اسلام آباد(نامہ نگار)اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکومت رابطہ کرے یا نہ کرے دھرنا جاری رہے گا اور مطالبات منظور نہ ہوئے تو رمضان المبارک میں بھی احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ میں دھرنا جاری ہے، جبکہ شرکاء پارلیمنٹ کے باہر احاطے میں آ گئے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے تین ڈاکٹروں کے ناموں پر مشتمل خط لکھا، تاہم اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو الشفا اسپتال منتقل کرنے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 100 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کو عملاً محصور کر کے رکھا گیا ہے اور پارلیمنٹ کی آزادی کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے لیے انہیں جس اسپتال میں جانا ہو جانے دیا جائے۔
محمود اچکزئی نے مزید کہا کہ اگر اراکینِ اسمبلی استعفے دیں تو کیا اتنی بڑی تعداد میں ضمنی انتخابات ممکن ہوں گے؟ ان کے بقول پی ٹی آئی اپنا مینڈیٹ واپس مانگ رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے رابطہ نہ کیا تو بھی دھرنا جاری رہے گا، اور اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو رمضان میں بھی روزے اور تراویح کے ساتھ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

