جاپان نے مصنوعی ذہانت (AI) سےمتعلق ضابطہ کار کی منظوری دے دی

نئے قانون کا مقصد ترقی اور اختراع کی حوصلہ افزائی، ممکنہ خطرات کا اعتراف

ٹوکیو (خصوصی رپورٹ) جاپان نے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق ضابطہ کار پر مبنی قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی اختراع اور ترقی کو فروغ دینا ہے، ساتھ ہی ساتھ ان ممکنہ خطرات کو تسلیم کرنا ہے جو AI کے بے جا یا غیر ذمہ دارانہ استعمال سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

4 جون 2025 کو منظور ہونے والے اس ضابطے کے تحت جاپانی حکومت نے ایسی قانون سازی کا انتخاب کیا ہے جو سخت پابندیوں یا خطرہ درجہ بندی پر مبنی قوانین کے بجائے AI کے ذمہ دارانہ استعمال، شفافیت، اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو فروغ دے۔

قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ جاپان، AI کی ترقی میں شفافیت، احتساب، اور صارفین کے تحفظ جیسے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے جدت طرازی میں رہنمائی فراہم کرے گا، نہ کہ رکاوٹ ڈالے گا۔

حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح پر AI سے متعلق بڑھتی ہوئی قانون سازی کی لہر کا حصہ ہے، تاہم جاپان کا انداز دیگر ممالک کی نسبت متوازن اور ترقی دوست ہے۔ جاپان، OECD اور G7 جیسے اداروں کی طرف سے تجویز کردہ اصولوں کی روشنی میں بین الاقوامی ہم آہنگی پر بھی زور دے گا۔

نئے قانون کو عالمی ماہرین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جو اسے یورپی یونین کی سخت ریگولیشن اور امریکہ کے نجی شعبے پر انحصار کے درمیان ایک متوازن راستہ قرار دے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں