تیرہ سالہ ناکام حکمرانی: لہولہان خیبرپختونخوا

خیبرپختونخوا میں سال 2025 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والے جانی نقصان سے متعلق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی انتہائی تشویشناک اور افسوسناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ خیبرپختونخوا اس وقت ایک سنگین اور کثیرالجہتی بحران سے دوچار ہے۔ یہ صوبہ، جو ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور عدم استحکام کا سامنا کرتا آ رہا ہے، سال 2025 میں ایک بار پھر خون میں نہاتا دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ سرکاری رپورٹس کے مطابق رواں سال دہشت گردی کے ایک ہزار 588 واقعات میں سیکڑوں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ درجنوں علاقے مسلسل عدم تحفظ کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ یہ صورتحال محض ایک سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات، سیاسی طرزِ عمل اور انتظامی غفلت پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ محض ایک سیکیورٹی رپورٹ نہیں بلکہ صوبے کی مجموعی طرزِ حکمرانی پر ایک فردِ جرم ہے۔ یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا ناسور نہ صرف زندہ ہے بلکہ کئی علاقوں میں پہلے سے زیادہ منظم اور مہلک صورت اختیار کر چکا ہے۔

سرکاری رپورٹس کی مجموعی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ رواں سال خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد غیر معمولی رہی، جن میں سب سے زیادہ نشانہ عام شہری اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بنے۔ پولیس، فیڈرل کانسٹیبلری اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ فرنٹ لائن پر کھڑا سپاہی آج بھی ناکافی وسائل، محدود انٹیلی جنس سپورٹ اور غیر یقینی حکومتی پشت پناہی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان بدستور سب سے زیادہ متاثر رہے، جہاں ریاستی موجودگی کمزور جبکہ دہشت گرد نیٹ ورکس مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔

یہ امر یاد رکھنا ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا کوئی نیا بحران نہیں جھیل رہا۔ 2007 سے 2014 تک صوبہ دہشت گردی کی بدترین لہر سے گزرا، جس کے بعد آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں ایک حد تک امن بحال ہوا۔ اس وقت یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ صوبائی حکومتیں اس عارضی امن کو مستقل بنانے کے لیے پولیس اصلاحات، مقامی انٹیلی جنس، سرحدی نظم و نسق اور سماجی بحالی کے مؤثر پروگراموں پر توجہ دیں گی، مگر بدقسمتی سے یہ قیمتی موقع ضائع کر دیا گیا۔

تحریک انصاف گزشتہ تیرہ برس سے خیبرپختونخوا میں اقتدار میں ہے۔ یہ مدت کسی بھی حکومت کیلئےاصلاحات، ادارہ سازی اور نتائج دینے کیلئے کافی سمجھی جاتی ہے۔ ۔ سوال یہ ہے کہ اس طویل دورِ حکمرانی میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے کون سی پائیدار اور مؤثر پالیسی تشکیل دی گئی؟ کیا پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، فرانزک صلاحیت اور حقیقی سیاسی خودمختاری دی گئی؟ کیا سی ٹی ڈی کو محض ردعمل کے بجائے پیشگی کارروائی کے قابل بنایا گیا؟ بدقسمتی سے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔

اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں صوبائی حکمرانی کا مرکز عوامی مسائل کے بجائے احتجاجی سیاست، وفاق کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی اور سیاسی بیانیے کی جنگ بنا رہا۔ صوبے کے وسائل، توانائی اور توجہ کا بڑا حصہ ایسے سیاسی معرکوں پر صرف ہوا جن کا عام شہری کے جان و مال کے تحفظ سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ ایک ایسی جماعت جو خود کو تبدیلی کا علمبردار کہتی رہی، وہ عملی طور پر گورننس کے بنیادی تقاضے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی، البتہ مخالفین کے خلاف گالم گلوچ، جذباتی تقاریر اور اشتعال انگیز نعروں میں وہ بلا مقابلہ کامیاب رہی۔

دہشت گردی کو صرف بندوق کے زور پر نہیں روکا جا سکتا۔ یہ ایک ہمہ جہت مسئلہ ہے جس کے سماجی، معاشی اور فکری پہلو بھی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی، مقامی تنازعات اور انصاف تک محدود رسائی ایسے عوامل ہیں جو شدت پسندی کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو ان علاقوں میں تعلیم، روزگار اور مضبوط مقامی حکومتوں کے ذریعے دہشت گردی کی جڑیں کمزور کی جا سکتی تھیں، مگر بدقسمتی سے یہ شعبے بھی مسلسل نظر انداز ہوتے رہے۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے ہر بڑے واقعے کے بعد حکومتی ردعمل بیانات، مذمتوں اور وقتی اقدامات تک محدود رہا۔ نہ تو کسی بڑے سانحے کے بعد جامع پالیسی ریویو سامنے آیا اور نہ ہی کسی ناکامی کی سیاسی یا انتظامی ذمہ داری قبول کی گئی۔ اس کے برعکس صوبائی حکومت خود احتسابی کے بجائے مرکزی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہراتی رہی۔ جب حکمران خود احتسابی سے گریز کریں تو نظام کمزور اور دشمن مضبوط ہو جاتا ہے۔

آج خیبرپختونخوا کے عوام ایک سادہ مگر بنیادی سوال پوچھ رہے ہیں: اگر تیرہ سال کی مسلسل حکمرانی کے باوجود شہری محفوظ نہیں، فوج، پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور دہشت گرد منظم انداز میں کارروائیاں کر رہے ہیں تو پھر اس حکومت کی کارکردگی کو کس پیمانے پر کامیاب کہا جا سکتا ہے؟ ہر بار حالات کا الزام ماضی، وفاق یا بیرونی عناصر پر ڈال دینا اب عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں رہا۔

اب وقت آ چکا ہے کہ صوبے میں سنجیدہ اور غیر سیاسی بنیادوں پر ایک جامع سیکیورٹی پالیسی تشکیل دی جائے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کو مکمل آپریشنل خودمختاری، جدید ٹیکنالوجی اور مستقل تربیت فراہم کی جائے۔ صوبے بھر میں، خصوصاً متاثرہ اضلاع میں، مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جائے اور بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر اور مربوط کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر، حکومتی ارکان کو غیر سنجیدہ اور احتجاجی سیاست سے نکل کر عملی گورننس کی طرف آنا ہوگا۔ خیبرپختونخوا کے عوام امن، ترقی، تعلیم، صحت اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

اگر خیبرپختونخوا میں موجودہ طرزِ حکمرانی جاری رہا تو صوبہ اس بحران کے دائرے سے نکلنے کیلئے صرف فوجی آپریشنز پر انحصار نہیں کر سکے گا بلکہ اس کے لیے دہائیاں درکار ہوں گی۔ عوام مزید تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ دہشت گردی کیوں بڑھ رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت اپنی سیاسی ترجیحات کو عوام کے جان و مال پر فوقیت دینا بند کرے گی؟ تاریخ ایسے لمحوں کو محفوظ رکھتی ہے، اور عوام اب خاموش نہیں۔ جواب دینا ہوگا ، یا آج، یا پھر کل بہت دیر ہو چکی ہوگی۔