جناب گورنر!کراچی کے بچے واقعی لاوارث ہیں؟

اکیسویں صدی میں جہاں انسان کی زندگی آسان بنانے اور سہولتیں مہیا کرنے کے لئے نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں تاکہ انسان کو ”مشقت، تکلیف،مشکل،اذیت“ سے بچایا جا سکے۔ وہاں اسی صدی میں آج بھی پاکستان میں بچے تک غیر محفوظ ہیں،دراصل ہمارے حکمران صرف ”دعوؤں کی حد تک“حکمران ہیں،آج انہیں یہ یاد دلانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے مانگ کر لیا تھا(تاکہ اسلام کو تقویت ہو)۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ جن کے دور میں اسلامی مملکت اتنی وسیع ہو گئی کہ اس سے پہلے ماضی میں کسی بھی حکمران کی اتنی بڑی سلطنت نہیں تھی۔وہی حضرت عمر فاروق ؓ خوف سے کانپا کرتے تھے کہ اگر دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھوکا سویا اور مجھ سے اِس کا سوال پوچھا گیا تو کیا جواب دوں گا۔ حضرت عمر فاروق ؓکو ایک کتے کے بھوکے سونے کا خوف تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کا حساب مانگے گا، مگر ہمارے حکمرانوں کو یہ بھول چکا ہے کہ آج پاکستانی عوام جو بھوکے سوتے ہیں اِس کا حساب انہوں نے ہی دینا ہے، لیکن آج ذکر بھوکے سونے والوں کا نہیں ہے۔ آج ذکر گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے اس دعوے کا ہے جو انہوں نے فرمایا ہے کہ ”کراچی کے بچے لاوارث نہیں“ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ سات سالہ معصوم صارم کی گمشدگی سے پریشان اُس کے ماں باپ سے ملاقات میں کیا، لیکن گورنر کا یہ ”دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا“کیونکہ اس بچے کی لاش اسی بلڈنگ سے مل گئی جہاں گورنر سندھ نے سندھ بھر کے بچوں کا وارث ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ صارم کی نعش اسی اپارٹمنٹ بلڈنگ کے واٹر ٹینک سے ملی جہاں 11دن سے اُسے ڈھونڈا جا رہا تھا۔سات سالہ صارم جس کو پولیس نے ڈھونڈنے کی ”اپنے تئیں“بڑی کوشش کی اور جس جگہ سے وہ لاش ملی بقول پولیس ہم نے اس 20فٹ چوڑے اور 7فٹ گہرے واٹر ٹینک کی پہلے ہی دن تلاشی لے لی تھی لیکن تب کچھ نہیں ملا تھا۔ اس کے بعد بھی دیکھا تب بھی کچھ نہیں ملا اور جب بدبو پھیلی تو لاش پانی کے اوپر تیر رہی تھی۔ آخر لاش پانی کے اندر کیسے رہی۔

کیا اس کے ساتھ کوئی وزن باندھ کے واٹر ٹینک میں پھینکا گیا تھا تو پھر بعد میں وہ وزن کس نے ”الگ کیا“۔ گمشدگی کے 11دن کے بعد معصوم صارم کی ننھی سی گلی سڑی لاش سے بدبو پھوٹنا شروع ہوئی تو معصوم بچے کی موت کا راز کھلا۔ ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ 11دن اس بلڈنگ کے مکین ”وہ پانی استعمال“کرتے رہے جس میں اس معصوم بچے کی لاش پڑی تھی۔ کیا پولیس کا یہ کام نہیں تھا کہ جب ایک بچہ گم ہو گیا تو اس کی تلاش میں واٹر ٹینک کے اندر غوطہ غور اتارا جاتا اور اگر غوطہ خور میسر نہیں تھا تو آسان طریقہ تھا ٹینک خالی کر دیتے ٹینک خالی ہو جاتا تو وہاں پڑی ہر چیز نظر آجاتی،لیکن نہیں 11دن تک معصوم صارم کے ماں باپ کو تڑپایا گیا۔ ماں رو رو کے کہتی رہی کہ میرا بچہ مجھے واپس لا دو اور جب ماں باپ کی یہ التجاء گورنر صاحب کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے پولیس کو حکم دیا کہ بچے کو ڈھونڈو، تلاش کرو اور پھر وہ صارم کے گھر پہنچے اور انہوں نے صارم کے والدین کو یقین دہانی کرائی کہ ان سے مکمل تعاون کیا جائے گا، پولیس والوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ صارم کو ڈھونڈو۔ آپ کا بچہ لاوارث نہیں ہے۔ ہم اسے برآمد کرائیں گے۔ گورنر صاحب اگر آپ صارم کے وارث بنتے تو پہلے ہی دن جب وہ گم ہوا تھا تب نوٹس لیتے، لیکن ہم آپ سے حضرت عمر فاروق ؓ والی توقعات وابستہ کیوں کر رہے ہیں۔ہمارے آج کے حکمرانوں کا ”ان“سے کیا تعلق اور نسبت، مگر ہم بھی کیا کریں یہ بچے تو ہمارے ہی ہیں۔یہ تو ایک صارم تھا جس کو ڈھونڈا نہیں جا سکا اور اس کی گمشدگی سے ”لوگوں نے فائدہ اٹھانے“کی کوشش بھی کی۔ ایک شخص نے پانچ لاکھ روپے مانگ لئے۔ ملتان سے ایک شخص نے بچے کے بارے معلومات فراہم کرنے کے لئے 20ہزار روپے بھی مانگے۔ اس اپارٹمنٹ بلڈنگ میں جہاں صارم کی لاش ملی اس میں 212فلیٹ ہیں۔ صارم بلڈنگ کے اندر موجود مسجد مدرسے میں قران پاک پڑھنے گیا تھا بڑا بھائی بھی ساتھ تھا اب وہ بڑا بھائی ساری عمر اسی تکلیف اذیت میں مبتلا رہے گا کہ چھوٹے بھائی کی انگلی پکڑ کے اپنے ساتھ کیوں گھر نہیں لایا۔ اگر صارم نے اسے یہ کہا تھا کہ وہ دوسرے راستے سے گھوم کے آئے گا تو اسے بھی اس کے ساتھ چلا جانا چاہیے تھا اسے اکیلے کیوں جانے دیا۔ یقینا یہ دُکھ بڑے بھائی کو ساری عمر پریشان رکھے گا تڑپائے گا۔پولیس کہتی ہے کہ وقوعے کے وقت بلڈنگ میں بجلی نہیں تھی گئی ہوئی تھی لہٰذا انہیں سی سی ٹی وی ویڈیو نہیں ملی۔

مدرسے کے قاری نے کہا کہ چھٹی کے بعد بچے چلے گئے تھے۔ چھٹی کے بعد کیا ہوا اسے نہیں پتہ۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ صارم کے والدین کے حصے میں ان کے معصوم بچے کی لاش آئی۔صارم کے ماں باپ کو اس کی لاش ملی، لیکن 13 جنوری کو غائب ہونیوالے دو بچوں پانچ سالہ عالیان اور چھ سال کے علی کے گھر والے آج بھی اپنے بچوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔یہ بچے اپنے گھروں سے کھیلنے نکلے تھے اور پھر گارڈن ویسٹ کے یہ بچے ”غائب ہو گئے“۔ پولیس اب تک 19مشتبہ افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ تین لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پولیس کے پاس اغواء کار جوڑے کی فوٹیج بھی ہے، جس میں نظر آرہا ہے کہ ایک جوڑا دونوں بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے کے جا رہا ہے لیکن پتہ نہیں ہمارے ”کیمرے کیسے“ ہیں جو فوٹیج تو دے دیتے ہیں لیکن نہ کبھی کسی موٹر سائیکل کا نمبر ملا ہے نہ کبھی اس شخص کا چہرہ ملتا ہے کہ جس کو نادرا کے ریکارڈ سے ملا کر اس کی اصل تک پہنچا جا سکے۔سات سال کے صارم کی لاش تو اُس کے بدقسمت والدین کے حوالے ہو چکی ہے۔ اب علی اور عالیان کو کون بچائے گا۔ کاش یہ بچے زندہ مل سکیں۔ کاش جناب گورنر کامران ٹیسوری ان بچوں کے ”وارث“ بن سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں