جسٹس طارق جہانگیری کا جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

اسلام آباد(نامہ نگار)— اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اپنے عدالتی فرائض انجام دینے سے روکنے کے حکم کیخلاف دائر درخواست کی جلد سماعت کیلئےسپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی درخواست پر حکم دیا تھا کہ جعلی ڈگری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک جسٹس طارق جہانگیری بطور جج کام نہیں کر سکیں گے۔

بعد ازاں، 19 ستمبر کو جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا اور استدعا کی تھی کہ ڈویژن بینچ کا حکم کالعدم قرار دے کر معطل کیا جائے۔ اب انہوں نے ایڈووکیٹ سید رفاقت حسین شاہ کے ذریعے ایک نئی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاملہ نہایت اہم آئینی اور عدالتی نوعیت کا ہے، لہٰذا اسے فوری طور پر سماعت کیلئےمقرر کیا جائے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کسی ہائی کورٹ کے جج کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا، اور یہ کہ ایسا فیصلہ عدلیہ کی آزادی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ مزید کہا گیا کہ درخواست گزار کو سنے بغیر ہی ان کے خلاف حکم جاری کیا گیا، جس سے بنیادی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

جسٹس طارق جہانگیری نے اپنی درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ میاں داؤد کی درخواست بدنیتی پر مبنی تھی، لیکن عدالت نے اس پہلو پر غور کیے بغیر فیصلہ جاری کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لازمی ہے کہ سب سے پہلے درخواست کی قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ججوں کو بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ان کا کیس اس ہفتے سماعت کیلئےمقرر کیا جائے تاکہ وہ اپنے فرائض دوبارہ انجام دے سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں