ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ دو ہمسایوں کے درمیان اعلانیہ جنگ اور کارروائیوں نے ایک بار پھر دونوں ملکوں کے عوام کو افسردہ اور پریشان کر دیا ہے، گزشتہ رات ہونیوالی کارروائیوں میں جس میں سو سے زائد طالبان رجیم دہشت گرد ہلاک ہوئے، افغان ملٹری کے ڈیڑھ سو سے زائد ٹینک تباہ ہوئے،،،، اور 73افغان پوسٹیں مکمل تباہ کردی گئیں،،، جبکہ 12کے قریب ہمارے جوان بھی شہید ہوئے،،، اور ایک لاپتہ ہے۔ جبکہ افغان میڈیا ہمارے نقصان کو بھی اتنا ہی بتا رہا ہے جتنا ہم اُس کا نقصان بتا رہے ہیں،،، اگر دیکھا جائے تو دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ تشویشناک صورتحال نہیں ہو سکتی،سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ یقینا کوئی تیسرا فریق انڈیا یا اسرائیل اس سے فائدہ اُٹھا رہا،،،یقینا یہ بھارت ہی ہے جس کا اپنا تو بس نہیں چلا، مگر وہ ہمارے اوپر ہمارے دیگر ہمسایوں کو مسلط کر رہا ہے، وہاں ڈویلپمنٹ کے نام پر اربوں ڈالر کے فنڈز دے رہا ہے،،، جس کی وجہ سے طالبان جن کا اور کوئی سورس آف انکم نہیں ہے،،، وہ اُن کی طرف کھنچے چلے جا رہے ہیں،،، جبکہ پاکستان کے ساتھ وہ بھارتی ایماءپر کسی مذاکراتی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہیں،،، اگر یہ قطر ، سعودی عرب کے کہنے پر مذاکراتی میز پر آ بھی جاتے ہیں تو مجال ہے یہ کسی معاہدے کی طرف بڑھیں،،، بلکہ اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رکھتے ہیں،،، کیوں کہ ان کے حلیف بھارت و اسرائیل کبھی نہیں چاہتے کہ طالبان اور پاکستان حکومت کے درمیان صلح ہو۔ لیکن ان سب کے بیچ میں جو پریشان ہیں وہ دونوں ممالک کے عوام ہیں،،، اور دونوں کلمہ پڑھنے والے ہیں،،، اور دونوں ایک دوسرے کی وجہ سے لاشیں اُٹھا رہے ہیں۔
لہٰذااس وقت موجودہ صورتحال میں پاکستان افغان حکومت پر الزام لگاتا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کی ایماءپر کیا جا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان ہماری حدود میں داخل ہوکر کارروائیاں کر رہا ہے۔ ۔۔ خیر پریشان کن صورتحال یہ ہے کہ ہمیں اس وقت تک علم بھی نہیں ہے، کہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟کب تک ہم ایک دوسرے کی ماﺅں کی گودیں اُجاڑتے رہیں گے، یا بچوں کو یتیم کرتے رہیں گے،،، یا خواتین کو بیواہ کرتے رہیں گے،،،اور پھر اہم بات یہ ہے کہ اس وقت دونوں اطراف حفاظ کرام سربراہ افواج ہیں،،، تو کیا ایسے میں ہمیں خود نہیں سوچنا چاہیے کہ آخر دونوں ممالک کر کیا رہے ہیں؟
کیا مسلمان مسلمان کا خون بہائے تو اسے اچھا سمجھا جانا چاہیے؟ اگر نہیں تو کیا ہمیں ڈائیلاگ نہیں کرنے چاہیے؟ ٹھیک ہے آپ نے اب سختی کر لی ہے، اب کسی طرح انہیں ٹیبل ٹاک پر لائیں،،، تاکہ مسائل کو حل کیا جا سکے،،، جنگ نہیں ہونی چاہیے،،، کیوں کہ ہماری معیشت اُن پر Dependکرتی ہے، اور اُن کی ہم پر،،، دونوں اطراف کے کسان تباہ ہوگئے ہیں،،، ہمارے کسانوں کو ہی دیکھ لیں،،، سٹپٹا گئے ہیں،،، اور کسان کی ایک فصل کی تباہی اُسے اگلے کئی سال تک سنبھلنے نہیں دیتی ۔ہماری ہزاروں کلومیٹر لمبی سرحد اُن کے ساتھ ملتی ہے، ،،،ہمارا مشرقی بارڈر بھی بند ہے، ہمارا مغربی بارڈر بھی بند ہے، ہمیں عقل کے ناخن لینے چاہیے،،، کم از کم اُن کو ضرور دیکھنا چاہیے جن کے پیارے اس جنگ کی وجہ سے دنیا سے چلے جاتے ہیں،،، آپ اُس سے بھی کبھی پوچھیں جن کا اس دنیا سے کوئی چلا جاتا ہے،،، اُن بچوں سے پوچھو ،،، یا اُن بیواﺅں سے پوچھو،،، یا اُن والدین سے پوچھو کہ شہادت کے بعد اُن کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ ویسے تو ہمارے لئے شہادت سے بڑھ کر کوئی چیز بہتر نہیں ہے،،، لیکن آپ شہید کے خاندان کی کفالت کا بھی کوئی نظام بنائیں،،، اُن کا خاندان کس طرح کی زندگی گزار رہا ہے، یہ بھی دیکھیں،،
