مخصوص دائمی اور متعدی بیماریوں کے شکار افراد حج میں شرکت سے مستثنیٰ:وزارتِ صحت کااعلامیہ
ریاض(نامہ نگار)سعودی حکومت نے آئندہ سال حج کی ادائیگی کے لیے بعض خاص طبی حالتوں میں مبتلا عازمین پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کی ویب سائٹ پر جاری نوٹس میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ گردوں، دل، پھیپھڑوں، جگر اور اعصابی امراض میں مبتلا افراد کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔
“پابندی کا اطلاق کن افراد پر ہوگا؟”
نوٹس کے مطابق حج میں شرکت سے روکنے والی طبی حالتیں درج ذیل ہیں.
گردوں کی ایسی خرابی جس میں ڈائیلاسس ضروری ہو۔
دل کے ایسے امراض جن میں مریض معمولی مشقت بھی برداشت نہ کر سکے۔
دائمی پھیپھڑوں کے امراض جن میں وقفے وقفے سے یا مسلسل آکسیجن درکار ہو۔
جگر کی ناکامی یا سیروسس۔
اعصابی اور دماغی امراض جیسے یادداشت کی کمزوری، ڈیمینشیا، الزائمر۔
شدید جسمانی معذوری والے افراد اور حمل کے آخری مراحل میں پیچیدہ حاملہ خواتین۔
متعدی بیماریاں، جیسے کالی کھانسی، اوپن پلمونری ٹی بی، وائرل ہیمرجک فیور۔
کینسر کے آخری مراحل کے مریض یا وہ افراد جو کیموتھراپی، بائیولوجیکل یا ریڈیولوجیکل علاج سے گزر رہے ہوں۔
“پاکستانی حکام کی ہدایات”
پاکستان کی وزارتِ مذہبی امور نے ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف مکمل جانچ پڑتال کے بعد طبی سرٹیفکیٹ جاری کریں تاکہ کسی قانونی مسئلے سے بچا جا سکے۔اگر کوئی فرد صحت کے حوالے سے جھوٹا بیان دیتا ہے تو اسے سعودی عرب سے اپنے خرچے پر واپس بھیج دیا جائیگا۔حج کے دوران ویکسینیشن یا طبی معائنے کے دوران مذکورہ بیماریوں میں مبتلا کسی فرد کو حج میں شامل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
“مانیٹرنگ اور نگرانی”
سعودی ٹیمیں حج کے داخلی و خارجی مقامات پر عازمین کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی جانچ کریں گی تاکہ صرف وہی افراد حج میں شریک ہوں جو مقررہ صحت کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
“تجزیاتی نوٹ”
یہ پابندیاں حج کے دوران صحت اور حفاظت کے معیار کو یقینی بنانے کیلئےضروری ہیں، خاص طور پر بڑے اجتماعات میں متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات کو کم کرنے کیلئے۔ اس اقدام سے نہ صرف عازمین کی حفاظت ہوگی بلکہ حج کے دوران طبی ہنگامی حالات سے نمٹنے میں بھی آسانی ہوگی۔

