ہر شہری اپنی ریاست، حکومت اور انتظامیہ سے گلہ رکھ سکتا ہے یہ اس کا حق ہے۔ بحیثیت شہری اس کے جو بھی حقوق ہیں وہ پورے کیے جائیں، لیکن کچھ چیزیں حقوق سے بالاتر ہوتی ہیں۔ ہر شہری کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ملک کا نام دنیا میں سب سے بلند ہو۔ دنیا میں کوئی اسے نیچا دکھانے والا نہ ہو اور جب کوئی نیچا دکھانے کی کوشش کرے تو اس کو سبق سکھایا جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سبق سکھانے والا کام بڑے عرصے سے ادھورا چلا آ رہا تھا۔ مجھ جیسے ”سینئر سٹیزنز“یہی خواہش رکھتے ہیں کہ جیسے 65ء کی جنگ میں بھارت کو سبق سکھایا تھا اب بھی بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے، لیکن بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھارت سے بیک چینل ڈپلومیسی کے تحت ڈائیلاگ شروع ہوا۔ اسی ڈائیلاگ کے تحت جنرل مشرف نے بھارت کا دورہ کیا، لیکن پھر آگرہ کی ایک رات کچھ ایسا ہوا وہ کام ادھورا ہی رہ گیا۔ وہ کام تو ادھورا رہ گیا اور بھارت جیسے گھٹیا دشمن کے سامنے تن کر کھڑے ہونے کی خواہش ہمارے حکمرانوں نے پوری نہیں کی، ہم یہ ضرور کہتے رہے کہ بھارت ہمارے ہاں دہشت گردی کروا رہا ہے، لیکن جس طریقے سے آواز اٹھانی چاہئے تھی وہ ”حوصلہ“ ہمارے ہاں نظر نہیں آتا رہا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں خود اپنے ہی لوگوں کو مار کر الزام پاکستان پہ لگاتا رہا۔ مگر ہمارا رویہ معذرت خواہانہ رہا اور ہم ”آزادانہ تحقیقات“پر زور دیتے رہے۔ 2019ء میں بھارت نے اپنی الزام تراشی اور پھر جارحیت کی کوشش کی قیمت ابھی نندن کے طیارے کی تباہی اور اس کی گرفتاری کی شکل میں ادا کی، لیکن ہم جو کہ مسلسل بھارت کی دہشت گردانہ، توسیع پسندانہ پالیسی کا شکار تھے، بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی پر ہم یہ تو کہتے تھے کہ بھارت نے افغانستان کے چھوٹے سرحدی شہروں میں اپنے قونصل خانے بنا رکھے ہیں تاکہ پاکستان میں دہشت گردوں کو رابطے میں رکھا جا سکے، لیکن ہم نے ان کی تباہی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جعفر ایکسپریس کا واقعہ ہوا تو ہمیں فوری طور پر دنیا کو بتانا چاہئے تھا کہ یہ بھارت نے کروایا ہے، مگر ہم نے ”پھر برداشت“ کا مظاہرہ کیا،مگر پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے مشیر اجیت ڈوول کی مہربانی سے یاد آیا کہ بس اب اور نہیں بہت ہو گیا۔ آج بھارت کی مہربانی سے ”ہماری زبانیں“کھل گئی ہیں۔ بھارت نے پہلگام کے بہانے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر میزائل برسا کر مساجد اور مدرسے تو نشانہ بنا لئے، مگر اپنے جدید ترین رافیل، میراج اور سخوئی طیارے تباہ کرا لئے۔ پھر رہی سہی کسر 9اور 10مئی کی رات پوری ہوئی۔ بھارت نے اس رات پاکستان پر براہموس داغ دیئے،مگر10مئی کی صبح اس نے فتح ون، فتح ٹو میزائلوں اور پاکستانی جے ایف تھنڈر 17طیاروں کے ہاتھوں صرف شکست کھائی، بلکہ اس نے جنوبی ایشیاء کی ”علاقائی طاقت اور اکھنڈ بھارت“ کا جو خواب دیکھ رکھا تھا وہ چکنا چور ہوا۔ ہماری ”خاموشی ختم“ ہو چکی۔ بھارت کو اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ تم دہشت گردوں کے سرپرست ہو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کھل کر کہا کہ ”ہمارا پانی بند کرنا آسان نہیں ہے کوئی پاگل ہی ایسا سوچ سکتا ہے بھارت ہمارا پانی بند کر کے تو دکھائے“۔یہ وہ الفاظ ہیں، جنہیں سننے کے لئے کان ترس رہے تھے۔