بہرحال میں پھر کہوں گا کہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اس وقت ہماری چار بین الاقوامی سرحدوں میں سے دو یعنی بھارت کے ساتھ مشرقی اور افغانستان کے ساتھ مغربی سرحدوں پر حالات نارمل نہیں ہیں۔ ایران جس کے ساتھ پاکستان کی 900کلو میٹر سے زیادہ طویل سرحد ہے، پر امریکہ حملہ کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اور ہمسایہ ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان اس ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ ان حالات میں اپنی ترجیحات کو درست انداز میں ترتیب دے کر زیادہ فوکس دہشت گردی کے جلد خاتمے پر ہونا چاہیے۔ اس کیلئے خود حکومتِ پاکستان کو پہل کرتے ہوئے افغانستان میں امن‘ مصالحت‘ استحکام اور ترقی کے حامی عناصر سے رابطہ پیدا کر کے ان کو اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہیے بلکہ حکومت کو اس سلسلے میں ایک اہم سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس بات سے سب واقف ہیں کہ ملک کے ہر حصے میں ایسے امن پسند عناصر موجود ہیں جو اس ضمن میں موثر کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ تمام فریقین ان پر اعتماد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ دوسرا، دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے ہمارے سامنے ایک علاقائی اپروچ اپنانے کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہیں، کیونکہ پاکستان واحد ملک نہیں جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ افغانستان کے دیگر ہمسایہ ممالک مثلاً ایران‘ تاجکستان‘ ترکمانستان اور ازبکستان کو نہ صرف افغانستان میں دہشت گرد گروہوں اور تنظیموں کی موجودگی پر تشویش ہے بلکہ تاجکستان تو کچھ عرصہ قبل افغانستان سے دہشت گرد حملوں کا شکار بھی ہو چکا ہے۔ ان حملوں میں نہ صرف تاجک بارڈر گارڈ بلکہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکرز بھی ہلاک ہوئے تھے۔ تاجکستان نے اس پر کابل کی انتظامیہ سے احتجاج بھی کیا اور ان حملوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کیا مگر ان ممالک کی اپروچ قدرے مختلف ہے۔ وہ کابل کو انگیج کر کے اسے دہشت گرد تنظیموں پر قابو پانے کے قابل بنانے پر یقین رکھتے ہیں۔ نہ صرف ایران اور وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں اور تجارت بند کر کے یا افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں پر حملہ کرنے سے اجتناب کرتی ہیں بلکہ افغانستان کو بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کی سہولت بھی مہیا کر رہی ہیں۔ یاد رہے کہ روس نے افغان طالبان کی حکومت کو باقاعدہ تسلیم کر رکھا ہے بلکہ چین‘ بھارت اور متعدد دیگر ممالک کے سفارتخانے کابل میں موجود ہیں اور ان کے ذریعے یہ ممالک افغانستان کے ساتھ معمول کے تجارتی‘ کاروباری اور معاشی روابط جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ خطے میں امن کے قیام میں گہری دلچسپی لینے بلکہ پاک افغان تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کروانے میں ایک فعال کردار ادا کرنے والے ممالک ترکیہ اور قطر بھی پاکستان کے خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کے ذریعے مسئلے کے حل کے حامی ہیں۔اس لیے افغانستان کو سوچنا چاہیے کہ بھارت اُس کا دیرپا ساتھی نہیں رہ سکتا،،، اگر کوئی دیرپا ساتھی اُس کے ساتھ رہ سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اس لیے ہمیں لڑائی سے گریز کرنا چاہیے ،،،
اور پھر اس حوالے سے تو قرآن پا ک کی تعلیمات بھی واضح ہیں کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو ناحق قتل کرنا سنگین ترین گناہوں میں سے ایک ہے، اور اس پر خوشی منانا تو ایمان اور اخلاق دونوں کے خلاف ہے۔قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:”جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔“ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اور جو شخص کسی مو¿من کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اور اللہ اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کیلئےبڑا عذاب تیار کریگا۔“پھر احادیث نبوی دیکھ لیں، صحیح بخاری میں ہے کہ آپ نے فرمایا”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر (کے قریب) ہے۔“ایک اور حدیث میں ہے:”ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔“اسی طرح حضور نے یہ بھی فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آئیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم کے مستحق ہو سکتے ہیں (اگر نیت ظلم و فساد کی ہو)۔ یہ اس بات کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔پھر رسول اللہ نے فرمایا:”جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل آجائیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہوں گے۔“صحابہؓ نے عرض کیا:یا رسول اللہ ! قاتل تو ٹھیک ہے، مقتول کیوں؟آپ نے فرمایا:”وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنے کی نیت رکھتا تھا۔(بخاری و مسلم)۔
لہٰذایہ انتہائی غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے ہیں،،، جن سے ہمیں جس قدر ہو سکے بچنا چاہیے،،، اور ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر یہ جنگ بڑھ جائے تو کیا ہمیں کبھی تاریخ معاف کرے گی؟ روز ہم اپنے شہدا ءکو دیکھتے ہیں، روز ہم اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں،، تو کب تک ایسا رہے گا؟ اور یہ آج سے نہیں بلکہ اُس وقت سے برداشت کر رہے ہیں جب سے امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا،،،یعنی آج سے ڈھائی دہائیاں پہلے سے آج تک ہم ہر روز کہیں نہ کہیں شورش اور خرابی حالات ہی دیکھتے آئے ہیں،، اب مسلمانوں کی لاشیں اُٹھاتے اُٹھاتے ہمارے بازو شیل ہو چکے ہیں،، بلکہ اب تو نفرت کی آگ دونوں اطراف اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس کا مظاہرہ ہمیں کرکٹ میچز کے دوران دونوں ممالک کے تماشائیوں کو دیکھ کر ہوتا ہے،،، ایسے لگتا ہے کہ ٹیمیں اور تماشائی ایک دوسرے سے سخت نفرت کر تے ہیں،،، اور پھر اس کا مظاہرہ آپ سوشل میڈیا پر بھی دیکھ سکتے ہیں،،، لہٰذااس مسئلے کو جتنی جلدی ممکن ہو، حل کیا جائے،،، جو اس مسئلے کو حل کرے گا، وہی ہیرو ہوگا، طاقت کا استعمال کرنے والا کبھی ہیرو نہیں بنتا، بلکہ وہ ولن بن جاتا ہے،،، اس لیے خدارا اس مسئلے کی نزاکت کو سمجھیں اور ہوش کے ناخن لیں ورنہ دونوں ممالک کے عوام اور ان کی آنے والی نسلیں آپ میں گتھم گتھا ہی ہوتی رہیں گی۔ اس حوالے سے آپ مولانا فضل الرحمن کی خدمات لے سکتے ہیں،، یا دیگر علمائے کرام کی یقینا افغان طالبان کے دل میں ان کی قدر ہو گی۔ اگر وہ ان کے ساتھ بات کریں اور پاکستان کی ریاست انہیں یہ مینڈیٹ دے تو توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کے مثبت نتائج نکلیں

