خود کردہ علاج ر ا نیست، بجلی کا نظام سوالیہ نشان؟

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گذشتہ روز بجلی کے شعبہ کی ترقی و اصلاح کی صدارت کی اور ہدایت کی کہ ملکی صنعتوں کے لئے بلاتعطل بجلی کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے اور عوام کو بھی سہولتیں بہم پہنچائی جائیں،انہوں نے اوور بلنگ کی شکایات کے حوالے سے سمارٹ میٹر لگانے کے کئے گئے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ میٹر جلد نصب کئے جائیں۔وزیراعظم نے اس حوالے سے عرصہ پہلے نوٹس لیا اور عوامی شکایات پر برہمی کا اظہار کیا تھا وہ مسلسل دورِ جدید کے حوالے سے ڈیجیٹل نظام کی طرف جانے کی کوشش اور ہدایت کر رہے ہیں کہ اس طرح انسانی واسطہ نہیں رہتا اور رشوت کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عوامی مسائل پر توجہ دینے اور ان کو رفع کرنے کے لئے ہدایات بھی جاری کرتے ہیں،اصل مسئلہ تو عملدرآمد کا ہے اور یہ نچلی پر ہوتا ہے۔ شاید ان کی ہدایت چلتے چلتے بہت ہی نرم رہ جاتی ہے کہ نیچے کی سطح پر سرکاری عملہ اپنی روش بدلنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔ان دِنوں ملک کے اندر بجٹ اور پلس، مائنس کا سلسلہ چل رہا ہے تو ایران، اسرائیل میں جنگ بندی کی خبریں۔پس منظر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات زیر بحث ہیں،کالم کا موضوع تو یہی حالات تھے لیکن آج جو واقع میرے اور اہل علاقہ کے ساتھ پیش آیا اس نے مجبور کر دیا ہے کہ آج بھی عوامی مسائل ہی میں سے بجلی کے اہم ترین محکمے کی طرف توجہ دی جائے۔ہوا یوں کہ معمول کے مطابق الارم نے جگایا اور وضو کر کے نمازِ فجر کی ادائیگی شروع کی،فرض پڑھتے ہوئے سلام پھیرا تو بجلی چلی گئی اور لائٹ یو پی ایس پر آ گئی کہ یہ خرچ بھی مجبوری ہی ہے،دُعا کے بعد وقت دیکھا توکہ سوا چار بجے تھے، سوچا کہ ٹرپنگ ہوئی یا پھر سے بے وقت لوڈشیڈنگ ہو گئی ہو گی چنانچہ معمولات کی ادائیگی کے بعد سو گیا، پنکھا چل رہا تھا کہ صاحبزادے نے حال ہی میں یو پی ایس کی مرمت کرائی اور بیٹری بھی نئی لگائی تھی، جب نیند کھلی تو آٹھ بج رہے تھے۔اس وقت بھی پنکھے کی ہوا یو پی ایس کی مرہون منت تھی، مطلب یہ کہ چار گھنٹے ہو چکے تھے لوڈشیڈنگ ہی ختم ہونے کو نہیں آ رہی تھی، دفتر بھی آنا تھا، جب غسل خانے کا رُخ کیا تو معلوم ہوا کہ ٹینکی کا پانی کم ہے، بجلی کے ساتھ ہی پانی بھی منہ موڑ چکا کہ ٹیوب ویل بند ہو جاتا ہے۔بہرحال معمول سے ہٹ کر ”اشنان“ کے طریقے پر نہا لئے کہ دفتر تو جا سکیں، نہا دھو کر بیٹھ گئے لیکن بجلی ندارد تھی، موبائل سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ بارش ہوئی اور ذرا زور دار چھینٹے پڑے، باہر آ کر دیکھا تو ہلکی بارش جاری تھی، گلی کی صورتحال سے اندازہ ہوا کہ بارش کا زور ٹوٹ چکا ہے اب اندازہ ہوا کہ لیسکو والوں نے بارش شروع ہوتے ہی فیڈرز بند کر دیئے تھے(خبر میں ٹرپ ہونا کہا جاتا ہے، حقیت مگر یہ ہے کہ گرڈ والے ایسا خود کرتے اور چن کر ایسے فیڈر بند کر دیتے ہیں جن کی وائرنگ متاثر ہو سکتی ہو) بہرحال انتظار تو کرنا تھا، موبائل سے کوشش شروع کی تو لیسکو والوں کے نمبر یا تو مصروف یا پھر بند ملے اور جو نمبر مل گیا اس سے جواب نہ دیا گیا۔

میرے گھر کے لئے جو فیڈر کرنٹ مہیا کرتا ہے اسے مصطفےٰ ٹاﺅنIIکہا جاتا ہے اور اس فیڈر سے منسلک ہماری گلی کے بارہ اور اگلی گلی کے چھ گھر منسلک کئے گئے جسے لوڈ مینجمنٹ قرار دیا گیا۔ باقی گلیاں مصطفےٰ ٹاﺅن کے فیڈرI سے منسلک ہیں اور اس فیڈر سے پاک کالونی والے علاقے کی چند فیکٹریوں کو بھی سپلائی دی جاتی ہے اب اگر وزیراعظم بھی صنعتی شعبہ کا خیال رکھتے ہیں تو لیسکو والے کیوں نہ رکھیں، چنانچہ اس فیڈر کو کم سے کم وقت کے لئے بند رکھا جاتا ہے اور اگر کوئی نقص ہو تو وہ بھی جلد دور کیا جاتا کہ وفاقی حکومت صنعتوں کو ترجیح دیتی ہے تو لیسکو کا عملہ بھی فرمانبردار ہے اور اس فرمانبرداری کے عوض فیکٹری والے ان کی خدمت بھی کرتے رہتے ہیں۔

تو قارئین! یہ بھگتان دوپہر بارہ بجے تک بھگتنا پڑا کہ بارش بالکل ہلکی ہو جانے کے بعد بھی ایک گھنٹہ مزید انتظار کے بعد فیڈر آن ہوا اور بجلی آئی تو ہم دفتر آ گئے۔ اس سلسلے میں گذارش یہ ہے کہ لیسکو ہی کے ایک لائن سپرنٹنڈنٹ نے بتایا تھا کہ ہم رسک نہیں لیتے اور بارش شروع ہوتے ہی ایسے فیڈر بند کر دیتے ہیں جن کی تاروں کے ہلنے جلنے اور آپس میں ٹکرانے سے سپارک ہو اور فیڈر ٹرپ کرے یا ٹرانسفارمر جل جائے اور یہ سب احتیاطی تدابیر ہیں، فون نہ سننے اور صارف کو وجہ اور وقت نہ بتانے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ لوگ گالیاں دیتے ہیں۔

الیکٹرونک میڈیا میں آج بھی یہ خبر تھی کہ تیز بارش کی وجہ سے متعدد فیڈر ٹرپ کر گئے حالانکہ بات بالکل مختلف تھی اور ایسا محکمہ نے خود کیا تھا۔ میں وزیراعظم کی توجہ اس طرف دلانے کی جسارت کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں ہر محکمہ صارف کو ترجیح دیتا اور اسے سچا مانتا ہے جبکہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کا ہر محکمہ اور شعبہ صارف کو پہلے ہی درجہ میں بددیانت قرار دیتا اور اس بناءپر شکایات رد کر دیتا ہے اور ایسا ہر شعبہ کرتا ہے۔ اب تو مون سون کی پہلی بارش ہوئی تو یہ حال ہے۔درجہ حرارت میں کمی سے لوگوں نے ذرا سُکھ کا سانس لیا کہ لیسکو نے ان کی کسر نکال دی اور اب یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا کہ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے جو مون سون ختم ہونے تک جاری رہے گا۔

اب اگر شکایت کرنے کی جسارت کر ہی لی ہے تو عرض کروں، ہم مستقبل بین ہیںاور بقول ٹرمپ پاکستانی بہت ذہین اور کاریگر ہیں، جی ہاں! یہ درست ہے ہماری یہ کاریگری ہر شعبہ زندگی میں نظر آتی ہے اب اگر بجلی کی تقسیم کا شعبہ ہی لیں تو ذرا سروے کرنے سے حیرت ہو گی اور منہ کھلے کا کھلا رہ جائے گا جب آپ بجلی کے کسی کھمبے پر نظر ڈالیں تو آپ کو وہاں بجلی میٹروں کا جمعہ بازار نظر آئے گا۔ ایک کے اوپر ایک میٹر چڑھا ہوا ہے اور کنکشن تاریں اسی کھمبے کی سپلائی والی لائن سے ساتھ ساتھ لگی ہوئی ہیں، صرف یہی نہیں گلی، محلے اور بازاروں میں نظر دوڑائیں تو بجلی کی سپلائی والی لائنیں لٹکتی نظر آئیں گی،دنیا کے کسی ملک میں ایسا نظام نہیں اور اب تو ہمارے شہر کی مراعات یافتہ طبقے والی بستیوں/ ہاﺅسنگ سکیموں میں انڈر گراﺅنڈ وائرنگ مہیا کی جا رہی ہے،تو میرے عوام دوست وزیراعظم اگر میری یہ جسارت آپ تک کسی کسی نہ کسی طرح پہنچ جائے تو اس طرف بھی توجہ فرما لیجئے۔ میں عرض کروں کہ یہ تو آپ کے علم میں بھی ہے کہ پہلے بجلی کے میٹر گھروں کے اندر یا دیوار کے ساتھ ہوتے تھے، بجلی چوری کی شکایات کی روشنی میں الزام صارف پر آیا تو گھر کے اندر سے میٹر کھمبوں پر آ گئے، چوری پھر بھی ختم نہ ہوئی کہ چوری کرانے والے تو خود ہی نظام کے وارث ہیں، گستاخی کے لئے معذرت تاہم یہ بڑا عوامی مسئلہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں