ہم آج بھی تفریق کا شکار ہیں:”جسٹن بے بیز”کا انکشاف

لاہور(شوبزڈیسک) عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار بہنیں ثانیہ اور مقدس، جنہیں عوام ’’جسٹن بے بیز‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، نے انکشاف کیا ہے کہ موسیقی کے میدان میں ایک دہائی سے زائد کا تجربہ رکھنے اور شہرت حاصل کرنے کے باوجود وہ آج بھی سماجی تعصب اور تفریق کا سامنا کر رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں معروف ٹی وی شو ’مذاق رات‘ میں شرکت کے دوران دونوں بہنوں نے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خاندانی سطح پر محدود وسائل کے باوجود اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس مقام تک پہنچی ہیں، لیکن موسیقی کی دنیا میں قدم جمانے کے باوجود معاشرہ انہیں آج بھی ان کے خاندانی پس منظر کے تناظر میں جانچتا ہے۔

مقدس کا کہنا تھا”ہم نے صرف تفریق محسوس نہیں کی بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھی اور کانوں سے سنی ہے۔ لوگ ہماری تعلیم، خاندان اور ماضی کے حوالے سے ہمیں پرکھتے ہیں، جیسے ہماری کامیابی ان سب باتوں سے کمتر ہو جاتی ہو۔”

ثانیہ، جو مقدس سے بڑی ہیں نے بتایا کہ ان کی شادی کو کئی سال گزر چکے ہیں اور ان کے دو بچے بھی ہیں۔ دونوں بہنوں نے اس موقع پر اپنی کامیابی کا سہرا خدا کی رحمت اور اپنے والدین کی دعاؤں کو دیا، اور بتایا کہ اب ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ان کے والدین اُن کی مزید شہرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔

دونوں بہنوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ موسیقی کے شعبے میں اپنی محنت جاری رکھیں گی اور اپنی شناخت کو محض وائرل ویڈیو سے آگے لے جا کر ایک معتبر مقام پر لے جانا چاہتی ہیں۔

ثانیہ اور مقدس کو پہلی بار عالمی توجہ 2015 میں ملی تھی جب ان کی ویڈیو، جس میں وہ جسٹن بیبر کا مشہور گانا “Baby” گا رہی تھیں، وائرل ہوئی۔ اس کے بعد انہیں کوک اسٹوڈیو سمیت دیگر بڑے پلیٹ فارمز پر کام کے مواقع ملے اور وہ ملک کی معروف خواتین گلوکاراؤں میں شمار کی جانے لگیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں