پاکستان کی عدلیہ ہمیشہ سے متنازعہ فیصلوں، طاقتوروں کے دباؤ اور سیاسی وابستگیوں کے سائے میں رہی ہے۔ اب تو جج صاحبان فیصلوں کے بجائے بیانات اور تقاریر سے زیادہ پہچانے جانے لگے ہیں، کبھی آمریت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی جمہوریت کے علمبردار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ قوم کو اصل انصاف کب ملے گا؟
پاکستان کی عدالتی تاریخ کبھی بھی قابلِ تحسین نہیں رہی۔ ہمیشہ یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ عدلیہ جمہوریت کی محافظ ہے یا طاقتور قوتوں کی تابع۔ حقیقت یہ ہے کہ خصوصاً اعلیٰ عدلیہ اکثر طاقتوروں اور فوجی آمروں کے سامنے جھکتی رہی اور ان کے ہر سیاہ کو سفید کرتی رہی۔ اس نے غیر آئینی آمریتوں کو آئینی قرار دے کر انہیں دوام بخشا اور اسی کے بل بوتے پر فوجی آمر دہائیوں تک حکومت کرتے رہے۔ چند گنے چنے ججوں کے سوا کوئی مثال نہیں ملتی جنہوں نے واقعی انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر دباؤ یا لالچ سے بالاتر ہو کر فیصلے دیے ہوں۔
حالیہ برسوں میں ایک نیا رجحان پروان چڑھا ہے کہ جج کھلے عام سیاسی ججوں کا روپ دھارنے لگے ہیں۔ بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں فیصلے ذاتی یا خاندانی سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر دیے گئے۔ اسی لیے کہا جانے لگا ہے کہ جج عدالتی لباس میں سیاست دان ہیں۔ آج کے دور میں فیصلوں کے بجائے بیانات، خطوط اور سیمینارز سے زیادہ پہچانے جاتے ہیں۔ کچھ حکومت کے حامی دکھائی دیتے ہیں اور کچھ اپنی جھکاؤ کی وجہ سے حزبِ اختلاف کی زبان بولتے ہیں۔ عدالتی خطوط، بار کونسلز اور سیمینارز میں بھی ان کی زبان اکثر وہی ہوتی ہے جو سیاسی جلسوں میں سنائی دیتی ہے۔ ایسے جج مقبولیت کے خواہشمند رہتے ہیں اور میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا کی داد ان کے رویے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
عوام بھی اس تضاد کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ ایک دن کوئی جج آئین کی بالادستی پر دھواں دار تقریر کرتا ہے، اگلے دن وہی کسی اور موقع پر مکمل خاموش۔ کبھی وہ ہر ناانصافی پر آنکھیں بند رکھتا ہے اور پھر اچانک جمہوریت اور انصاف کا سب سے بڑا علمبردار بن جاتا ہے۔
یہ رویہ بالکل نیا نہیں۔ عدالتی تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ طاقتور کے لیے فیصلے کچھ اور اور عوامی نمائندوں کے لیے کچھ اور۔ مولوی تمیزالدین کیس میں اسمبلی کی تحلیل کو درست قرار دے کر جمہوریت پر پہلا کاری وار کیا گیا۔ نصرت بھٹو کیس میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو آئینی تحفظ دیا گیا۔ ظفر علی شاہ کیس میں جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی مارشل لا کو سندِ قبولیت عطا کی گئی۔ یہ سب فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جج جب چاہیں تو طاقتور کو دودھ کا دھلا قرار دے دیتے ہیں اور جب چاہیں تو اسی کو آئین شکن کہہ کر کوستے ہیں۔ یعنی جس طرف ہوا کا رخ ہو، عدالتی ضمیر بھی اسی طرف مڑ جاتا ہے۔
ایک جج صاحب جو اپنے انقلابی دھواں دار تقاریر کیلئےمشہور ہیں، گزشتہ روز ایک سیمینار میں فرمانے لگے کہ “بحیثیت جج مجھے ایک بات کبھی سمجھ نہیں آئی، کہ جنرل ضیاء الحق وردی پہن کر برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دے رہے ہیں۔” لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ضیاء کی وردی پر حیرت ہوتی ہے تو پھر جنرل مشرف کی وردی پر کیوں نہیں؟ وہی مشرف جس نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا، آٹھ سال وردی میں سیاست کی، اور انہی دنوں یہی جج صاحب جو اس وقت وکالت کرتے تھے، اس کے سب سے بڑے حامی بنے، یہاں تک کہ وزیر کے عہدے سے بھی لطف اندوز ہوتے رہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قول و فعل کا تضاد پوری طرح بے نقاب ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ معزز جج اور اسی طرح دوسرے جج صاحبان متعدد بار جمہوریت کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کا حصہ بنے اور آمریت کے دور میں مختلف منصب قبول کیے، اور طاقتور حلقوں کے منظورِ نظر رہے۔ پاکستان کی ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے اقتدار یا مراعات پاتے ہیں، وہی بعد میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علَم بردار بننے لگتے ہیں۔
