توانائی سے متعلق ترجیح شہری مفادات کا تحفظ ہے:بھارت کا ردعمل

نئی دہلی (اے ایف پی) — بھارت نے کہا ہے کہ اس کی توانائی سے متعلق ترجیح اپنے شہریوں کے مفادات کا تحفظ ہے، اور یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دلایا ہے کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی وزارتِ خارجہ نے نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی کہ وہ روس کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’ایک غیر مستحکم توانائی کے ماحول میں بھارتی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہماری مستقل ترجیح رہا ہے۔ ہماری درآمدی پالیسیاں مکمل طور پر اسی مقصد سے رہنمائی حاصل کرتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور محفوظ سپلائی کو یقینی بنانا بھارت کی توانائی پالیسی کے بنیادی اہداف ہیں، جس میں ذرائع توانائی کی وسعت اور مارکیٹ کے حالات کے مطابق تنوع پیدا کرنا بھی شامل ہے۔

جیسوال نے وضاحت کی کہ بھارت دنیا کے سب سے بڑے خام تیل درآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اپنی تیل کی ضروریات کا 85 فیصد سے زیادہ حصہ بیرونی سپلائرز سے حاصل کرتا ہے، اور رواں دہائی میں روسی رعایتی تیل کی خریداری میں نمایاں اضافہ اس عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کئی سالوں سے اپنی توانائی کی خریداری کو متنوع بنانے کی کوشش کی ہے، اور موجودہ امریکی انتظامیہ نے بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جس پر بات چیت جاری ہے۔‘

اپنا تبصرہ لکھیں