حضرت علامہ ابوالحسناتؒ کی یاد میں

اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں کئی سورتوں میں خطاب فرماتا ہے کہ سورج اور چاند اپنے اپنے مدار میں گھوم رہے ہیں۔ دنیا میں سورج اور چاند کے حوالے سے سال کی تقسیم بھی کی گئی ہے۔ چاند اور سورج کے حوالے سے ماہانہ تاریخوں میں قریبا دس روز سالانہ کا فرق ہے اس لئے چاند کی رو سے ہجری سال کی ماہوار گنتی 29اور 30کے مہینے کے حوالے سے ہوتی ہے۔ ہجری سال 1447کے ماہ مبارک شعبان کی آج دو تاریخ ہے۔ یہ مہینہ تقوی اور صبر کے مہینے رمضان سے پہلے کامہینہ ہے اور روزہ دار اس کا بھی انتظار کرتے اور استقبال کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ مہینہ بھی بابرکت ثابت ہو اور رمضان المبارک بھی رحمتیں اور برکتیں لے کر آئے۔ میرے لئے شعبان المبارک اور یہ 2تاریخ اس لئے اہمیت کی حامل ہے کہ اس تاریخ کو میرے بزرگ رہنما مجاہد کشمیر حضرت علامہ ابوالحسنات محمد احمد قادری، بانی صدر جمعیت علماء پاکستان دنیا سے عالم بالا کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ میری ان سے آخری ملاقات ان کے وصال سے پہلے جمعہ کی سہ پہر کو ان کی رہائش گاہ باغیچی صمدو اندرون اکبری دروازہ میں ہوئی۔ میری بھی تب اسی محلے میں رہائش تھی کہ پیدائش بھی یہیں کی ہے۔ حضرت علامہ ابوالحسناتؒ کافی علیل تھے اور خطبہ جمعہ کیلئے مسجد بھی نہیں گئے تھے جب میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس ان کے طبیب اور چند معتقد دوست بھی تھے۔ میں نے حضرت سے ایک دو مسائل کے بارے میں استفسار کیا جن کے حوالے سے تازہ تازہ ایک ناول بھی پڑھا تھا، مصنف نے ایک متنازعہ سا سوال کرکے بات ادھوری چھوڑ دی تھی، میرے ذہن میں کھٹک اور وسوسے کی کیفیت پیدا ہوئی تو میں معمول کے مطابق ان کی خدمت میں حاضر ہو گیا کہ انہوں نے کبھی مایوس نہیں کیا تھا وہ تو ہر روز نماز فجر کے بعد جامع مسجد وزیرخان میں مقتدی حضرات کے سوالات کے جواب دیا کرتے اور تسلی بخش ہوتے تھے، وہاں موجود طبیب کے منع کرنے کے باوجود حضرتؒ نے میرے سوال کا جواب بڑی تفصیل سے دیا اور میری تسلی ہو گئی۔

اس دوران علامہ ابوالحسناتؒ نے اس سوال سے بڑھ کرایک اور تفصیل بھی بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ احادیث ایک بڑا اہم شعبہ ہے او راس کے لئے کئی علوم کی اہلیت لازم ہے۔ پہلی شرط کہ خود اپنی مادی اور علمی زبان کا عالم ہو، اسے عربی پر مکمل عبور حاصل ہو، اسی طرح تاریخ اور جغرافیہ کا عالم ہونا بھی لازم ہے کہ جو احادیث جمع کی گئیں وہ براہ راست نہیں بالواسطہ ہیں، لہٰذا لازم ہے کہ حدیث بیان کرنے والے کا مقام اور جس ذریعے سے اس تک پہنچی اس کی جانچ کیلئےجغرافیہ اور تاریخ ہی مدد دیتی ہے اور صاحب علم پرکھ کر بتاتے ہیں کہ حدیث کیا اور اس کا مفہوم کیا ہے، انہوں نے فرمایا، بخاری شریف میں بھی یہ واضح کر دیا گیا ہے۔

حضرتؒ نے قیامت کے حوالے سے بیان کی گئی احادیث کے بارے میں بتایا کہ مصدقہ احادیث سو فیصد درست ہیں اور عالم اسلام کی طرف نظر دوڑا کر دیکھ لو، ایسا ہی نظر آئے گا، اس سوال کے جواب میں کہ حضور اکرمؐ کا فرمایا تو ہو کر رہے گا پھر قیامت سے خوف کیسا؟ انہوں نے فرمایا، بیٹا! غلط مت سوچو، اس کا ایک پہلو انتباہ بھی ہے، حضور اکرمؐ نے فرمایا تھا کہ مسلمان اگر راہ حق سے بھٹکیں گے تو پھر انجام یہی ہوگا،بہتر عمل یہ ہے کہ ہم آگاہی جان کر ان اعمال سے گریز کریں جو سبب بنیں گے۔مجھے آج پھر یاد آ رہا ہے کہ نائن الیون کے بعدہمارے اسی اخبار میں احادیث کی روشنی میں ایک پورا صفحہ شائع کیا گیاتھا، اس میں احادیث کے حوالے سے بتایا گیا تھا ایک دور آئے گا جب ریت سیال سونا اگلے گی۔ ریت میں آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں بنیں گی، مسلمان مال و دولت کے حوالے سے امیر ہوں گے، ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ ایمان کمزور ہوں گے جس کی وجہ سے کفر والحاد کی قوتیں غالب آنا شروع ہو جائیں گی، بیت المقدس پر اغیار کا قبضہ ہوگا، پھر لڑائیاں یا جنگ بھی ہوگی کہ اس دور میں کئی چھوٹے دجال بھی نمودار ہوں گے اس کشمکش میں مسلمانوں کو تین بار شکست ہوگی اور آخری کے بعد دجال کی آمد اور پھر حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا جن کی قیادت میں دجال کا قلع قمع ہوگا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری ہو گی۔

