جنوبی افریقہ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی چیلنجز پر زور
جوہانسبرگ (رائٹرز، اے پی، فرانس 24)جنوبی افریقہ میں جی 20 رہنماؤں کے اجلاس نے ہفتے کے روز ایک اعلامیہ منظور کیا ہے، جس میں ماحولیاتی بحران اور دیگر عالمی چیلنجز پر بات کی گئی، تاہم یہ اعلامیہ امریکی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا۔
صدر سیرل رامافوسا کے ترجمان نے بتایا کہ اعلامیے میں وہ زبان استعمال کی گئی ہے، جسے واشنگٹن طویل عرصے سے مخالفت کرتا رہا ہے اور اسے دوبارہ مذاکرات کیلئےنہیں کھولا جا سکتا۔ اجلاس کی میزبانی کرنے والے صدر رامافوسا نے کہا کہ اعلامیے کیلئے بھاری اکثریت میں اتفاقِ رائے موجود تھا۔
ذرائع کے مطابق جی 20 کے ایلچیوں نے جمعے کے روز یہ مسودہ امریکی شرکت کے بغیر تیار کیا، جس میں موسمیاتی تبدیلی کی سنگینی، قابلِ تجدید توانائی کے حصول کے اہداف اور غریب ممالک پر قرضوں کے بوجھ کا ذکر کیا گیا۔موسمیاتی تبدیلی سے متعلق زبان کا شامل کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے ’سفارتی دھچکے‘ کے طور پر دیکھا گیا، جبکہ امریکی اہلکار پہلے ہی اس طرح کے حوالوں کی مخالفت کر چکے تھے۔
رامافوسا نے اجلاس کے دوران کہا کہ جی 20 اب بھی بین الاقوامی تعاون کیلئے کلیدی فورم ہے، جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور یورپی یونین کی کمشنر ارسلا وان ڈیر لین نے عالمی بحرانوں اور توانائی کی منتقلی سے متعلق خطرات پر خبردار کیا۔
اجلاس میں امریکا کی غیر موجودگی کے باوجود یہ اعلامیہ 20 ممالک کی منظوری کے ساتھ منظور کیا گیا اور امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ 2026 کے اجلاس میں فلوریڈا میں صدارت سنبھالنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