ان جج صاحبان کی عدالتی تقرریاں بھی ہمیشہ شفاف نہیں رہیں۔ کبھی سفارش کے نتیجے میں تقرری ہوئی، کبھی کسی سینئر کو ہٹا کر انہیں اوپر لا بٹھایا گیا۔ حتیٰ کہ جب ایک جج کو عدلیہ میں فوجی مداخلت کے خلاف تقریر پر برطرف کیا گیا تو وہ آج کے انقلابی یہی جج صاحب بالکل خاموش رہے کیونکہ اس وقت ان کی اپنی ترقی اسی فیصلے سے جڑی تھی۔ یوں تاثر یہ بنا کہ ان کی ترقی بھی حالات اور طاقتوروں کی مرضی کا نتیجہ تھی۔
ایسے ججز کے دور میں بھی اپوزیشن رہنماؤں کے مقدمات تاخیر کا شکار رہے، ضمانتیں مہینوں بعد ملیں اور مقدمات کی رفتار سست رہی۔ لیکن آج میڈیا پر تند و تیز بیانات اور عدالتوں میں آبزرویشنز نے انہیں ہیرو بنا دیا۔ تضاد یہ ہے کہ ایک طرف وہ طاقتوروں کے خلاف تیز و تند جملے بولتے ہیں، اور دوسری طرف انہی طاقتوروں کے سہارے ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ یہی جج صاحبان بعد میں تقاریر میں آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار بن جاتے ہیں۔ کسی ایک آمر پر سخت تنقید کریں گے مگر دوسرے پر آتے ہی زبان بند کر لیں گے، بلکہ سہولت کار بن جائیں گے۔ کوئی الیکشن متنازعہ ہو تو مخالفت میں گرج دار تقاریر کریں گے، مگر دوسرا الیکشن دھاندلیوں کے باوجود “صاف شفاف” قرار دے دیں گے۔ یہ ہے عدالتی دوہرا معیار جسے عوام دور ہی سے بھانپ لیتے ہیں۔ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی دھواں دار تقریریں اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی مفادات اور سیاسی وابستگیوں کے لیے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ یہ کھیل بند ہو۔ عدلیہ اگر واقعی وقار چاہتی ہے تو صرف بیانات اور خط و کتابت سے کچھ نہیں ہوگا۔ سب ججوں کو ایک میز پر بیٹھ کر واضح ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا۔ یہ طے ہونا چاہیے کہ وہ سیاست سے دور رہیں گے، میڈیا پر نظر نہیں آئیں گے، تقریروں اور انٹرویوز سے اجتناب کریں گے۔ کچھ عرصے کیلئےعدالتوں کو خود پر میڈیا بلیک آؤٹ نافذ کرنا چاہیے—نہ تقریریں، نہ ٹکر، نہ روزانہ کی سیاسی آبزرویشنز۔ جج صرف اپنے فیصلوں کے ذریعے بولیں گے، اور فیصلے بھی صاف، سیدھے اور غیر جانبدار ہوں گے۔ مستقبل کے لیے اصول بھی بالکل واضح ہونا چاہیے: صرف غیر سیاسی اور غیر جانبدار افراد کو عدلیہ میں جگہ ملے۔ جو جج سیاست کرے، کرپشن میں ملوث ہو یا کسی جماعت کے ساتھ کھڑا دکھائی دے، اسے فوراً ہٹا دیا جائے۔ تب ہی عوام کو یہ یقین ہوگا کہ عدلیہ واقعی انصاف کا ادارہ ہے، نہ کہ طاقتوروں کی ڈھال۔
لیکن ذمہ داری صرف عدلیہ پر نہیں آتی۔ سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ پر بھی لازم ہے کہ وہ “تیرا جج، میرا جج” کی روش چھوڑیں۔ ایسے سیاسی ججوں کی حوصلہ شکنی کریں جو ذاتی مفادات کے لیے خوشامد میں فیصلے دیتے ہیں۔ اگر سیاستدان خود کرپشن اور غیر قانونی کارروائیوں سے دور رہیں، ایک دوسرے کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ نہ بنائیں، سیاسی مقدمات عدالتوں میں نہ لے جائیں اور ججوں کو بعد از ریٹائرمنٹ عہدوں کا لالچ نہ دیں، تو حالات وقت کے ساتھ بہتر ہو سکتے ہیں۔ جو وقت ضائع ہونا تھا وہ تو ہو چکا، لیکن اب یہ آنے والی نسلوں اور ملک کی بقا کا سوال ہے۔ ورنہ یہ گول دائرہ کبھی ختم نہیں ہوگا اور سیاستدان ہر وقت یہی کھیل کھیلتے رہیں گے کہ یہ جج میرا ہے اور وہ تمہارا۔
یہ لمحہ فیصلہ کن ہے۔ یا تو عدلیہ اور سیاست دونوں اپنی روش بدل کر اداروں کو باوقار بنائیں گے، یا پھر ہمیشہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے رہیں گے۔
قوم کو تقریری جج نہیں، فیصلہ ساز جج چاہییں کیونکہ تاریخ بیانات کو نہیں، فیصلوں کو یاد رکھتی ہے۔
اور اگر انصاف بیانوں میں ہی قید رہا تو تاریخ عدلیہ کو نہیں بخشے گی۔

