ہمارے ہاں قومی سطح کے اہم موضوعات کو ایک طرف رکھ کر جسطرح سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ پرنان ایشوزاوربے مقصد مباحث کی بھرمارسے جس طرح غیر سیاسی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے اس پر مثبت طرز فکر رکھنے والوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ لیکن اس سارے کچھ کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ شہر میں گاہے گاہے ایسی تقریبوں کااہتمام بھی ہوتا رہتا ہے جن میں نہ صرف شعوری ابلاغ کیلئے کی جانے والی فکری، نظریاتی اور علمی جدوجہد کے پس منظراور بائیں بازو کے فکری رحجان کا ذکر ہوتا ہے بلکہ ترقی پسند طرز فکر کے اتار چڑھاؤ پر نئے مباحث کی ضرورتوں پر بات ہوتی رہتی ہے۔اسی حوالے سے گذشتہ روزلاہورمیں کاسموپولیٹن کلب کے ایک کشادہ لان میں عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کی شاعرانہ میراث مزاحمت اور ترقی پسند فکر کو خراج عقیدت پیش نے کیلئے جالب ڈیموکریٹک میلہ کا اہتمام کیا گیا جس میں دانشوروں،شاعروں ،ادیبوں، فنکاروں اور سیاسی کارکنوںنے شرکت کی۔جالب میلہ کی اس تقریب نے عظیم انقلابی شاعر حبیب جالب کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس موقع پر ان کی بیٹی نے بھی ان کے اشعار الگ انداز میں سنائے ۔ میلہ میں مقررین نے جالب کے انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرے کے وژن کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیااور بائیں بازو ، ترقی پسندی اور انقلاب کے لیے اپنے عزم اور موجودہ جمود کے خلاف جدوجہد کا اعادہ کیا۔ معروف کلاسیکل رقاصہ شیما کرمانی نے اپنی پرفارمنس سے سامعین پر ایک سحرطاری کردیا، اس کے علاوہ پختون، بلوچی، سندھی، اور پنجابی گروپوں نے علاقائی رقص پر پیش کئے۔ اور میلہ کی رنگا رنگی میں اضافہ کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انقلابی شاعرحبیب جالب کی یاد میں جالب جمہوری میلہ رواں ہفتے لاہور کی کلچرل اور علمی ادبی روائتی سرگرمیوں میں ایک پرجوش ایونٹ کے حوالے سے یادگار تھا۔جس کیلئے اس کا انتظام واہتمام کرنے والوں کی تعریف ہونی چاہیے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے میلے کے نام پر ہونے والے اس ہلکےپھلکے ایونٹ کا تصور میلہ اورفیسٹول کاہی رہنے دیا جائے اسے سیاسی جلسہ گاہ نہ بننے دیا جائے۔یہ اس لئے کہ بعض اوقات اظہار خیال کرنے والے میلہ جیسے ہلکے پھلکے ایونٹس کوسیاسی جلسہ گاہ سمجھ کر ضرور ت سے زیادہ سنجیدہ ہوجاتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں جالب جمہوری میلہ اپنے ترقی پسند سیکولر سوشلسٹ طرز فکر کی رجحان سازی اور اپنے شرکا کے شعوری مزاج کی روایت ہے اور اس میں اظہار خیال کرنے کے لیے بلائے جانے والے مقررین کے انتخاب میں اگر احتیاط اور دانشمندی کا خیال نہیں رکھا جاتا تواس طرح ایک کامیاب تقریب کا تاثر خراب ہوسکتا ہے۔
ہمارے ہاں بائیں بازو کے فکری رحجان کی سیاست کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے جس کا مقصد عوام کے محروم طبقوں کے بنیادی حقوق کے حصول کیلئے سیاسی جدوجہد ہے۔اس حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ حبیب جالب نے نہ صرف اعلیٰ پائے کی شاعری کی بلکہ ان کی شخصیت کا بڑا حوالہ ان کی سیاسی جدوجہد کا فکری رحجان ہے جونظریاتی طور پر بائیں بازو کی جانب رہا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع سیاسی سماجی اور اقتصادی حقوق کیلئے عوام کی جدوجہد کو بنایا۔ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے وہ تمام عمر عوامی حقوق کے حصول کیلئے کی جانے والی جمہوری تحریکوں کا حصہ رہے۔
کم وبیش دس سال قبل انہی دنوں کراچی کےلٹریچر فیسٹیول کا ایک سیشن حبیب جالب کی یاد اور ان کی شاعری پر گفتگو کے لیے وقف تھا ۔جہاں جالب اوران کی شاعری پر لاہور سے آئے اعتزاز احسن اور عاصمہ جہانگیر میں باہم مکا لمہ تھا ۔ عاصمہ جہانگیرنے اس موقع پر جالب کے بارے میں کہاتھا کہ انہوں نے عام آدمی کے لیے آسان زبان میں لکھا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ شاعر میں دیانت کے ساتھ ساتھ فصاحت بھی ہونی چاہیے اوریہ دونوں چیزیںجالب کے پاس موجود تھیں۔ اردو کے دوسرے شاعروں کے برعکس جالب بول چال کے اسلوب پر کاربند تھے اور ان کے کلام سے جوش و جذبے سے گونجنے وا لی آوازوں کے تاثرنے لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
1928 میں پیدا ہونے والے حبیب جالب 1947 میں تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے پاکستان ہجرت کر گئے اور کراچی میں روزنامہ امروز کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ ترقی پسند شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے جنرل ایوب خان اور ضیاء الحق کی فوجی بغاوتوں کے خلاف لکھا اور خواتین کے شانہ بشانہ حدود آرڈیننس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔ حبیب جالب نے سوشلزم کے پیچیدہ نظریات کو اپنایا، انہیںبڑے پیمانے پر پڑھے جانے کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی شاعری کا موضوع سرمایہ داری، نوآبادیاتی نظام اور جاگیرداری کے موجودہ سماجی و اقتصادی نظام کے خلاف جدوجہدکو بنایا اور ساری زندگی اسی میں گزاردی۔حبیب جالب عوامی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کرداروعمل میں بھی عوامی تھے۔ ان کا تعلق محروم طبقوں کے ساتھ تھا اور وہ اس تعلق سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے۔پاکستان کی تاریخ میں وہ طالع آزما اور آمروں کے خلاف مزاحمت کا بھرپور کردار تھے۔ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے وہ ہمیشہ عوامی حقوق کے حصول کیلئے کی جانے والی جمہوری تحریکوں کا حصہ رہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ جالب جیسے تاریخ ساز کرداروں کے ساتھ نظریاتی، فکری رشتوں اور تعلق کو قائم رکھا جائے .

