حکمران بدستور تنے رسے پر چلنے پر مجبور؟

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک دوبار گزارش کی تھی کہ موجودہ حکومت تنے ہوئے رسے پر چل رہی ہے اور روز بروز یہ بات ثابت ہوتی چلی جا رہی ہے کہ یہ حکومت اب اور بھی باریک رسی پر آ گئی ہے۔ اندرون ملک اتحادی جماعتوں سے واسطہ ہے جو اقتدار کی حمائت تو کرتی ہیں لیکن اپنے اپنے مفادات کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالتی ہیں اور اپنے گندے چیتھڑے اپنے اپنے گھروں میں دھونے کی بجائے وفاق کے ایوانوں تک لے آتی ہیں اس کا مظاہرہ جمعہ کے روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پہلے اور اجلاس کے دوران بھی ہوا، سپیکر ایاز صادق کی خدمات حاصل کی گئیں، پیپلزپارٹی والوں کے تحٰظات سن کر بعض ترامیم پر رضامندی حاصل کی گئی اور پھر یہ عمل ایم کیو ایم کیلئےبھی دہرایا گیا اور وہ بھی مان ہی گئے کہ تحفظات بامقصد ہوتے ہیں او ریہ مقصد اپنی اہمیت جتانے کا ہوتا ہے۔

میں نے گزشتہ روز کے کالم میں گزارش کی تھی کہ سیاسی چخ چخ کی وجہ سے اس بڑے سانحہ آتشزدگی کے اصل ذمہ دار پھر بچ جائیں گے اس لئے سب کو،ان دو باتوں پر توجہ دینا چاہیے کہ حادثے کی وجوہات اور مالکان کے علاوہ متعلقہ محکموں کے ذمہ دار اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور تیسرے حادثات کی روک تھام اور کسی حادثے کی صورت میں ریسکیو کا عملہ، گاڑیاں اور جدید آلات کی قلت نہ ہو، لیکن یہ بات بھی نظر انداز کی جا رہی ہے او راپنے اپنے پھپھولے پھوڑے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وہ قانون سازی ہونا تھی جس پر اعتراض ہوئے اور وہ پہلے مرحلے میں منظور نہ ہو سکے تھے اور حکومت ان کو منظور کرانے کے لئے لائی تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ معترض جماعتیں قوانین پر غور کرکے ایوان میں اپنی رائے دیتیں لیکن سپیکر چیمبر میں فیصلہ ہونے کے بعد یہ عمل نہ کیا گیا، بدقسمتی سے حالیہ ایوانوں اور اس سے پہلے والے میں بھی یہی روایت رہی کہ قوانین کسی بحث کے بغیر یکطرفہ طور پر ہی منظور ہوتے رہے جس کی وجہ سے کئی بار عدلیہ کی طرف سے ایسے قوانین پر نشتر بھی چلائے گئے۔

میں مشترکہ اجلاس کی کارروائی وہاں پریس گیلری میں تو نہ دیکھ سکا لیکن الیکٹرونک میڈیا کی بدولت ڈاکٹر فاروق ستار، شیری رحمان اور شازیہ مری کی باتیں ضرور سنیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار تو ایوان میں اپنی عادت کے مطابق گلے کی رگیں پھلا کر بول رہے تھے کہ انہوں نے گل پلازہ کے متاثرین کے لئے امداد کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی، ایسا کرتے وقت انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کو رگڑا لگانا اپنا فرض جانا اور پھر شیری رحمان سے مثبت جواب اور شازیہ مری سے تیزباتیں بھی میڈیا سے عوام تک پہنچ گئیں، حالات و واقعات یہ بتاتے ہیں کہ خود وزیراعلیٰ سندھ دفاعی انداز میں تسلیم کررہے تھے کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں چاہتی انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کے ساتھ ساتھ مرحومین کے وارثان کے لئے ایک،ایک کروڑ کی امداد کا اعلان بھی کر دیا اور ساتھ ہی تاجر حضرات کے نقصان کے ازالے اور ان کے روزگار کے لئے تعاون کا بھی یقین دلایا، اب بات اس سے آگے ہونا چاہیے کہ امدادی رقم کسی ا شتباء کے بغیر انصاف کے مطابق حق داروں کو جلد از جلد ملے اگرچہ مال و دولت جان کا بدلہ نہیں ہو سکتی تاہم پسماندگان کے لئے زندگی گزارنے کا سہارا تو بن جاتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت سندھ کی تاجروں کی مختلف تنظیموں سے بات ہو چکی اور ابھی تک باقیات نکالنے اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ یہ بہت ہی افسوسناک حقیقت ہے کہ شدت کی آگ میں پھنسے لوگوں کی لاشیں تو کیا ملنا تھیں ان کی باقیات بھی دستیاب نہیں ہیں کہ شدت اتنی تھی کہ نعشیں جل کر کوئلہ بن گئی ہوں گی، اب جن لواحقین کے ڈی این اے میچ کر گئے ان کو تو باقیات بکس میں بند مل جائیں گی اور وہ تدفین کرکے صبر کی منزل کی طرف گامزن ہوں گے مگر اتنی کوشش کے باوجود اگر باقیات بھی نہ مل سکیں تو ایسے متاثرین کی حالت کا اندازہ لگانا چاہیے لیکن یہاں تو دو بدو ہو رہی ہے۔

میں مشترکہ اجلاس کی کارروائی وہاں پریس گیلری میں تو نہ دیکھ سکا لیکن الیکٹرونک میڈیا کی بدولت ڈاکٹر فاروق ستار، شیری رحمان اور شازیہ مری کی باتیں ضرور سنیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار تو ایوان میں اپنی عادت کے مطابق گلے کی رگیں پھلا کر بول رہے تھے کہ انہوں نے گل پلازہ کے متاثرین کے لئے امداد کی قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی تھی، ایسا کرتے وقت انہوں نے سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کو رگڑا لگانا اپنا فرض جانا اور پھر شیری رحمان سے مثبت جواب اور شازیہ مری سے تیزباتیں بھی میڈیا سے عوام تک پہنچ گئیں، حالات و واقعات یہ بتاتے ہیں کہ خود وزیراعلیٰ سندھ دفاعی انداز میں تسلیم کررہے تھے کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں چاہتی انہوں نے متاثرین سے ہمدردی کے ساتھ ساتھ مرحومین کے وارثان کے لئے ایک،ایک کروڑ کی امداد کا اعلان بھی کر دیا اور ساتھ ہی تاجر حضرات کے نقصان کے ازالے اور ان کے روزگار کے لئے تعاون کا بھی یقین دلایا، اب بات اس سے آگے ہونا چاہیے کہ امدادی رقم کسی ا شتباء کے بغیر انصاف کے مطابق حق داروں کو جلد از جلد ملے اگرچہ مال و دولت جان کا بدلہ نہیں ہو سکتی تاہم پسماندگان کے لئے زندگی گزارنے کا سہارا تو بن جاتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت سندھ کی تاجروں کی مختلف تنظیموں سے بات ہو چکی اور ابھی تک باقیات نکالنے اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ یہ بہت ہی افسوسناک حقیقت ہے کہ شدت کی آگ میں پھنسے لوگوں کی لاشیں تو کیا ملنا تھیں ان کی باقیات بھی دستیاب نہیں ہیں کہ شدت اتنی تھی کہ نعشیں جل کر کوئلہ بن گئی ہوں گی، اب جن لواحقین کے ڈی این اے میچ کر گئے ان کو تو باقیات بکس میں بند مل جائیں گی اور وہ تدفین کرکے صبر کی منزل کی طرف گامزن ہوں گے مگر اتنی کوشش کے باوجود اگر باقیات بھی نہ مل سکیں تو ایسے متاثرین کی حالت کا اندازہ لگانا چاہیے لیکن یہاں تو دو بدو ہو رہی ہے۔

جہاں تک امدادی رقم کا تعلق ہے اگرچہ ایک کروڑ روپیہ فی کس اعلان ہے۔ یہ بھی آج کے دور میں کم تصور ہوگی اس لئے سنجیدگی سے بات کرکے امداد کے وہ پہلو بھی پیش نظر ہونا چاہئیں جو پسماندگان کے بہتر مستقبل کے لئے ہوں لیکن یہاں تو الزام تراشی یہاں تک آ گئی کہ پیپلزپارٹی نے ماضی یاد کرانا شروع کر دیا اور متحدہ والوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ گورنر سندھ نے تو اپنی روائت کے مطابق بہت بڑا اعلان کیا کہ وہ متاثرین کو ایک ایک پلاٹ دیں گے، ایسے اعلان وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں لیکن یہ علم نہیں کہ ان پر عمل بھی ہو چکا یا نہیں، اب بھی انہوں نے اعلان نہیں کیا کہ یہ پلاٹ وہ ذاتی اراضی سے دیں گے یا سرکاری زمین سے دیئے جائیں گے،غالباً ان کو اپنے سرمایہ ہی سے خدمت کرنا ہوگی کہ ان کے پاس سرکاری اراضی بانٹنے کا تو اختیار ہی نہیں آئینی طور پر وہ اسی طرح وزیراعلیٰ کی ایڈوائس یا سفارش پر عمل کے لئے مجبور ہیں، جیسے صدر زرداری کے لئے وزیراعظم محمد شہبازشریف کی ایڈوائس لازم ہے۔ گورنر موصوف کے اختیار کا تو یہ عالم ہے کہ وہ عدالتی تحقیقات (جوڈیشل انکوائری) کا مطالبہ وزیراعظم سے کررہے ہیں، حالانکہ یہ اختیار بھی وزیراعلیٰ کا ہے تاہم ان کی اس دھمکی کی مجھے تائید کرنا ہوگی کہ اگر ان (ایم کیو ایم) کی نہ مانی گئی اور سندھ حکومت سیدھی راہ پر نہ آئی تو وہ سب کے پردے چاک کر دیں گے، الحمدللہ کہ کوئی جانباز تو پردے چاک کرنے والا نکلا اور یقین ہے کہ ان کے بعد مخالف بھی پردے اٹھاتے چلے جائیں اور عوام کو کم از کم یہ علم ہو سکے گا کہ یہ سب حضرات درون خانہ کیا کرتے چلے آ رہے ہیں۔

متحدہ والوں اور پیپلزپارٹی والوں کی طرف سے جو کچھ کہا اور کیا جا رہا ہے، یہ نئی بات نہیں یہ سب ماضی میں بھی کیا جاتا تھا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی دودھ کا دھلا نہیں ہے اور ہماری اور ملک کی مبینہ ناکامی اور پریشانی کا سبب بھی یہی ہے۔ اب میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعصاب کتنے مضبوط ہیں کہ اس سب کے باجوود وہ سب کو ساتھ لے کر بھی چل رہے ہیں۔ معاشی حالات کی بہتری کا اعلان کر چکے اور اب عالمی سطح پر بھی بڑے ”جنجال“ میں شامل ہو گئے ہیں۔اگرچہ ہر دم قومی اتفاق رائے کی ضرورت تھی، ہے اور رہے گی لیکن موجودہ عالمی حالات اور ٹرمپ کی ٹرمپیاں بھی دیکھنا اور سنبھل کر چلنا ہوگا اس پر پھر بات کریں گے۔