اُمید کی جا تی تھی کہ ہم کھل کر بات کریں گے، مگر ہم دبے لفظوں میں بات کرتے تھے اور اسے ڈپلومیسی قرار دیتے تھے۔ شکر ہے کہ اب کھل کر بات کرنے کا زمانہ آ گیا۔بھارت میں ہندو اشرافیہ مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، دلتوں کا قتل عام کر رہی ہے، نسل کشی کر رہی ہے انہیں ”شدھ“کر کے ہندو بنانا چاہ رہی ہے۔ ہم پہلے کھل کر بات نہیں کرتے رہے۔ جنرل احمد شریف چوہدری کا دوسرا بیان بھارت کے لئے زیادہ واضح پیغام تھا۔”ہم آج بھی ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ اگر دوبارہ غلطی کی تو رد عمل پہلے سے زیادہ تیز اور شدید ہو گا“۔ ایک اور جملہ جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے ادا کیا ”مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر امن نہیں ہو گا“۔ یہ وہ الفاظ اور جملے تھے جو قوم سننا چاہتی تھی جن کو سننے کے لئے برسوں سے کان ترس رہے تھے۔ ایک اور پیغام جو دنیا کو بذریعہ ڈی جی آئی ایس پی آر دیا گیا وہ یہ تھا کہ ”جنگی جنون میں مبتلا بھارت جو ماحول بنا رہا ہے وہ خطے کی تباہی کا باعث بنے گا“۔ ڈی جی آئی ایس پی ار نے دنیا کو یہ بھی بتایا کہ دہشت گردوں کے گروپ(مجید بریگیڈ، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے)بھارتی پشت پناہی سے بلوچستان اور پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔بھارت دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے۔ کیا دنیا بھول گئی کہ کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ بھارت کینیڈا میں سکھوں کو قتل کر رہا ہے۔ ہردیپ سنگھ نجر کا قتل18جون 2023ء میں ہوا۔ کینیڈین انٹیلی جنس نے ثابت کیا کہ بھارت نے یہ قتل کروایا تھا، لیکن ہم جن کے ملک میں گزشتہ 11سال میں بھارت نے 14سکھوں کو قتل کروایا جن میں خالصتان موومنٹ کے سربراہ پرم جیت سنگھ پنجوار بھی شامل تھے۔ انہیں کسی پاکستانی نے نہیں مارا تھا۔ ان کو مارنے والا ہاتھ تو کوئی بھی تھا، لیکن پیچھے کون تھا، پیسہ کس نے دیا، ٹارگٹ کس نے دیا۔شکر الحمدللہ کہ اب ہم یہ کھل کر کہہ رہے ہیں کہ بھارت پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی کا ذمہ دار ہے تو ہمیں دنیا کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے، بشام اور اپر کوہستان میں چینیوں کی دو بسوں پر خودکش حملے اور چینیوں پر دیگر حملے سب بھارت کی پشت پناہی سے ہوتے رہے۔ بھارت نے اپنی پارلیمنٹ میں اکھنڈ بھارت کا نقشہ لگا رکھا ہے جو اس کی توسیع پسندانہ سوچ کا عکاس ہے۔ وہ نقشہ 10مئی کو ہم نے پھاڑ کر پھینک دیا ہے۔بھارت کو چاہئے اب اس نقشے کو وہاں سے نکال پھینکے۔ بھارت کو ایک پیغام امریکہ میں پاکستانی سفیر نے بھی دیا ہے،جنہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ”پاکستان کے دریاؤں میں آنے والا پانی روکنا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا“۔ ڈی جی آئی ایس پی ار نے ایک بیان اور دیا ہے جو بڑا خوش کن ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی برداشت نہیں ہو گی۔ دہشت گردوں کو مار رہے ہیں۔اس سال اب تک 200 دہشت گرد مار چکے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو ایک اور پیغام بھی دیا ہے۔ان کا کہنا تھا ”بھارت کو واضح بتا دیا ہے پہلے بھی مارا تھا پھر ماریں گے۔ جارحیت کا شوق ہے کر کے دیکھ لو ہم تیار ہیں“۔ یہ پیغام ”باوردی لوگوں“کی طرف سے آیا ہے لیکن کیا ہم بحیثیت قوم تیار ہیں۔ اس کا جواب اپنے آپ سے مانگیں۔

