خوش فہمیاں غلط فہمیاں اور دعوے

آئی سی سی کرکٹ ٹورنامنٹس کے حوالے سے کچھ ریکارڈ لکھنا رہ گئے تھے اور چیمپینز ٹرافی جس میں شکست کے بعد یہ کالم لکھنے کا خیال آیا اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ دونوں کے بارے میں بھی نہیں لکھا جا سکا تھا۔ ورلڈ کپ کے کچھ ایسے ریکارڈ تھے جس میں ایک پاکستانی بالر کا نام نکل ہی آیا اور وہ کوئی اور نہیں شعیب اختر ہیں جنہوں نے کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین گیند پھینکنے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ اعزاز پاکستان بمقابلہ انگلینڈ میچ 2003 ورلڈ کپ میں حاصل کیا جب انہوں نے 161.3 کلومیٹر کی سپیڈ سے گیند پھینکی۔ جو 100 میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔ کچھ اور ریکارڈ جو سہوا رہ گئے تھے۔ اس میں گلین میگرا کی چار گیندوں پہ چار وکٹیں بھی شامل ہیں۔ ایک ورلڈ کپ کے ایک میچ میں پانچ وکٹیں آسٹریلین سٹارک نے تین مرتبہ لی ہیں جبکہ چھ کھلاڑیوں نے دو دو مرتبہ حاصل کی ہیں۔ سب سے زیادہ چھکے پر ہر پاکستانی کے ذہن میں فوری طور پہ شاہد افریدی کا نام آتا ہے۔ مگر حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے۔ سب سے زیادہ 49 چھکے کرس گیل نے مارے ہیں۔ جبکہ اے بی ڈی ویلیوز 37 چھکے ، رکی پونٹنگ 31 چھکے ، میکولم 29 چھکے ، ہر شل گبز اور روہت شرما 28 28 چھکے لگا کر نمایاں ہیں۔سب سے بہتر بیٹنگ اوسط لانس کلوزنرکی ہے۔ سب سے زیادہ سٹرائک ریٹ نیوزی لینڈ کے برینڈم میکولم کا ہے۔ سب سے زیادہ سنچریاں روہت شرما نے بنائی ہیں۔ سب سے زیادہ نصف سینچریاں ( 21 ) سچن ٹنڈولکر نے بنائی ہیں۔ تیز ترین ففٹی برینڈن میکلم نے 18 گیندوں پر بنائی اور پھر 20 اور 21 گیندوں پر ففٹی بنائی۔ تیز ترین سنچری جنوبی افریقہ کے مارکرم نے 49 گیندوں پر بنائی۔ ہاں ایک ریکارڈ میں پاکستان کے سٹار بیٹسمین جاوید میانداد کا نام ضرور آتا ہے لیکن دو کھلاڑی اس اعزاز کے مالک ہیں اور وہ ہیں سچن ٹنڈولکر اور جاوید میاں داد جنہوں نے چھ چھ ورلڈ کپ کھیلے ہیں یعنی طویل عرصے تک انہوں نے میچ کھیلے ہیں۔ یہ وہ کچھ ریکارڈ تھے جو گزشتہ کالم میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔
چیمپینز ٹرافی سے پہلے ٹی 20 کا ذکر ہو جائے۔ ٹی 20 آج کل کے نوجوانوں کا کرکٹ کا پسندیدہ ترین فارمیٹ ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی سست رفتار بیٹنگ کو تو پاکستانی ویسے ہی پسند نہیں کرتے تھے۔ ٹی 20 کے بعد ایک روزہ کرکٹ بھی دل سے اتر گئی۔ اب ٹی 20 کے علاوہ دل کو کچھ اور نہیں بھاتا۔ مگر حالت یہ ہے تقریبا 120 کھلاڑی پاکستان کی طرف سے ٹی 20 کھیل چکے ہیں۔ مگر صرف بابر اعظم ، شعیب ملک اور محمد حفیظ نے 2000 سے زیادہ سکور بنایا ہے۔ جبکہ 1000 سے زیادہ رنز 8 کھلاڑیوں نے بنائے ہیں۔ صرف 3 کھلاڑیوں نے سنچریاں بنائی ہیں جن میں بابر اعظم نے تین سنچریاں بنا رکھی ہیں۔ احمد شہزاد اور رضوان نے ایک ایک سنچری بنائی ہے۔ پاکستان ٹی 20 کے کامیاب ترین کپتان سرفراز احمد ہیں جنہوں نے 37 میچوں میں کپتانی کی ، 29 جیتے اور 8 ہارے۔ نوجوانوں کے پسندیدہ کہلانے والے شاہد آفریدی نے 43 میچوں میں کپتانی کی اور 23 میچ ہار گئے صرف 19 میچ جیت سکے۔ بابر اعظم نے 85 میچوں میں کپتانی کی 48 جیتے اور 29 ہارے۔ ٹرافی جیتنے والے کپتان یونس خان نے 8 میچوں میں سے 5 جیتے اور 3 ہارے ہیں۔ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ 2007 میں شروع ہوا اور اب تک نو مرتبہ کھیلا جا چکا ہے۔ 2007 میں پہلے ہی ٹورنامنٹ میں پاکستان فائنل تک تو پہنچ گیا مگر ائی سی سی ٹورنامنٹ میں بھارت کے ہاتھوں ہونے والی شکستوں نے وہاں بھی پاکستان کو بوکھلائے رکھا اور پاکستان بھارت سے فائنل میچ ہار گیا۔ 2009 میں وہ دن آیا جب پاکستان فائنل کے میدان میں اترا تو فتح نے اس کے قدم چومے۔ یونس خان کی قیادت میں ٹیم اچھا کھیلی اور میچ جیت کر پاکستانی ٹیم نے ایک اور ٹرافی اٹھائی۔ پہلا ٹورنامنٹ جو پاکستان نے جیتا وہ 1992 کا ورلڈ کپ تھا۔2010 میں ہونے والے تیسرے ٹورنامنٹ میں انگلینڈ ، 2012 میں ویسٹ انڈیز ، 2014 میں سری لنکا ، 2016 میں ویسٹ انڈیز ، 2021 میں آسٹریلیا ، 2022 میں انگلینڈ اور 2024 میں بھارت نے یہ ٹورنامنٹ جیتا۔ اس طرح بھارت انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز وہ خوش قسمت ممالک ہیں۔ جنہوں نے ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ دو دو مرتبہ جیتا ہے۔ پاکستان سری لنکا اور اسٹریلیا کو ایک ایک مرتبہ یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں اب تک سب سے زیادہ فتوحات بھارت کو ملی ہیںیل جس نے 52 میچ کھیل کر 35 جیتے ہیں ، 15 میں شکست ہوئی ہے ایک میچ ٹائی اور ایک بلا نتیجہ رہا۔ انگلینڈ نے بھی 52 میچ کھیلے 28 جیتے 22 ہارے اور 2 بلا نتیجہ رہے۔ پاکستان نے بھارت اور انگلینڈ سے صرف ایک میچ کم کھیلا اور انگلینڈ سے زیادہ میچ جیتے مگر ٹرافی اٹھانے کا موقع دو نہیں ایک مرتبہ حاصل ہوا۔ کسی بھی میچ میں سب سے بڑی فتح سری لنکا کو 172 رنز سے حاصل ہوئی۔ اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا سکور 459 رنز ہے جو 12 وکٹوں کے نقصان پر بنے۔ یہ میچ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا گیا۔ ایک ٹورنامنٹ میں تمام میچ اور فائنل جیتنے کا اعزاز بھارت کو حاصل کیے۔ سب سے زیادہ 1292 رنز بنانے کا اعزاز بھارت کے ویرات کوہلی کا ہے۔ جبکہ بہترین ایوریج ( 58.72 ) کا ریکارڈ بھی ویرات کوہلی کا ہی ہے۔ ایک ٹورنامنٹ میں تین سو سے زاید رنز 4 کھلاڑیوں نے بنائے ہیں۔ ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز ( 319 ) رنز کا ریکارڈ ویرات کوہلی کا ہی ہے۔ دوسرے نمبر پر دلشان تلک رتنے ( 317 ) اور تیسرے نمبر پر پاکستانی سکندر اعظم ( بابر اعظم) نے ( 303 ) رنز بنائے ہیں۔ ( ویرات کوہلی اور بابر اعظم کا مقابلہ کرنے والوں نے اب تک کافی کچھ پڑھ لیا ہوگا تیسرے نمبر والے کو ایک نمبر نہیں بنایا جا سکتا )۔ ایک میچ میں سب سے زیادہ 123 رنز کا ریکارڈ برینڈن میکولم کا ہے۔ بہترین سٹرائیک ریٹ انگلینڈ کے جوس ٹیلر کا 147.23 ہے۔ تیز ترین ففٹی بھارت کے یوراج سنگھ نے 12 گیندوں پر بنائی ہے۔ سب سے زیادہ 15 نصف سنچریاں ویرات کوہلی نے بنائی ہیں۔ دوسرے نمبر پر بھارت کے روہت شرما نے 12 نصف سنچریاں 2 سینچریاں کرس گیل نے بنائی ہیں ، گیل نے دونوں سنچریاں 47 اور 50 گیندوں پر بنائیں اور تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بھی گیل کی ملکیت ہے۔ 9 کھلاڑیوں نے ایک ایک سنچری بنائی ہے جس میں پاکستان کے احمد شہزاد بھی شامل ہیں۔ کرس گیل ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑی ہیں جنہوں نے 63 چھکے مارے ہیں۔ ایک میچ میں زیادہ چھکے ( 11 ) بھی کرس گیل نے مارے ہیں۔ سب سے زیادہ چوکے ( 115 ) بھارت کے روہت شرما نے مارے ہیں۔ میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ 170 رنز کی ہے جو انگلینڈ کے جوس ٹیلر اور ایلکس ہیلز نے بنائی۔ ایک ٹورنامنٹ کا سب سے زیادہ سکور 319 رنز ویرات کوہلی نے بنائے۔ سب سے زیادہ 50 وکٹیں لینے والے بولر بنگلہ دیش کے شکیب الحسن ہیں۔ بہترین باؤلنگ سری لنکا کے اجنتا مینڈیس کی ہے جنہوں نے 6 وکٹیں 8 رنز دے کر حاصل کی ہیں . میچ میں 5 ـ 5 وکٹیں 11 باؤلرز نے حاصل کی ہیں جن میں واحد پاکستانی عمر گل ہیں۔ ایک ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 17ـ17 وکٹیں لینے کا اعزاز دو کھلاڑیوں افغانستان کے فضل حق فاروقی اور بھارت کے ارش دیپ سنگھ کا ہے۔ بہترین وکٹ کیپر کا ریکارڈ بھارت کے مہندرا سنگھ دھونی کا ہے۔ جنہوں نے 32 کیچ پکڑے ہیں۔ بطور فیلڈر اے بی ڈیویلیئرز نے 23 کیچ لیے ہیں۔ کسی ایک میچ میں زیادہ رنز بنانے والی ٹیم سری لنکا ہے جس نے 260 رنز بنائے۔ جبکہ کم ازکم سکور 39 یوگنڈا نے بنایا ہے۔ کسی ایک میچ کا سب سے کم رنز بننے کا ریکارڈ سری لنکا بمقابلہ ہالینڈ میچ میں بنا جو 79 رنز ہے جو گیارہ وکٹیں گنوا کر بنایا گیا۔ ایک منفرد ریکارڈ شاہد آفریدی کا بھی ہے وہ کھیلے گئے 32 میچوں میں 5 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔یہی اعزاز سری لنکا کے دلشان تلک رتنے کی بھی ملکیت ہے۔ دلشان 34 میچوں میں 5 مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔
اگلا ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں ایک بار پھر بھارت میں ہونا ہے۔ مصباح الحق کی بھارت کے خلاف خودکشی شاٹ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی سٹیڈیم میں موجودگی پر ” کہانیاں سنانے والوں ” کو لگتا ہے ہمارے کھلاڑی پھر بھارت کو آئی سی سی ٹورنامنٹ میں ہرانے کا ” موقع ” فراہم کر دیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں