جمہوریت کی روح پر ریاستی پروٹوکول کا سایہ

گزشتہ روز صدرِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کی جانب سے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو “بیٹن آف فیلڈ مارشل” پیش کرنے کی تقریب نے پورے ملک میں ایک غیر معمولی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ کوئی عام فوجی اعزاز نہیں تھا — یہ ایک ایسا منظرنامہ تھا جس نے ریاستی طاقت کے اصل مرکز کو ایک بار پھر واضح کر دیا۔

اس موقع پر جس انداز میں منتخب جمہوری نمائندوں نے عاجزی اور چاپلوسی کا مظاہرہ کیا، وہ اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ یہ بیٹن نہیں بلکہ بیعت تھی۔ جس ریاست میں عوامی عہدوں پر فائز افراد اپنی خودمختاری کی بجائے ادارہ جاتی تابع داری کا مظاہرہ کریں، وہاں جمہوریت محض ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔

یہ تقریب محض ایک رسمی کاروائی نہیں تھی — یہ پاکستان میں سیاست کے زوال، جمہوری اداروں کی کمزوری اور عسکری بالادستی کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جمہوریت کے تابوت پر ریاستی تمغہ چڑھا دیا گیا۔

ہمیں بطور قوم یہ سوال کرنا ہو گا.کیا ہم ایک جمہوری معاشرہ ہیں؟

یا ہم ایک ایسے نظام کے تحت چل رہے ہیں جہاں عوام کی نمائندگی کے دعویدار اصل میں طاقتور اداروں کے غلام بن چکے ہیں؟

یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں، سوال اٹھائیں اور ان اقدار کا دفاع کریں جو جمہوریت کا جوہر ہیں . عوامی حاکمیت، ادارہ جاتی توازن اور منتخب قیادت کی خودمختاری۔

اپنا تبصرہ لکھیں