برلن (اے ایف پی/مانیٹرنگ ڈیسک) —جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی کے ساتھ ایک 3 فریقی اجلاس یورپ میں منعقد ہو سکتا ہے۔
جرمن نشریاتی اداروں این ٹی وی اور آر ٹی ایل کو دیے گئے انٹرویو میں مرز نے کہا کہ “میرا خیال ہے کہ ایسا اجلاس جلد منعقد ہوگا، ہم نے تجویز دی ہے کہ یہ یورپ میں کسی مقام پر ہو، تاہم تاریخ اور مقام کا ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔”
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ وہ اور یورپی رہنما چاہتے ہیں کہ ایک اور اجلاس ہو، جس میں یوکرینی صدر زیلنسکی بھی شامل ہوں۔ تاہم اس ملاقات میں جنگ بندی پر کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تھی۔ ٹرمپ نے بعد ازاں اعلان کیا کہ اب وہ “مکمل امن معاہدہ” کرنے کے خواہاں ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے چند نکات پر اتفاق اور تعلقات کی بحالی کی بات ضرور کی لیکن جنگ بندی کے حوالے سے کوئی فیصلہ سامنے نہ آسکا۔روسی صدر پیوٹن کی یورپ آمد میں ایک بڑی رکاوٹ ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا جاری کردہ گرفتاری وارنٹ ہے، جو یوکرینی بچوں کے مبینہ اغوا سے متعلق ہے۔ امریکا چونکہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے، اسلئے وہاں ان کی شرکت ممکن ہے، تاہم یورپی ممالک کے لیے یہ معاملہ پیچیدہ ہے۔
یورپی یونین کے رکن ملک ہنگری کے وزیر اعظم وِکٹر اوربان کو ٹرمپ اور پیوٹن دونوں کے قریب سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث ممکنہ اجلاس کے لیے ہنگری کو ایک موزوں مقام قرار دیا جا رہا ہے۔
چانسلر مرز نے کہا کہ اجلاس کے مقام کا انتخاب ایسا ہونا چاہیے جہاں مستقل بنیادوں پر مذاکرات ہو سکیں، تاہم انہوں نے کسی ملک یا شہر کا نام نہیں لیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ “یہ تفصیلی معاملات ہیں، ان کا تعین آنے والے دنوں یا ہفتوں میں ہوگا۔”
دریں اثنا، روسی صدر پیوٹن نے اپنی حالیہ ملاقات کو “انتہائی مفید” قرار دیا اور کہا کہ اس دوران زیادہ تر یوکرین کے تنازع پر بات ہوئی لیکن “دونوں ممالک کے باہمی تعاون کے تمام شعبوں” پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

