جسٹس قاضی فائز عیسیٰ: آئین کی بالادستی، سیاسی مصلحت سے بالاتر

پاکستان کے منقسم قانونی اور سیاسی ماحول میں عدالتی فیصلوں کو شاذ ہی خالص آئینی اور قانونی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے۔ انہیں اکثر سیاسی مفاد و نقصان کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگر فیصلہ کسی فریق کے حق میں ہو تو اسے انصاف کی فتح قرار دیا جاتا ہے، اور اگر نہ ہو تو اسے جانبداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ماضی میں بعض فیصلے شخصیات اور فوری سیاسی نتائج کو پیشِ نظر رکھ کر دیے گئے اور انہیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ تاہم جب انہی فیصلوں کو بعد ازاں آئینی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھنے اور قانون کے مطابق ان کی تصحیح کی کوشش کی گئی تو اس عمل کو احتساب کے بجائے تعصب قرار دیا گیا۔ یہی مسلسل تنقید، جس کی آئینی بنیاد کمزور تھی، جس تسلسل کے ساتھ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلوں کے تناظر میں سامنے آئی، وہ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلوں کا سنجیدہ مطالعہ ایک مستقل اور منضبط عدالتی فلسفہ سامنے لاتا ہے: عدالت کا منصب نتائج تراشنا نہیں بلکہ آئینی ڈھانچے کی حفاظت کرنا ہے۔ عدالت فرد نہیں، اصول کی محافظ ہوتی ہے؛ اور اصول ہمیشہ طریقۂ کار، حدودِ اختیار اور آئینی توازن کے ذریعے نافذ ہوتا ہے۔ آرٹیکل 62(1)(f) کے تحت تاحیات نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اسی اصول پسندی کا عملی اظہار تھا۔

آرٹیکل 62(1)(f) پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے اخلاقی اوصاف متعین کرتا ہے اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ “صادق اور امین” ہوں۔ طویل عرصے تک یہ شق ایک اخلاقی معیار کے طور پر موجود رہی، نہ کہ ایک تعزیری ضابطے کے طور پر۔ 2018 میں اس کی ایسی تشریح سامنے آئی جس کے مطابق اگر کسی شخص کو عدالتی طور پر “صادق اور امین” نہ ہونے کا قرار دے دیا جائے تو اس کی نااہلی تاحیات ہوگی۔ یوں ایک عمومی اور غیر متعین اخلاقی معیار، جس میں نہ مجاز اتھارٹی کی صراحت تھی، نہ طریقۂ کار کی وضاحت، نہ معیارِ ثبوت کی تعیین، کو آئینی قانون کی سخت ترین سزاؤں میں بدل دیا گیا: جمہوری عمل میں مستقل محرومی۔

جسٹس عیسیٰ کی سربراہی میں دیا گیا فیصلہ کسی سیاسی تنازع کو دوبارہ زندہ کرنے یا کسی فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں تھا۔ اس نے ایک بنیادی آئینی سوال اٹھایا: کیا کوئی ناقابلِ واپسی شہری سزا واضح آئینی اختیار اور مقررہ طریقۂ کار کے بغیر نافذ کی جا سکتی ہے؟ عدالت نے واضح کیا کہ ایسا ممکن نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 62(1)(f) ازخود نافذ العمل شق نہیں ہے۔ اس میں نہ کسی مجاز فورم کا تعین ہے، نہ کوئی ضابطۂ سماعت مقرر ہے، نہ نااہلی کی مدت بیان کی گئی ہے۔ یہ محض فنی خامیاں نہیں بلکہ آئینی تقاضے ہیں، سیاسی حقوق، خصوصاً انتخاب لڑنے کا حق، کو محدود کرنا ایک سنگین آئینی اقدام ہے، جس کے لیے آئین کے آرٹیکل 10A کے تحت منصفانہ سماعت اور ضابطۂ قانون کی مکمل پاسداری لازم ہے۔ تاحیات سزا قیاس، تعبیر یا اخلاقی مفہوم سے اخذ نہیں کی جا سکتی۔ جہاں آئین دائمی نتائج کا ارادہ رکھتا ہے، وہاں وہ صریح الفاظ استعمال کرتا ہے۔ آرٹیکل 62(1)(f) میں ایسی صراحت کا نہ ہونا بذاتِ خود معنی خیز ہے۔ عدالتی تشریح آئینی خاموشی کو دائمی سزا میں تبدیل نہیں کر سکتی۔

اس فیصلے کی ایک اہم جہت عدالتی اخلاقی مطلقیت کا رد بھی ہے۔ ماضی کی بعض نظائر میں اخلاقی اصطلاحات کو ایسے قطعی فیصلوں میں بدل دیا گیا جو شہری حیثیت پر ناقابلِ واپسی اثر ڈالتے تھے، بغیر اس کے کہ تناسب، مدت یا اصلاح کے امکان کو ملحوظ رکھا جائے۔ جسٹس عیسیٰ کے فیصلے نے اس توازن کو بحال کیا۔ عدالتیں اخلاقی عدالتیں نہیں؛ وہ آئینی عدالتیں ہیں۔ اور آئینی عدالتیں وہی سزائیں نافذ کر سکتی ہیں جن کی واضح بنیاد آئین یا قانون میں موجود ہو۔

یہ دعویٰ کہ فیصلہ کسی خاص سیاسی فریق کو فائدہ پہنچانے کے لیے دیا گیا، قانونی تجزیے کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔ عدالت نے نہ کسی کو صادق و امین قرار دیا، نہ کسی کو فوری طور پر بحال کیا، نہ کسی مخصوص فرد کے حق میں حکم صادر کیا۔ اس نے صرف یہ قرار دیا کہ غیر معینہ مدت کی نااہلی، جب تک اس کی واضح قانونی بنیاد نہ ہو، آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اگر اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوئے تو وہ ایک غیر متعین قانونی نظریے کی اصلاح کا منطقی نتیجہ تھے۔

یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کے ایک دیرینہ رجحان سے بھی متصادم تھا۔ وہ رجحان جس کے تحت ضرورت، اخلاقیات یا عوامی جذبات کے نام پر آئینی خلا کو عدالتی تشریح سے پر کیا جاتا رہا۔ جسٹس عیسیٰ نے واضح کیا کہ عدالتیں قانون سازی کی خاموشی کو اپنی تعبیر سے بھرنے کی مجاز نہیں۔ سزاؤں کی تخلیق اور ان کی مدت کا تعین پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کا نہیں۔

اسی تناظر میں عدالت نے معاملہ مقننہ کے سپرد کیا، جہاں آئینی طور پر اس کا مقام ہے۔ اگر تاحیات نااہلی مقصود ہے تو اسے واضح اور غیر مبہم قانون کے ذریعے مقرر کیا جائے، ایسا طریقۂ کار وضع کیا جائے جو ضابطۂ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اور اس کی مدت و حدود صراحت کے ساتھ بیان کی جائیں۔ یہ عدالتی فعالیت نہیں بلکہ آئینی ضبط کی اعلیٰ مثال ہے۔

تعصب کے الزامات کا جائزہ نتائج کی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولی تسلسل کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ کسی جج کی جانبداری اس کی غیر مستقل مزاجی یا منتخب استدلال سے ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ اس کے فیصلے کے سیاسی اثرات سے۔ آرٹیکل 62(1)(f) کے مقدمے میں اختیار کیا گیا استدلال جسٹس عیسیٰ کے مجموعی عدالتی رویّے سے ہم آہنگ ہے۔ مستفیدین بدل سکتے ہیں، مگر آئینی اصول نہیں بدلتے۔

بالآخر اس فیصلے کی اہمیت اس میں نہیں کہ کس کو سیاسی فائدہ ہوا، بلکہ اس میں ہے کہ کیا بحال ہوا: ضابطۂ قانون کی بالادستی، تناسب کا اصول، اور ادارہ جاتی حدود کا احترام۔ یہی عناصر آئینی جمہوریت کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں جہاں استثنا کو معمول بنا دیا گیا ہو، آئینی نظم و ضبط یقیناً بے چینی پیدا کرتا ہے، مگر یہی اصولی استقامت دراصل جمہوری نظام کی بقا، ادارہ جاتی وقار کی حفاظت، اور قانون کی بالادستی کی حقیقی ضمانت ہوتی ہے۔