جوا ایپ کیس: یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت منظور

لاہور(نمائندہ خصوصی)لاہور کی ضلعی و سیشن عدالت نے جوئے کی ایپلیکیشنز کی پروموشن کے مقدمے میں ٹک ٹاکرز اور یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم مبارک کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔

ایڈیشنل سیشن جج منصور علی قریشی نے عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، جو دونوں ملزمان کی جانب سے بیرسٹر میاں علی اشفاق کے توسط سے دائر کی گئی تھیں۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جوئے کی ایپس کو فروغ دیا۔

دونوں ٹک ٹاکرز پیر کو عدالت میں پیش ہوئے، جہاں ان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان تحقیقات میں شامل ہونا چاہتے ہیں تاکہ اپنی بے گناہی ثابت کر سکیں۔ عدالت نے دونوں کو قبل از گرفتاری عبوری ضمانت دیتے ہوئے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ 6 جنوری تک ان کی گرفتاری نہ کی جائے اور ملزمان آئندہ سماعت تک تحقیقات میں مکمل تعاون کریں۔

یہ پیش رفت اس کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کے اہل خانہ کی درخواست پر انہیں 10 روزہ حفاظتی ضمانت دی تھی، جس کے بعد دونوں نے لاہور سیشن کورٹ سے رجوع کیا۔

“کیسز کا پس منظر”
سرکاری ریکارڈ کے مطابق رجب بٹ اور ندیم مبارک کو مختلف ایف آئی آرز میں نامزد کیا گیا ہے، جو سائبر کرائم قوانین کے تحت درج ہیں۔ ان مقدمات میں جوئے کی ایپس کے فروغ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے غلط استعمال اور آن لائن ہراسانی کے الزامات شامل ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تاہم ملزمان کی بیرون ملک موجودگی کے باعث تحقیقات میں پیش رفت محدود رہی۔

رواں برس ستمبر میں رجب بٹ کو مبینہ طور پر جوئے کی ایپس کی تشہیر پر مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا، جبکہ ندیم مبارک کے خلاف بھی اسی نوعیت کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ستمبر میں ندیم مبارک کو جعلی رجسٹریشن نمبر پلیٹ استعمال کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، جس پر بعد ازاں مزید قانونی کارروائی عمل میں آئی۔

رجب بٹ اس سے قبل بھی مختلف قانونی معاملات کا سامنا کر چکے ہیں، جن میں مذہبی تنازع، سائبر کرائم مقدمات اور غیر قانونی طور پر جنگلی جانور رکھنے کا کیس شامل ہے، جس میں بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی تھی۔