اب ذرا غور کریں تو حالات ایسے بنتے نظر آتے ہیں اور مجھے اپنے بزرگوں کی تلقین بھی یاد آتی ہے وہ ہمیشہ فرماتے ہر ایک کو اپنے اعمال کا جواب دہ ہونا ہے اس لئے سیدھی راہ اختیار کرو، توبہ کرو، گناہوں سے بچوکہ عاقبت سدھرے، علامہ ابوالحسناتؒ کا کردار اور ا نکی تعلیمات آج بھی میرے سامنے ہیں۔ جب مجاہدین نے جہاد کشمیر میں حصہ لیا تو وہ بھی بذات خود عملی طور پر شریک ہوئے، جمعیت علماء پاکستان کی بنیاد انہوں نے رکھی وہ بانی صدر تھے اور دم آخر صدارت ان کے پاس رہی ان کی رحلت کے بعد ہی جمعیت علماء پاکستان بکھری اور آج بھی کئی ٹکڑوں میں موجود ہیں۔ 1953ء میں تحریک ختم نبوت میں وہ عملا شریک تھے اور جب تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز ہوا تو حضرتؒ کو متفقہ طور پر اس کا سربراہ بنایا گیا۔ اس حوالے سے وہ دوسرے اکابر کے ساتھ گرفتار بھی ہوئے اور دوسرے علماء اکرام جن میں مولانا مودودی بھی شامل تھے۔ سنٹرل جیل لاہور میں مقید رہے، یہ بزرگ جیل میں ایک بڑے گھنے درخت کے نیچے محفل جماتے۔ عبادت کرتے تھے اور یہ درخت اس مقام پر تھا جہاں اب شادمان چوک ہے، یہ جیل سکڑ کر کیمپ جیل رہ گئی اور اس کی زیادہ تر شادمان کالونی بن گئی تھی۔

علامہ ابوالحسنات اردو، عربی اور فارسی پر قدرت رکھتے تھے۔ انہوں نے حضرت علی ہجویریؒ کی کتاب کشف المعجوب کا اردو ترجمہ کیا اس کے ساتھ قرآن پاک کی تفسیر شروع کی جس کے پندہ سیپارے مکمل ہونے پر وہ اللہ کے حضور حاضر ہو گئے۔ باقی حصہ ان کے اکلوتے صاحبزادے امین الحسنات سید خلیل احمد قادری نے مکمل کیا۔ خلیل صاحب حضرتؒ کے اکلوتے صاحبزادے تھے اور ان کی اولاد بھی نہیں ہے، ان کی ہمشیرہ ہیں جن کے صاحبزادے نیابت کررہے ہیں اور آج انہی کی قیادت میں عرس ابوالحسنات کی تقریب شروع ہوگی۔

مجھے 1961ء سے 1963ء کے اوائل تک ان کی قربت حاصل ہوئی کہ جمعیت علماء پاکستان کی تشہیر میرے ذمہ تھی، تب میاں شجاع الرحمن (میئر لاہور۔ مرحوم) کے والد گراں میاں غلام قادر جمعیت کے سرپرست کی حیثیت سے سرگرم عمل تھے۔ حضرت ابوالحسناتؒ کی نظر کرم سے حضرت صدر المشائخ پیر فضل عثمان کابلی مجددی جیسے حاضر ولی کی خدمت میں بھی حاضری ملی اور ان کے تقویٰ نے بہت متاثر کیا۔ بات اس پر ختم کرتے ہیں کہ حضرتؒ کی قیادت میں پریس ریلیزیں بناتے چھپواتے مجھے امروز میں صحافت کا مرتبہ مل گیا اور 1963ء سے اب تک منسلک ہوں تاہم بزرگوں کی ہدایات، نصیحت اور تلقین آج بھی میرے ہمراہ ہے۔ کشف المعجوب کے ترجمہ اور حضرت علی ہجویریؒ کی حاضری نے یہ پھل دیا کہ حضرت علامہ ابوالحسناتؒ کی تدفین مزار علی ہجویریؒ کے قدموں کی طرف صحن میں ہوئی۔ اللہ ان کے درجات بلند کرے۔