جسٹس کارنیلیئس سے جسٹس آفریدی تک

نئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب یحییٰ آفریدی کو منصب سنبھالنے کی مبارک دیتے ہوئے میں سوچ رہا ہوں اللہ کرے وہ ایسے چیف جسٹس آف پاکستان ثابت ہوں مستقبل میں ہمیں اپنی مبارک پر افسوس نہ ہو،مبارک ہم نے قاضی عیسیٰ فائز اور اْن سے پہلے ثاقب نثار کو بھی چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالنے پر دی تھی،اْن کے ابتدائی فیصلوں سے ہی ہمیں پتہ چل گیا تھا ہماری مبارک ضائع چلی گئی ہے،ماضی میں تقریبا ًہر چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کے حوالے سے بھی ہمارے ساتھ معاملہ اس شعر جیسا ہی ہوتا رہا
ہم نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں“ موتیا ” اْتر آیا
خصوصاً عیسیٰ فائز جن کے نام کے ساتھ ”جسٹس“ لکھنا کچھ عجیب سا لگتا ہے اپنے منصب کے ساتھ انصاف کرنا تو دْور کی بات ہے اس کی ہلکی سی کوشش کرتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دئیے،بلکہ یہ تاثر بہت حد تک درست ہے عدلیہ پر لگے داغوں میں اْنہوں نے مزید اضافہ کیا،چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے وہ مختلف مقامات پر اپنے واعظ ٹائپ جو تقریریں فرماتے تھے اْن سے ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے وہ اپنے عہدے کی گریس بحال کریں گے،وہ کچھ ایسے فیصلے کریں گے جس سے آئین اور قانون کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی مضبوط ہو،اْنہوں نے ہر شے مزید کمزور کر کے رکھ دی،ایک سیاسی جماعت کو اپنے انتقام اور انا کی بھینٹ چڑھانے میں وہ اس حد تک چلے گئے اْن کی صرف اسی ایک بداعمالی سے تاریخ میں اْن کا نام بھی ویسے ہی دفن ہو جائے گا جیسے اْن سے پہلے بیشمار اْن جیسی خصلتوں کے مالک چیف جسٹس صاحبان کا ہوگیا ہوا ہے،پاکستانی عدلیہ کا یہ المیہ اللہ جانے کب ختم ہوگا کہ عدلیہ کی گریس کے حوالے فوری طور پر صرف ایک ہی نام جسٹس اے آر کارنیلیس کا ذہن میں آتا ہے،21 دسمبر 1991ء میں اْن کا انتقال ہوگیا تھا،وہ جب تک حیات رہے شاید اْن ہی کی برکت سے عدلیہ کی ساکھ اتنی نہیں گری تھی جتنی اْس کے بعد گرنا شروع ہوگئی،اب یہ ساکھ اتنی گر گئی ہے اسے دوبارہ اْٹھانا شاید کسی چیف جسٹس کے بس کی بات نہیں رہے گی،پچھلے دنوں جب ”فْل کورٹ ریفرنس“ ہو رہے تھے بعض ججوں کی گفتگو سْن کر اْن کا طرز عمل دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا تھا”یہ فل کورٹ ریفرنس ہو رہا ہے یا قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں کچھ حکومتی ارکان اور کچھ اپوزیشن کے بیٹھے ہیں“،ایک دو مواقع پر بات اس سے بھی آگے نکل گئی،”مچھلی منڈی“ جیسا ماحول بنا دیا گیا،مچھلیاں بھی زیادہ تر”فارمی“ تھیں، توقع ہے کم از کم اس ماحول سے اب شاید نجات مل جائے گی،قاضی فائر عیسیٰ آج فارغ ہوگئے حالانکہ ”فارغ“ وہ پہلے ہی تھے،جنہوں نے اْنہیں کام پر لگایا تھا اْنہوں نے جتنے کام اْن سے لینے تھے لے لئے،اْنہیں چاہئے اب جناب احسن بھون یا اعظم نذیر تارڑ کے چیمبرز میں بیٹھ کر مہمانوں کی خاطر تواضع کے کچھ انتظامات کی نگرانی فرمایا کریں،فی الحال حکمرانوں نے اْنہیں اْن کی مہربانیوں کا وہ صلہ نہیں دیا جو اْن کا حق بنتا تھا،26 ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے سے پہلے عمومی تاثر یہی تھا ایک الگ سے آئینی کورٹ بنائی جائے گی جس کا چیف جسٹس عیسیٰ فائز کو مقرر کیا جائے گا،حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا ایک”غیر آئینی کورٹ“ بنائی جاتی اور اْس کا چیف جسٹس اْنہیں مقرر