حکومتی وفد اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں معاہدہ، مظاہرین گھروں کو واپس

مظفرآباد(نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کے بعد مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور تمام سڑکیں کھل گئی ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کا خیرمقدم کرتے ہوئے امن کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں حتمی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ مظاہرین پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں اور تمام سڑکیں کھل چکی ہیں۔ حکومتی ذرائع نے اسے “امن کی فتح” قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے معاہدے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کیلئےبڑی کامیابی ہے اور حالات کا معمول پر آنا خوش آئند ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے۔

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہے، عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کی خدمت جاری رہے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور پُرامن رہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے مطالبات پر بضد تھی اور گزشتہ ہفتے وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کیلئےمخصوص نشستوں پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔

بعد ازاں حریف گروپوں نے مظاہرے کیے جس سے پُرامن تحریک متاثر ہوئی۔ تاہم حکومت نے مذاکرات کے ذریعے مظاہرین کے متعدد مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اور آئینی ترامیم کے متقاضی مطالبات پر عملدرآمد کیلئے مزید وقت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں