تہران(ایجنسیاں)ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 65 ہوگئی ہے، جن میں 15 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اب تک ڈھائی ہزار افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں، جن میں تہران کے قریب سے 100 مسلح فسادی بھی شامل ہیں۔
ایرانی حکومت نے کہا کہ پُرامن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں، لیکن فسادیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور املاک تباہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ فوج ہر سازش کا مقابلہ کرے گی اور ملکی دفاع ریڈ لائن ہے۔ ایرانی فوج نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے فسادات کی سازش کی ہے اور وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کریں گے۔ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس تیسرے روز بھی بند ہے۔
ایران کے حقوق انسانی گروپ HRANA کی رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے 13 دن کے بعد کل تقریباً 65 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں شہری اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں، اور اب تک 2,311 سے زائد گرفتاریاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
CBS اور AP نیوز،بین الاقوامی میڈیا بھی رپورٹ کر رہا ہے کہ مظاہرے بدستور جاری ہیں، ایران میں انٹرنیٹ بند ہے، اور کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز احتجاج روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سینڈا نیوز اور دیگر رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کو “دشمنِ خدا” قرار دینے سمیت حکومت کی سخت کاروائی کے باوجود مظاہروں کا پھیلاؤ، اور انٹرنیٹ کی بندش جیسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
چند مزید رپورٹس ایران میں مظاہروں کی شدت اور ہلاکتوں کے بارے میں مختلف اندازے دیتی ہیں. کچھ ذرائع ہلاکتوں کی تعداد 62 یا 47 بیان کرتے ہیں، جس کا دارومدار مقامی اور غیر سرکاری اعداد و شمار پر ہے۔

