اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹیڈیز (ISSI) کے زیرِ اہتمام کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری (ایشیا پیسیفک) عمران احمد صدیقی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کا سیکیورٹی منظرنامہ تاریخی تنازعات، عدم اعتماد، عسکری عدم توازن اور غیر روایتی خطرات کے باعث پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی تعاون کے بنیادی فورم سارک کی معطلی پالیسیوں کی سیاسی مداخلت کا شاخسانہ ہے، جبکہ خطہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی رکھنے کے باوجود انسانی ترقی اور اقتصادی انضمام میں سب سے پیچھے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا دنیا کے ایک گھنے ترین جوہری ماحول کی نمائندگی کرتا ہے، اور جموں و کشمیر کا تنازع مستقل تناؤ کا باعث ہے۔ امن کی بحالی کے لیے اس بنیادی تنازع کا پُرامن حل ناگزیر ہے۔
عمران احمد صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی علاقائی پالیسی کا محور ہمیشہ مشترکہ سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور عدم بالادستی رہا ہے۔ پاکستان خطے میں کسی ملک کو ’’نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر‘‘ بنانے کے تصور کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ اس سے عسکری بالادستی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے اور خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن کیلئے باضابطہ سیکیورٹی ڈھانچہ ضروری ہے جس میں مساوی سلامتی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، ادارہ جاتی مکالمہ، بحران کے انتظام کے مؤثر نظام اور ماحولیاتی و صحت کے شعبوں میں تعاون شامل ہو۔
ایڈیشنل سیکریٹری نے مزید کہا کہ 1999ء کا لاہور اعلامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی اور نظریاتی شفافیت کیلئےاہم پیش رفت تھا مگر بھارت نے اسلحہ کنٹرول اقدامات سے گریز کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹمز نہ تعینات کرنے پر متفق ہو کر اسٹریٹجک استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں دیرپا امن کیلئے مکالمے کو محاذ آرائی پر فوقیت دینا ہو گی، انتہا پسندانہ سوچ کو مسترد کرنا ہو گا اور علاقائی غلبے کے بجائے مشترکہ خوشحالی کا راستہ اپنانا ہوگا، کیونکہ امن، ترقی اور استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