کیا جاتا،یہ تقرری یقینا میرٹ پر ہوتی،بہرحال جہاں موجودہ سیاسی حکمرانوں اور اْن کے مالکان کا طاقت اور دولت کے بل بوتے پر چھبیسویں ترمیم پاس کروانے کا اقدام قابل مذمت ہے وہاں یہ اقدام لائق تحسین بھی ہے کہ عیسیٰ فائز سے اپنی اور عوام کی جان اْنہوں نے چْھڑوا لی،ممکن ہے مستقبل قریب یا دور میں اْنہیں کسی اور صورت میں نواز یا شہباز دیا جائے مگر جو اْن کی اصل آرزو تھی وہ پوری نہیں ہوسکی،گزشتہ روز اْن کی رخصتی پر”فْل کورٹ ریفرنس“ ہوا حالانکہ مستحق وہ”گارڈ آف آنر“ کے تھے،اْن کی رخصتی کے ثمرات اْن کی رخصتی سے پہلے ہی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،کچھ لوگ اْن کی رخصتی کو پی ٹی آئی کی اگلی متوقع سربراہ بشری بی بی کی رہائی سے جوڑ رہے ہیں،اس کے بعد عمران خان کو تو پتہ نہیں کوئی ریلیف ملتا ہے یا نہیں اْن کی پارٹی کومزید ریلیف ملنے کی اچھی خاصی توقع ہے،چھبیسویں آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کئے گئے اور اْس کے بعد جس انداز میں سنیارٹی میں تیسرے نمبر کے جناب یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان نامزدگی ہوئی توقع یہ کی جارہی ہے وہ محسن کشی نہیں کریں گے،دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے وہ عدلیہ کی مکمل طور پر گری ہوئی ساکھ کو اْٹھانے کی ایسی کوششیں شروع کر دیں کہ اْنہیں لانے والوں کو اپنے اس کئے کرائے پر افسوس ہونے لگے،البتہ ایک بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں محترم نئے چیف جسٹس آف پاکستان ذاتی عناد،انتقام پسندی،خود پسندی اور اس نوعیت کی دیگر لعنتوں میں اْس حد تک جانے سے گریز کریں گے جس حد تک عیسیٰ فائز چلے جاتے تھے،اب وہ چلے گئے ہیں،کچھ عرصے بعد ہم اْن کا نام و نشان ڈھونڈتے پھریں گے آخر وہ چلے کہاں گئے ہیں؟ وہ جہاں بھی جائیں اْمید ہے کسی بیکری پر جانے کا رسک نہیں لیں گے،البتہ اپنی کوئی بیکری کھول لیں یہ الگ بات ہے،نئے چیف جسٹس آف پاکستان جناب یحییٰ آفریدی کے بارے میں معروف صحافی عمر چیمہ کی اگلے روز جنگ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا اْس کے مطابق وہ بہت کْھلے ذہن کے مالک ہیں،اللہ کرے وہ اْتنے کْھلے ذہن کے مالک نہ ہوں جتنے کْھلے ذہن کے مالک جسٹس قیوم ہوا کرتے تھے،اْن کی دوسری خوبی یہ بتائی گئی ہے وہ بہت اچھے سامع ہیں،اگر یہ خوبی واقعی اْن میں ہے اْمید ہے گرے ہوئے معیار عدل کو اس سے سنبھالا ملے گا،اْن کی تیسری خوبی یہ بتائی جا رہی ہے وہ نیوز چینل اور وی لاگ وغیرہ نہیں دیکھتے،اتنے اہم اور مصروف عہدے پر فائز شخصیت کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا جو ایسی ”فضولیات“ پر وقت ضائع کرے،ویسے بھی اس کے شوقین جج صاحبان صحیح انصاف فراہم نہیں کر سکتے،وہ اپنی حتمی رائے قائم کرنے میں تذبذب کا شکار ہی رہتے ہیں،محترم چیف جسٹس آف پاکستان کی اصل خوبیوں کا پتہ اْن کے فیصلوں سے ہی چلے گا،کہا جاتا ہے”جج نہیں بولتے اْن کے فیصلے بولتے ہیں“،پاکستانی عدلیہ کے بے شمار کردار خود زیادہ اْن کے فیصلے کم بولتے رہے ہیں بلکہ بولتے ہی نہیں رہے،ہماری تمنا بس اتنی سی ہے ہمارا کوئی مسلمان چیف جسٹس آف پاکستان بھی ایسا ہو جیسے عیسائی چیف جسٹس اے آر کارنیلیئس تھے،اْن جیسی کوئی دوسری مثال کوئی دوسرا قائم کر سکے گا یا سارے تاریخ کے سیاہ باب بنتے رہیں گے؟ جہاں اور بے شمار فیصلے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کو کرنے ہیں وہاں ایک یہ فیصلہ بھی اپنے تین سالہ دور میں وہ کر دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں