جنوبی کوریا میں جوش و خروش کے ساتھ صدارتی انتخابات کا انعقاد

سیئول (نامہ نگار+ایجنسیاں) ملک بھر صدارتی انتخاب کیلئے ووٹنگ آج منگل کی صبح 6 بجے سے ملک بھر میں 14295 پولنگ اسٹیشنوں پر جاری ہے.18سال کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی خاتون امیدوار نے صدارتی دنگل میں حصہ نہیں لیا۔صدارتی الیکشن کمپین میں غیر ملکیون کیلئےبھی کوئی پالیسی بھی انتخابی نعرے کا حصہ نا بن سکی۔
عوام کا جمے غفیر ووٹ ڈالنے کیلئےپولنگ اسٹیشن پر موجودہے۔11:30بجے تک ٹرن آوٹ 18:6 فیصد تک ریکارڈ کیاگیا ہے۔لیبر ڈیموکرٹیو پارٹی اور پیپلیز پاور پارٹی کے امیدوار کے درمیان کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا.

ابتدائی ووٹنگ 29 مئی کو شروع ہوئی، جس میں 44.28 ملین اہل ووٹروں میں سے 3.54 ملین (تقریباً 8%) نے ووٹ ڈالے۔ یہ 2020 کے جنرل انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

گیلپ کوریا کے سروے کے مطابق، لی جے میونگ کو 49% حمایت حاصل ہے، جب کہ ان کے قریبی حریف کم مون سو کو 35% حمایت حاصل ہے.صدر یون سوک یول نے دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد قومی اسمبلی نے ان کا مواخذہ کیا۔ اپریل 2025 میں آئینی عدالت نے ان کی برطرفی کی توثیق کی جس کے بعد آئین کے مطابق 60 دن کے اندر نئے انتخابات کا انعقاد ضروری تھا ۔

ووٹنگ کا عمل شام 8 بجے ختم ہوگااور نتائج کا اعلان آدھی رات تک متوقع ہے۔نئے صدر کو فوری طور پر حلف اٹھانا ہوگا اور پانچ سالہ مدت کیلئے عہدہ سنبھالنا ہوگا۔

معاشی سست روی، امریکہ کے ساتھ تجارتی تناؤ، اور شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے.یہ انتخابات جنوبی کوریا کی جمہوریت کیلئے ایک اہم موڑ تھے، عوام نے سیاسی بحران کے بعد نئے قیادت کا انتخاب کرنا ہے۔ نتائج کے بعد، ملک کی داخلی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات میں نمایاں تبدیلیاں متوقع  ہی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں