھی جب ہم ہر سال سرکاری ملازمین کو ریلیف دیتے ہیں تو ارکان پارلیمنٹ کو بھی ہر سال ریلیف ملنا چاہئے۔ (اراکین پارلیمنٹ کو خوشخبری کہ اب ہر سال ان کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہوا کرے گا )۔ لیکن وزیر خزانہ اورنگزیب صاحب جن کا تعلق اس ملک کی ایک ”بڑی اشرافیہ فیملی“ سے ہے انہیں شاید کچھ حقائق کا علم نہیں ہے یا انہیں بتایا نہیں گیا کہ ہماری قومی اسمبلی اور سینٹ کے اخراجات سال 2017ءمیں تین ارب روپے سالانہ تھے، مگر اب نئے بجٹ میں قومی اسمبلی و سینٹ کے اخراجات کے لئے 15 ارب روپے رکھے گئے ہیں یہ پانچ گنا کس مد میں ہوا ہے ؟ کیا یہ تمام اضافہ صرف سینٹ اور قومی اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں میں ہوا ہے یا اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ کسی ”اضافی مد “ میں یہ اربوں روپے وصول کر رہے تھے۔ اس کی وضاحت بھی وزیر خزانہ پر اب لازم ہو چکی ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ، چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافہ پر وزیر دفاع خواجہ آصف بھڑک اُٹھے اور انہوں نے ایک ٹویٹ جاری کیا، جس میں انہوں نے اِس اضافے کو مالی فحاشی قرار دیا اور اس معاملے کو وزیراعظم کے علم میں لےکر آئے، جس کا وزیراعظم نے نوٹس بھی لے لیا جس پر اُنہیں بتایا گیا یہ اضافہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی ہاﺅس فنانس کمیٹیوں کے اجلاس میں کیا گیا ہے اور اس پر وزیراعظم کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے ” بیچارے وزیراعظم“ ہر معاملے میں بے اختیار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں